• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر جوبائیڈن کی حکومت کے اولین سو دن کیسے گزرے، حکومت کی کارکردگی کیسی رہی؟ اس حوالے سے امریکی اور دیگر ممالک کے میڈیا میں اس پر بحث عام ہے۔ امریکی میڈیا نے بتایا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے جنوری میں حلف اٹھانے کے فوری بعد جو وعدے عوام سے کئے تھے، اس کے مطابق انہوں نے اپنی پہلے سے ترتیب کردہ ترجیحات کے مطابق اولین سو دن میں لگ بھگ پچانوے فیصد اہداف حاصل کرلئے ہیں جن کو عوام نے صدی کی بہترین کارکردگی قرار دیا ہے۔ 

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی پچاس دن میں صدر جوبائیڈن نے اپنے کردار، لیڈر شپ اور برتائو سے متاثر کیا۔ عوام کی اکثریت نے کووڈ19- سے نمٹنے کیلئے صدر بائیڈن نے جو جامع پالیسی ترتیب دی اور اس کو اولین مسئلہ قرار دے کر متعلقہ اداروں سے 19؍ٹربلین ڈالر کا بجٹ مختص کرایا۔ اس حوالے سے عوام کی اکثریت صدر بائیڈن کے اقدام کو بہت سراہا رہے ہیں۔ امریکا میں ویکسین کی ہنگامی طور پر تیاری پھر اس تک عوام کی رسائی، اس تمام عمل کی جوبائیڈن انتظامیہ نے نگرانی کی اور تاحال کہا جاتا ہے کہ چار سو ملین شہریوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی صدر بائیڈن کی ہر پالیسی کو مثبت قرار دیا اور اس کی حمایت کی۔ صدر بائیڈن نے اپنے سو دن میں جو اہم اقدام کئے، ان میں شام میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا پر فوری بمباری کرانا، اسکولوں اور یونیورسٹیز کا ازسرنو شیڈول اس طر ح ترتیب دیا کہ کرونا سے بچائو بھی ہوسکے اور تعلیم بھی جاری رہے، غیر ملکی سربراہوں سے ملاقاتیں کیں، ماحولیات کے پیرس کے عالمی معاہدہ میں امریکا کی دوبارہ شمولیت کرائی، جس سے 2018ء میں سابق صدر ٹرمپ معاہدہ سے باہر آگئے تھے۔ 

یورپی یونین کے سربراہوں سے فوری ملاقاتیں، نیٹو معاہدہ کے اراکین سے مذاکرات اور ہر دو جانب امریکا کے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانا اور اپنے پرانے اتحادیوں کی شکایات کا ازالہ کرنا۔ جاپان کے وزیراعظم کا پہلا کامیاب دورئہ امریکا ، ایشیا بحرالکاہل میں امریکا کا دفاعی اور تجارتی معاہدہ جس میں امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت شامل ہیں، یہ بھی صدر بائیڈن کی اہم کامیابی تصور کی جارہی ہے۔

صدر جوبائیڈن نے اپنے دنوں ہی میں اپنی مجوزہ خارجہ پالیسی کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیاتھا۔ امریکا کی نئی خارجہ پالیسی گو ایک دم نئی تو نہیں کہی جاسکتی بلکہ یہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کا پرتو ہے جس میں کیرٹ اور اسٹیک کا شائبہ دکھائی دیتا ہے البتہ صدر بائیڈن نے اپنی خارجہ پالیسی سے یہ تاثر مستحکم کردیا ہے کہ روس بڑا حلیف ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں روس پر حکومت نے الزامات عائد کرکے اس کے سفارت کاروں کو امریکا بدر کردیا، سات کمپنیوں پر پابندی عائد کردی۔ اسی طرح روس نے بھی امریکی سفارت کاروں کو جیسے کو تیسا کی بنیاد پر ماسکو بدر کردیا مگر سفارتکاروں کو اس پر حیرت ہے کہ چین کو حریف اول کیوں قرار نہیں دیا گیا جبکہ چین ہی امریکا کا بڑا حریف اور بڑی طاقت ہے۔

صدر جوبائیڈن نے میکسیکو کی سرحد پر اٹھارہ سو سے زائد محصور بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کیلئے احکامات جاری کئے۔ اس کو بھی تارکین وطن نے سراہا۔ اولین دنوں میں سابق صدر ٹرمپ کا مواخذہ بھی ہوا پھر انہیں متعلقہ اداروں نے کلیئر کردیا۔ یہ عمل بھی خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔ اس کے علاوہ حال میں صدر بائیڈن نے امریکا انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے، اس میں توسیع کرنے کیلئے دو ٹریلین ڈالر کا بجٹ سینیٹ میں پیش کیا اور اپنی سیاسی فراست اور دلائل سے اس بجٹ کو سینیٹ سے منظور کرا لیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی اس عمل کو بھی اپنی بڑی فتح تصور کرتی ہے۔

