A Media in Chains
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
ہفتہ رواں کے آغاز میں یعنی 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن پر ملک کے ایک معتبر انگریزی اخبار نے اپنے اداریہ میں بجا طور پر لکھا ہےکہ آج کا دن عالمی یوم آزادی کا دن ہے۔ پاکستان میں دبے ہوئے صحافی برادری کے لئے یہ اس بات کی ایک یاد دہانی ہے کہ ان کے لئے جگہ مستقل سکڑتی جارہی ہے لیکن یہ سنگین حقیقت ان لوگوں کے لئے بھی باعث تشویش ہونی چاہئے جو ایک فری پریس کی جمہوریت کے لئے تنقیدی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ A media in chains زنجیروں میں جکڑا میڈیا طاقتور کا محاسبہ اور عوامی مفاد کی خدمت نہیں کرسکتا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔ در حقیقت، کسی جمہوریہ کے اصل معیار کا اندازہ اس کے پریس کی حالت سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ ہم جیسے پاکستانی جو برطانیہ میں آباد ہیں یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پاکستان پر اب تبدیلی کی علمبردار جماعت برسراقتدار ہے اس لیے اب وہاں صحافت پابہ زنجیر رکھنے کے پرانے تصورات سے نجات مل جائے گی اور عمران خان سے زیادہ اور کون اس بات کی اہمیت سے آگاہ ہو سکتا ہے کہ اسی میڈیا کے بل بوتے پر ہی وہ اقتدار پر براجمان ہوپائے ہیں مگر اسی انگریزی اخبار کے اداریہ میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کو حوالہ دیا گیا ہے کہ اس نے اپنی تازہ رپورٹ میں میڈیا کو دیکھنے والوں کے لئے پاکستان کو دنیا کا پانچواں خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔ یہ پڑھ کر ہماری امیدیں "انصاف" کے دعویداروں سے بھی مانند پڑتی جا رہی ہیں بلکہ ان کے دور میں معتبر ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تو پریس کی فریڈم مزید زنجیروں میں جکڑتی دکھائی دے رہی ہے اگر 1990 سے 2020 کے درمیان ، اندازا" 138 صحافی اپنے کام سے وابستہ وجوہات کی بناء پر یہاں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے مگر موجودہ دور میں صورتحال پہلے سے بھی زیادہ سنگین ہے جیسا کہ فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں 3 مئی 2020 سے لے کر 20 اپریل 2021 تک ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف کم از کم 148 حملوں یا خلاف ورزیوں کو دستاویزی طور پر ڈاکومنیڈ کیا ہے ان میں چھ قتل، پانچ اغواء، 25گرفتاریاں یا نظربندیاں، 15 حملے کے واقعات اور 27 قانونی مقدمات شامل ہیں اور واضح ہو رہا ہےکہ صحافیوں کو آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے ذمہ دار ریاستی حکام ہی میڈیا پریکٹیشنرز کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ یقینی طور پر صحافیوں کی حفاظت حکومت کی ترجیحات کی فہرست میں بہت کم ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کی وزارت نے ایک سال قبل صحافیوں اور میڈیا پروفیشنل کے تحفظ کے بل کا مسودہ تیار کیا تھا جو اپنے اعتبار سے مجوزہ قانون سازی کا ایک جامع ٹکڑا تھا جو میڈیا کو درپیش بہت ساری پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل حل فراہم کرتا تھاجس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ حکومت میڈیا کے بارے میں اپنی ذمہ داری کے لئے جاگ اٹھی ہے مگر پھر یہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ مذکورہ اخبار کے ایڈیٹوریل کے آخری حصے میں صورتحال کی جو مزید عکاسی کی گئی ہے وہ حالات کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ دریں اثنا معلوم اور ʼنامعلومʼ ریاستی عناصر state elements کی جانب سے صحافیوں کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خبروں کے ایڈیٹرز کو ʼناپسندیدہʼ معلومات سنسر کرنے یا نیوز سٹوریز کو ایک خاص رخ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے ذرائع ابلاغ کو خطرہ ہے کہ اگر وہ اس لائن کی پیروی سے انکار کردیں تو انھیں مالی بربادی کا خدشات مول لینا پڑیں گے۔ اس پس منظر میں، حکومتی کل پرزوں کا یہ اصرار کرنا کہ پاکستان میں پریس آزاد ہے سفید جھوٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی صحافت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہی قرار دی جا سکتی ہے ۔ اس باب میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی تحقیق چشم کشا ہے۔ اس کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ 2020 میں دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں صحافیوں کو اسیر کیا گیا ۔ ڈکٹیٹر شپ کی آئیڈیالوجی پر یقین رکھنے والے حکمران ایک آزاد پریس کو ضعف پہنچانے اور سچ کی آواز کو دبانے کے درپے ہیں، اپنے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے مقتدرہ حکومتوں نے سچ کو دبانے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا وتیرہ اپنا رکھا ہے طالع آزما حکمران اپنے اپنے ملکوں میں مقامی ابلاغی اداروں کی تعداد کو کم کرنے میں مصروف ہیں۔ یورپ میں بھی صحافتی آزادیوں کے حوالے سے صورتحال درخشاں نہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 کے دوران یورپ میں صحافتی آزادیوں کی خلاف ورزی کے 201 واقعات رپورٹ کئے گئے یہ تعداد پہلے کی نسبت 40 فیصد زیادہ تھی۔ ان واقعات میں سے بعض کا تعلق کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کردہ پابندیوں سے تھا۔ ایک رپورٹ کے اہم نکات میں یہ نشان دہی کی گئی ہے کہ جرنلسٹس کے لئے قانونی تحفظ ختم ہو رہا ہے۔ سرکاری مداخلت کی وجہ سے اظہار کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔ اور بدعنوانیوں کے خلاف ذرایع ابلاغ کا کردار بطور نگران بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایک پیغام میں دنیا بھر میں آزاد صحافت کے لیے حمایت کا اظہار کیا گیا ہے جو لفظی اعتبار سے تو خوش آئند ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کے سربراہ اس کےمتعلق عملی طور پر کیا اقدامات اٹھاتے ہیں ۔ (وائس آف امریکہ کے مطابق) صدر جو بائیڈن نے یہ واضح کیا ہے کہ قوموں کی ترقی، جمہوریت کی بقا اور معاشی ترقی کے لیے آزاد پریس ناگزیر ہے۔ اور یہ وہ آج کے دن سچ بولنے والوں کے حوصلے کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے خوف زدہ ہونے سے انکار کر دیا اور جو عام طور پر اپنی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔صدر کے بقول، وہ دنیا بھر میں معاشروں کے اندر آزاد میڈیا کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ صحافی حضرات سچ کو سامنے لانے، طاقت کے ناجائز استعمال پر نظر رکھنے اور اہل اقتدار سے شفافیت کا مطالبہ کرنے کا فرض ادا کرتے ہیں۔ صحافی فعال جمہوریتوں کے لیے بے حد اہم ہیں۔ صحافی کورونا کی عالمی وبا کے دوران بھی لوگوں کو حقائق سے آگاہ رکھنے کے لئے اگلے محاذوں پر موجود رہے جس کے لئے صحافیوں نے اپنی صحت کو بھی خطرات سے دوچار رکھا ہے۔ صدر کا یہ بھی عزم ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایک آزاد اور غیر جانبدار ذرائع ابلاغ کو تحفظ مہیا کریں گے۔ اب انتظار رہے گا کہ صدر کیا اپنے الفاظ کی پاسداری کر پاتے ہیں۔؟؟؟
یورپ سے سے مزید