نیب افسران بڑے فراڈ کرتے ہیں، 2ماہ کا کام 3سال لگادیئے، چیئرمین خاموش، چیف جسٹس
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب افسران بڑے فراڈ کرتے ہیں، 2ماہ کا کام 3سال لگادیئے، چیئرمین خاموش، چیف جسٹس

نیب افسران بڑے فراڈ کرتے ہیں، 2ماہ کا کام 3سال لگادیئے، چیئرمین خاموش، چیف جسٹس


اسلام آباد (نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ نے دس ملین روپے رشوت لینے کے الزام میں نوکری سے فارغ کئے گئے قومی احتساب بیورو(نیب) کے دو افسران شاکر علی اور سرویچ شیخ کے خلاف 3سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے انکوائری مکمل نہ ہونے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پرسندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی چیئرمین نیب کی اپیلیں واپس لئے جانے کی بناء پر نمٹادی ہیں جبکہ چیف جسٹس ، گلزار احمدنے ریمارکس دئیے ہیں کہ نیب افسران بڑے فراڈ کرتے ہیں، دو ماہ کا کام تین سال لگادیئے، چیئرمین خاموش ہیں؟، 2018 سے یہ معاملہ چل رہا ہے لیکن ابھی تک انکوائری ہی مکمل نہیں کی گئی ہے ،نیب افسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ہے،،نیب میں موجود ایسے افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اور چیئرمین نیب خاموش ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منگل کے روز سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاکر علی اور سرویچ شیخ سے متعلق انکوائری تین ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کے حکم کے خلاف دائر کی گئی چیئرمین نیب کی اپیل کی سماعت کی تو ڈپٹی پراسیکوٹر نیب، عمران الحق نے موقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاکر علی اور سرویچ شیخ کے خلاف انکوائری چل رہی ہے ،اس لئے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیاجائے ،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیس میں تین سال گزارنے کے باوجود ابھی تک نیب حکام نے کچھ بھی نہیں کیا ہے،نیب افسران نے جان بوجھ کرگھپلا کیا ہے تاکہ کیس خراب ہوجائے، آپ بتائیں کہ اس سارے معاملے میں آپ ذمہ دار ہیں یا کوئی اور ہے؟ سمجھ نہیں آ رہی نیب کا ادارہ کر کیا رہا ہے؟ عجب تماشا بنایا ہوا ہے؟چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہیں وہ بغیر انکوائری کسی ملازم کو نوکری سے کیسے نکال سکتے ہیں؟نیب نے دو ماہ کے کام کیلئے تین سال لگا دیئے ہیں، انہوںنے مزید کہاکہ نیب میں موجود ایسے افسران بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں اور چیئرمین خاموش ہیں؟نیب ایسے لوگوں کو تنخواہ اور غلط کام کرنے کا موقع بھی دیتا ہے ،نیب کے ا فسران کو ادارہ چلانا ہی نہیں آتا ہے، بعد ازاں نیب کے لاء افسر نے انکوائری مکمل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اپیلیں واپس لینے کی استدعا کی تو عدالت نے ان کی استدعا منظور کرتے ہوئے چیئرمین نیب کی یہ اپیلیں نمٹا دیں۔

اہم خبریں سے مزید