 صدر کا اصل امتحان اب شروع ہونے جارہا ہے جس میں چین سے تجارتی معاہدے، افغانستان سے انخلاء اور کورونا کے بعد کی معاشی صورتحال وغیرہ! اگر افغان مسئلے کو اوپر رکھیں تو ظاہر ہے کہ کابل سے انخلاء سے قبل پاکستان کو اعتماد میں لیا جائے، ان کے گلے شکوے بھی سنے جائیں۔ ہرچند کہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر اور خلائی مہارت اپنی جگہ مگر پاکستان کی جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ امریکا اس عیاں حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا پھر پاکستان کا بھی جاری حالات میں فائدہ ہے کہ افغانستان میں مکمل امن ہو، وہاں مزید کوئی مہم جوئی نہ ہو۔ ایسے میں امریکا اور پاکستان کو ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہئے۔

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کا شیڈول جاری کیا۔ جارج فلائیڈ کے المناک واقعہ کا مقدمہ چل رہا تھا جس میں سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک شیورن کو جیوری نے قاتل قرار دے دیا۔ اس نازک مسئلے پر جوبائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکا میں نسلی تعصب کی لہر کو روکا۔ صدر بائیڈن ہرچند کہ اپنی صدارتی مہم کے دوران مسلمانوں کیلئے ہر موقع پر ہمدردانہ جذبات کا اظہار کیا تھا مگر حال ہی میں انہوں نے آرمینیا میں نسلی قتل عام کا ذکر کرکے پہلے امریکی صدر کہلائے جس نے آرمینیا میں عیسائیوں کی نسل کشی کی مذمت کی۔ 

بائیڈن کے اس اعلان پر امریکی دائیں بازو کے قدامت پسند حلقے خوش ہیں مگر ترکی اور بعض مسلم ممالک کا ردعمل بائیڈن مخالف ہے۔ صدر جوبائیڈن نے بھی امریکا فرسٹ کا نعرہ دیا۔ اسی حوالے سے انہوں نے یہ بیان بھی دیا کہ تمام امریکی شہریوں کو کووڈ کی ویکسین لگائی جائے گی اور باقی امریکا میں اسٹاک کی جائے گی۔ بھارت میں کرونا کی جو صورتحال ہے، اس پر صدر بائیڈن نے بھارت کی فوری مدد کرنے کا اعلان کردیا ہے اور امریکی ویکسین، وینٹی لیٹرز اور دیگر دوائیں بھارت روانہ کردی گئی ہیں۔ صدر بائیڈن کے اس اقدام کو بھارتی کمیونٹی نے سراہا ہے۔

سال 2016ء کی صدارتی مہم کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب حلف لینے کے بعد اپنے اوول آفس میں قدم رکھا تو سو دن کا پروگرام بھی چاک آرٹ کیا تھا۔ سابق صدر ٹرمپ کا اولین سو دن کا پروگرام سن کر بیشتر تجزیہ کاروں نے ٹرمپ پر طنز کیا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنا دفتر سنبھالنے کے بعد اولین سو دن تک وہ محض گومگو کی صورتحال میں کھونٹی سے ٹنگے ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سابق صدر ٹرمپ کامیاب بزنس مین ، شعلہ بیاں (جذباتی) مقرر ہیں۔ 

ہرچند کہ سیاسی فراست کم تھی مگر وہ اپنی لائق ٹیم تشکیل دینے میں بھی ناکام رہے۔ اگر وہ اپنی ٹیم مضبوط بنا لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا جبکہ صدر جوبائیڈن کے بارے میں کہتے ہیں بائیڈن سینئر سیاستدان ہیں، چھ بار سینیٹر منتخب ہوئے، ایک درجن سے زائد کمیٹیوں کے سربراہ رہے، صدر اوباما کے نائب صدر رہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سب سے معمر رہنما ہیں۔

