• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کورونا کی شدت: ’’مردان‘‘ مکلمل لاک ڈاؤن کرنے والا پہلا شہر

ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی کورونانا وائرس کی تیسری لہر نے انتہائی شدت اختیار کرلی ہے خیبرپختونخوا میں کورونا سے اموات کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے کورنا وائرس نے پہلی لہر کی طرح تیسری لہرمیں بھی مردان ضلع کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے این سی اوسی کے جاری اعداد وشمار کے مطابق ضلع مردان ملک کے ان پانچ اضلاع میں سرفہرست ہے جن میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا شرح سب سے زیادہ ہےمردان، دیر، پشاور سمیت کئی شہروں میں مثبت کیسز کی شرح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہےکورونا کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے مردان اور پشاور اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

مردان میں کورونا وباء میں شدت کے بعد ضلع بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیاگیا جس کا اطلاق 26 اپریل سے دو مئی تک ہوگا شہر میں تمام سرکاری دفاتر، اسکول، کالجز اور ہر قسم کے کاروبار بند ہونگے جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر بھی پاپندی عائد کردی گئی ہے۔ 

مساجد میں نماز اور تراویخ میں ایس پی اوپیزپر سختی سے عمل درآمد کیاجائے گا اتوار کے روز کمشنر مردان ڈویژن کے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیاگیا جس میں صوبائی وزیر محمد عاطف خان، اراکین اسمبلی ظاہر شاہ طورو، عبدالسلام آفریدی،امیر فرزند اور افتخار مشوانی کے علاوہ ہوم سیکرٹری اکرام اللہ خان، کمشنر منتظرخان، ڈی سی حبیب اللہ خان، ڈی پی اوڈاکٹر زاہد اللہ خان اوردیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم پی اے ظاہر شاہ طورو نے کہاکہ یہ فیصلہ مردان میں کورونا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر کیاگیا لاک ڈاؤن کا نفاذ 26اپریل سے دو مئی تک ہوگا ایک ہفتے کے لئے ضلع بھر کے تمام اسکول، کالجز، دفاتر، بازار، ٹرانسپورٹ اڈے اورکاروبار مکمل طورپر بندرہیں گے۔ 

جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اورآمدورفت پر بھی پاپندی عائد کردی گئی ہے ادویات،کھانے پینے کی اشیاء،پٹرول پمپ، تندور اور کریانہ اسٹور اس پاپندی سے مستثنیٰ ہونگے ظاہر شاہ طورو نے کہاکہ مساجد میں نماز اورتراویخ ایس پی اوپیز کے تحت کرائے جائیں گے علماء کرام،شہریوں اور تاجروں سے اپیل کی کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں تاکہ اس وباء پر قابو پایاجاسکے پورے میں ملک میں سب سے زیادہ شرح مردان میں نوٹ کی گئی ہے فروری 2020 میں جب کورونا وباء کی پہلی لہر نے ملک میں سراٹھایا تھا تو ماہ مارچ کے آخرمیں سب سے پہلی ہلاکت مردان کے علاقہ منگا میں ہوئی جہاں سعادت خان نامی شخص جو عمرہ ادائیگی کے بعد لوٹ آیا تھا۔ 

اس وباء سے جان بحق ہواتھا جس کے بعد پورے منگا گاؤں میں مکمل لاک ڈاؤن ہوا تھا۔ مردان میں کورونا وباء کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ظاہر شاہ طورو نے دیگر ایم پی ایز و ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ ضلع مردان میں کوروناوائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال میں بھی 78بستروں پر مشتمل کوروناوارڈ کا افتتاح کردیا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 13 ہزار 121 ہو چکی ہے،اس وبا سے 24 اپریل تک صوبے میں کل اموات 3 ہزار 103 ہو گئی ہیںخیبرپختونخوا میں24 اپریل تک مجموعی طور پر کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 15 فیصد ہوگئی حکومت نے کورونا کے تشویشناک پھیلا ئو کو روکنے کیلئے متعدد سخت فیصلے کئے ہیں تاہم ملکی معیشت اور عام غریب ومحنت کش شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں مکمل لاک ڈائون سے حتی الوسع گریز کیا جارہا ہے۔ 

تاہم اگر عوام کا رویہ اسی طرح رہا تو حکومت کو یہ کڑوی گولی بھی نگلنی بھی پڑیگی عورام کی طرف سے کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لینے اور حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت کی طرف سے ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے فوج کو طلب کرنا پڑا ہے کورونا احتیاطی تدابیر پر عمل درامد کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کی خدمات طلب کی گئی ہیںفوج پولیس اور اداروں کی مدد کر رہی ہیں تاہم اس وقت سب سے زیادہ ذمہ داری اگر حکومت کی بنتی ہے تو اس سے بڑھ کر بحیثیت قوم ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس خطرناک کورونا وائرس سے خود اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنی ذمہ دارایں نبھائیں۔ 

صوبائی حکومت کی درخواست پر پاک فوج نے گشت شروع کردی ہےضلعی انتظامیہ کی فوج کے ہمراہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کاروائیاں جاری ہیں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اب تک سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے پولیس نے لاؤڈ اسپیکرز پر عوام سے کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیلیں بھی کر رہی ہیں خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں آکیسجن کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اوربڑے اسپتالوں میں آکسیجن کا یومیہ استعمال ریکارڈ 72 ہزار لیٹر تک پہنچ گیا۔

وزارت محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ہفتے میں خیبرپختونخوا کے 8بڑے اسپتالوں میں آکسیجن کا استعمال 83فیصد بڑھ گیا، 8 بڑے اسپتالوں میں آکیسجن کا یومیہ استعمال 40 ہزارلیٹر سے بڑھ کر 72 ہزار500 لیٹر تک پہنچ گیا ہےخیبر ٹیچنگ اسپتال میں یومیہ آکسیجن استعمال 6 ہزار لیٹرسے بڑھ کر 7 ہزار 500 لیٹر ہوگیا ہے جس کے بعد اسٹوریج پلانٹ میں آکسیجن کا ذخیرہ 10ہزار لیٹر تک بڑھا دیا ہے۔ سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا امتیاز حسین شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال صوبے میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں البتہ خدشہ ہے سندھ میں کورونا بڑھنے سے پنجاب سے خیبرپختونخوا کو آکسیجن سپلائی کم نہ ہوجائے، سندھ کے پلانٹس پنجاب کو بھی آکسیجن فراہم کررہےہیں۔

دوسری جانب ملک میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نا روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہےخیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کا وار مزید تیز ہونے کی وجہ سے انتہائی نگہداشت یونٹ، ایچ ڈی یو اور وینٹی لیٹر پر مریضوں کا بوجھ بڑھ گیا خیبرپختونخوا کے متعدد ہسپتالوں میں کورونا وارڈز میں نئے مریضوں کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے حکومت کی جانب سے بار بار عوام کو اپیل کی جاتی ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے اور خصوصی طورپرماسک کا استعمال پر زور دیا جارہا ہے لیکن ابھی تک عوام کی جانب سے کوئی سنجیدہ عمل نظر نہیں آرہا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید