• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈاکٹر صغرا صدف (25اپریل 2021) کزن میرج سے اجتناب

محترمہ آپ نے ایک حقیقت کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کزن میرج کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ آنے والی نئی نسل مختلف بیماریوں سے محفوظ رہے۔ (ڈاکٹر ایم عارف سکندری، حیدرآباد)۔

رضا علی عابدی (30 اپریل 2021) اہل علم ایسے ہوتے ہیں

رضا صاحب آپ کا کالم علم و ادب کی حیثیت سے دل کو چھو جانے والے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے تعلیمی ورثے کی حفاظت کرنی چاہیے نہیں تو جو کچھ بچا ہے‘ ہم اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ (مہر ضیا، پنجند)

محمود شام (25 اپریل 2021) کافروں کے لیے سخت‘ آپس میں رحم دل

آپ کے کالم اکثر معاشرے کے سلگتے ہوئے موضوعات و مسائل پر ہوتے ہیں۔ آپ نے صحیح لکھا۔ واقعی اسلامی ممالک اگر اپنی دولت اور اپنے وسائل کے ساتھ خودداری سے جینا سیکھ لیں تو توہین رسالت کو عالمی جرم قرار دلوا سکتے ہیں۔ مگر خود داری شرط ہے۔ (رانا محمد شاہد،بورے والا)

محمدبلال غوری (26اپریل 2021) دینی مواد اسلامیات تک محدود کرنے پر اعتراض کیوں؟

غوری صاحب آپ کا کالم انتہائی جامع ہے۔ پاکستان کی قومی مذہبی اقلیتوں کے حق میں سچ لکھنے کا بہت بہت شکریہ۔ ( نوید انجم، کراچی)

بلال الرشید (25اپریل2021) فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے

جناب واقعی غصے میں شروع ہونے والے کام کا انجام حماقت پر ہی ختم ہوتا ہے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ معاف کرنا اور صدقِ دل سے بھلا دینا بہت ہی اعلی ظرفی اور دل گردے کا کام ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ (صالحین مجتبیٰ،کراچی)

یاسر پیرزادہ (28اپریل 2021) وحید الدین خاں جیسا کہاں سے لائیں

پیرزادہ صاحب کا مولانا وحید الدین خاں پر کالم انتہائی متوازن، معلوماتی اور دلچسپ تھا۔ وحیدالدین خاں علامہ آزاد کی طرح آزاد تھے۔ یاجوج ماجوج، نزول مسیح، مہدی کے متعلق ان کا عقیدہ بھی دوسروں سے ہٹ کر تھا۔ اللہ تعالیٰ علامہ وحید الدین خاں کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ (جاوید علی، لاڑکانہ)

کشور ناہید (28اپریل 2021) ہم آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں

محترمہ کشور صاحبہ گردواروں میں کھانا بنانے والی مشین بنانے کا خیال تو بہت اچھا ہے لیکن یہ کام بھی مدرسے کے طلبہ اور امام کے سپرد کرنے کا مشورہ میرے خیال سے درست نہیں۔ بلاشبہ جو ذمہ داریاں انھوں نے سنبھالی ہوئی ہیں وہ ہم آپ نہیں سنبھال سکتے نہ ان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ (صابر، لاہور)

حامد میر (29اپریل 2021) کرائون پرنس نہیں چلے گا

میر صاحب آپ کا کالم کرائون پرنس ہمارے دل کو چھو گیا۔ پاکستان ایک عظیم ملک ہےمگر بدقسمتی سے ہر کوئی اسے اپنی منشا کے مطابق چلانا چاہتا ہے‘ ہر دوسرے کو قانون کا احترام اور عمل کرنے کی تلقین کرے گا اور خود آئین کی دھجیاں اڑائے گا۔ (رائے امداد کھرل، ضلع اوکاڑہ)

نفیس صدیقی (28اپریل 2021) شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے رجوع کریں

محترم صدیقی صاحب لیکن یہ آج کی بات تو نہیں ہے، ہمارے ہاں غیر سیاسی قوتیں ہمیشہ سے عوامی قوتوں کو دبانے کے لیے مذہبی انتہا پسندوں کو استعمال کرتی آئی ہیں۔ غالب امکان یہی ہیں کہ مغرب میں توہیں رسالت کے واقعات انفرادی نوعیت کے ہیں۔ (انور خان)

الطاف حسن قریشی(30اپریل 2021) فلاح و سلامتی کے ابدی سرچشمے

جناب ہم نے دراصل قران کریم کو صیح طریقے سے سمجھا ہی نہیں ہے۔ ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں۔ ہر سال رمضان کے روزے بھی رکھتے ہیں، عبادات بھے کرتے ہیں باوجود اس سب کے ہمارے ملک میں ہر قسم کے جرائم کی انتہا ہوتی جا رہی ہے۔ (نعمان علی، لاہور)

رمیش کمار وانکوانی (29اپریل2021) انسانیت کی پکار ۔۔۔!

جناب آپ کے کالم سے اتفاق بھی ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے۔ 900سال کی تاریخ ہے جو کہ ہندو اور مسلم معاشرے کے اشتراک پر مشتمل ہے۔ ایسا صرف انڈوپاک ہی نہیں بلکہ دیکھا جائے تو تاریخ میں کئی اقوام ایسی تاریخ رکھتی ہیں۔ اس وبائی دور میں دونوں طرف ہی نرمی کی ضرورت ہے۔ اب بھارت اور پاکستان کو امن کی فصل کاٹنے اور اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ (عزیر خان۔ یو کے)