صدر بائیڈن کا موقف یہ ہے کہ وہ امریکا کو اس کا ماضی قریب کا اسٹیٹس واپس دلائیں گے۔ وہ امریکا کو دنیا کی بڑی سپر پاور کے درجہ پر فائز دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ سربراہان مملکت عوام کو مطمئن کرنے، ان کا جوش ابھارنے کیلئے ایسے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں خاص طور پر یہ ولولہ سرد جنگ کے دوران زیادہ دیکھنے میں آتا تھا مگر بعض دانشوروں کی رائے میں امریکا کی جو قوت ہے، وہی اس کی کمزوری بھی ہے۔ ان کی نظر میں امریکا میں بھانت بھانت کے باشندے آباد ہیں، مختلف کلچر، مذہب، زبانوں اور رنگ و نسل کا مرکب ہے۔

صدر جوبائیڈن نے امریکی خارجہ پالیسی کے جو خدوخال اجاگر کئے ہیں، اس کے مطابق وہ ایک ہاتھ میں جمہوری اقدار، انسانی حقوق کا پرچم اٹھائے ، اور دوسرے ہاتھ میں کرئہ ارض کے قدرتی ماحول کی بہتری اور آلودگی میں کمی کا جھنڈا اٹھائے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی کے یہ دو اہم پہلو … بہت معنی خیز ہیں۔ اس سے مطلق العنان اور غیر جمہوری حکومتوں کو تشویش ہوسکتی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے کہا جاتا ہے کہ ان کے چار سالہ دور میں امریکا نے کہیں جنگ نہیں لڑی مگر صدر بائیڈن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ضرورت پڑنے پر جنگ کرسکتے ہیں۔ 

اس خطے سے امریکا کی دفاعی حکمت عملی کیلئے کہا جاتا ہے کہ پینٹاگون، سی آئی اے اور اس سے متعلقہ اداراے حکمت عملی وضع کرتے ہیں۔ صدر امریکا انہی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر کا دفاعی معاملات میں بیس فیصد حصہ ہوتا ہے باقی کام ادارے سرانجام دیتے ہیں۔ جان ایف کنیڈی ویت نام میں فوجیں بھجوانے پر تیار نہ تھے، اپنے دور کے مقبول رہنما تھے۔ ڈیلاس میں ان کے قتل کے بعد نائب صدر لنڈن بی جانس نے صدر کا عہدہ سنبھالا اور پہلا کام ویت نام میں فوجیں بھجوانے کا سرانجام دیا۔ بعدازاں اسی نوعیت کے حساس معاملات میں ادارے حاوی ہیں۔ صدر بائیڈن نے اپنے

سو دن میں 42؍انتظامی احکامات پر دستخط کئے جبکہ پہلے سو دن میں انتظامی احکامات جاری کرنے کا ریکارڈ صدر روز ویلٹ کا ہے جنہوں نے 1933ء میں 99؍آرڈرز پر دستخط کئے تھے، تاحال یہ ریکارڈ قائم ہے جبکہ سابق صدر ٹرمپ کے بہت سے انتظامی آرڈرز پر عمل نہیں ہوسکا، انہیں یہ احکامات واپس لینے پڑے۔ سو دن کے اہم اعلانات اور احکامات میں عالمی ادارئہ صحت میں امریکا کی واپسی بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے عالمی ادارئہ صحت پر کرونا کے ابتدائی پھیلائو کے وقت سخت تنقید کی تھی کہ اس اہم ادارہ نے کرونا وائرس کے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کیں اور بہت بڑے نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ 

اس پر صدر ٹرمپ نے عالمی ادارئہ صحت سے امریکا کو الگ کرلیا اور ادارے کی امداد بھی روک دی تھی تاہم اب صدر بائیڈن نے ادارے میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے دور میں جو مسلم ممالک کے تارکین وطن پر پابندی عائد کردی تھی اور ویزا روک دیا گیا تھا، صدر بائیڈن نے پابندی ختم کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ صدر بائیڈن نے بڑا کام یہ بھی کیا کہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور توسیع کیلئے دو سو ٹریلین کا بجٹ منظور کردیا ہے جس کی وہ بریفنگ دے رہے ہیں اور اسی پلان پر سب کی رائے و تجاویز لی جارہی ہیں۔ 

کانگریس کی اسپیکر پلوسی نے انفرا اسٹرکچر پلان پر صدر کی حمایت میں تقریر کی۔ صدر بائیڈن متعلقہ اداروں سے تجاویز طلب کررہے ہیں۔ امریکی نقطہ نظر سے صدر بائیڈن کے سو دن اچھے گزر گئے، کچھ اہم کام ہوئے جن میں عوام کو کووڈ19- کا بڑا ریلیف حاصل ہوا، ویکسین تیزی سے لگ رہی ہے ، مگر مبصرین کے نزدیک اہم مسئلہ یہ ہے کہ صدر بائیڈن اپنی پالیسی میں فی الفور کوئی لچک نہیں دکھا رہے ہیں۔ سعودی عرب، اسرائیل، یمن سے دوٹوک بات کی ہے۔ شمالی کوریا نے صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد دو کم فاصلے کے جدید میرائلوں کا تجربہ کیا جس پر امریکا اور شمالی کوریا سے مزید کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ 

گزشتہ دنوں الاسکا میں اعلیٰ سطح کے امریکی ایمرجنسی مذاکرات میں دونوں جانب سے تلخ کلامی اور ترش جملوں کا تبادلہ ہوا۔ امریکی صدر اور روسی صدر کی بھی ٹھن گئی، جوبائیڈن نے صدر پیوٹن کو قائل کیا۔ جواب میں روسی صدر نے کہا جو جیسا ہوتا ہے، دوسروں کو بھی ویسا ہی سمجھتا ہے۔ اس سطح پر اس طرح کے رویئے اور مکالمے حیران کن ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی جماعتیں اور ان کے رہنما بھی شدید اعصابی دبائو میں سانس لے رہے ہیں۔ ایسے میں صدر بائیڈن کے تیور بھی کچھ مناسب نظر نہیں آتے ۔

صدر جوبائیڈن نے اپنی حکومت کے اولین 100؍دنوں کی کارکردگی کے بارے میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں جو تفصیلات گنوائی گئی ہیں، اس پر ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں نے نکتہ چنی کرتے ہوئے کہا کہ پہلا مسئلہ تارکین وطن کا تھا۔ سابق صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد بند کردی تھی، ایک درجن سے زائد ممالک پر ویزے کی پابندی عائد کردی تھی مگر صدر بائیڈن نے پابندیاں ختم کرکے صورتحال بگاڑ دی ہے۔ 

امیگریشن پولیس کے مطابق اس وقت پونے سات لاکھ سے زائد تارکین وطن ویزے کی مدت گزرنے کے بعد بھی امریکا میں ہیں۔ میکسیکو سے دو ہزار کے قریب بچے سرحد پر کیمپ میں محصور ہیں، غیر قانونی تارکین وطن مزید آرہے ہیں۔ صدر نے انتخابی مہم کے دوران پندرہ لاکھ ملازمتیں فوری دینے کا وعدہ کیا تھا، اب اس میں کمی کرکے بتایا جارہا ہے۔ معیشت کو سدھارنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ معیشت میں خاطرخواہ سدھار نظر نہیں آرہی ہے۔ صدر بائیڈن نے حال ہی میں ماحولیات اور موسمی تغیرات کے موضوع پر سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ تازہ اعدادوشمار کے لحاظ سے سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا ملک چین ہے پھر امریکا، بھارت، روس، جاپان، برازیل، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا مجموعی عالمی آلودگی میں گیارہ فیصد کا حصہ دار یا ذمہ دار ہے۔ اس سربراہ کانفرنس کا بھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔

ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں کا موقف ہے کہ صدر بائیڈن نے سو دن کی کارکردگی کا جو جائزہ پیش کیا، وہ مایوس کن ہے۔ کارکردگی کے بارے میں چھوٹے چھوٹے معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جبکہ بڑے مسائل پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی اس کے علاوہ امریکا میں ایک اور اہم مسئلہ تیزی سے سر اٹھا رہا ہے۔ وہ مسئلہ بدلتی ڈیموگرافی مردم شماری کا ہے۔ امریکی ماہرین کے جائزوں کے مطابق امریکا میں ہسپانوی آبادی میں اضافے کا اوسط دیگر سے کچھ زائد ہے۔ 

اس کے بعد ایشیائی ممالک کی آبادی میں اضافے کا اوسط نمایاں ہے۔ تیسرے امریکی سیاہ فام آبادی میں اضافے کا اوسط بھی نمایاں ہے جبکہ سفید فام آبادی میں اضافے کا اوسط بہت سست رفتار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا میں آبادیوں میں اضافے کا اوسط جاری حالات جیسا رہا تو 2050ء تک سفید فام آبادی کو نئے گمبھیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں نے صدر بائیڈن پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا۔ جوبائیڈن کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جلد طیش میں آجاتے ہیں، دوسرے کی بات سے پہلے اپنی بات آگے رکھ دیتے ہیں۔ ان پر عموماً غنودگی طاری رہتی ہے یا وہ دوران کانفرنس سو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے خدشہ ہے کہ امریکا کو ان کے ہاتھوں بڑا نقصان اٹھانا نہ پڑے۔ اناسی سال کی عمر میں امریکا کی باگ ڈور سنبھالنا آسان نہیں ہے۔

صدر جوبائیڈن کے ایک سو دن کی کارکردگی کو عوام کے بڑے حصے نے سراہا ہے مگر حزب اختلاف، صدر پر پے درپے نکتہ چینی کررہی ہے۔ انہیں اس پر بھی حیرت ہے کہ صدر بائیڈن نے روس کے حوالے سے تو کہہ دیا مگر چین کے بارے میں کچھ نہیں کہا جبکہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ چین اصل حریف ہے۔ امریکا کے سیاسی اور معاشی مفادات چین سے متصادم ہیں۔ 

صدر بائیڈن کی اس حوالے سے خاموشی کو مصلحت پسندی سے آگے دیکھا جارہا ہے مگر ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت صدر جوبائیڈن کی پالیسیوں کی حمایت کررہی ہے تاہم امریکی سیاسی تھنک ٹینک صدر بائیڈن کی افغانستان سے امریکی اور نیٹو ممالک کے فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے 11؍ستمبر کی ٹائم لین پر کچھ متوحش دکھائی دیتے ہیں۔ 

دوسری طرف افغان طالبان نے واضح طور پر کہا ہے کہ یکم مئی تک کی تاریخ معاہدے میں طے تھی تو یکم مئی تک غیر ملکی فوجوں کا انخلاء ضروری تھا۔لیکن ایسا نہیں ہوا ، اس ٹائم لائن میں تبدیلی پر اختلاف ابھر آیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 11؍ستمبر کے بعد افغانستان میں امریکا اپنی کچھ فوجی قوت رکھے گا یا بالکل انخلاء ہوگا، اس ضمن میں امریکی ترجمان نے بیان دیا ہے کہ امریکا اپنی حکمت عملی تبدیل کررہا ہے۔ وہ افغانستان کی نگرانی افغان سرحدوں سے دور رہ کرے گا۔ اس ضمن میں امریکا کا سب سے دیرینہ حلیف پاکستان ہے اور ان دونوں ممالک کے ماضی قریب میں گہرے تعلقات رہے ہیں۔

امریکا کو غالباً یقین ہے کہ پاکستان اب بھی امریکا سے دوستی نبھائے گا۔ امریکا ازخود پاکستان سے تھوڑا کھنچ گیا تھا کہ یہ پورا چین کا حلیف بن چکا ہے مگر خارجہ پالیسی میں کوئی حتمی اور دائمی دوست ہوتا ہے نہ دشمن! امریکا کو جو بھی دونوں ملکوں کے مابین سرد مہری ہے، اس کو دور کرلے۔ پاکستان کو اعتماد میں لے کر پالیسی وضع کرے۔ ستمبر کے بعد افغانستان کے مسئلے کا مطلع صاف ہوگا، ابھی بہت سی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں۔ مستقبل قریب میں افغان طالبان، القاعدہ اور داعش کے گٹھ جوڑ کی باتیں بھی ہورہی ہیں مگر یہ بات طے ہے کہ افغانستان کا دیرپنہ مسئلہ اس وقت سے سدھرنا شروع ہوگا جب عوام کو ریاستی فیصلوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس مسئلے پر بھی امریکا میں نکتہ چینی جاری ہے۔

امریکی میڈیا امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس کے سو دن کی کارکردگی پر بھی بات کررہا ہے۔ نائب صدر حلف اٹھانے کے بعد سے تاحال صدر بائیڈن کے ساتھ معاونت کرتی رہی ہیں۔ کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی اور کملا ہیرس صدر کے دائیں بائیں رہی ہیں اور ہر معاملے میں حمایت اور معاونت کی ہے۔ اسی طرح نائب صدر نے چند معاملات جو صدر کی طرف سے انہیں تفویض کئے گئے تھے، وہ معاملات ذمہ داری سے نبھائے ہیں مثلاً کووڈ کا مسئلہ، ویکسین دینے اور اس مسئلے پر نظر رکھنا، اسکولوں کیلئے لاک ڈائون پالیسی تیار کرنا تاکہ وقت ضرورت کام آئے البتہ حالیہ ماحولیات کی سربراہ کانفرنس میں کملا ہیرس نے صدر کی معاونت کی۔ اس مسئلے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض سرکردہ رہنما بھی صدر بائیڈن کے ساتھ کھڑے تھے۔صدر بائیڈن کے سو دن گزر گئے، دوسرے لفظوں میں ہنی مون پیریڈ گزر گیا۔

امریکی تھنک ٹینک شمالی کوریا کے مسئلے پر بھی خاصی تشویش میں مبتلا ہے کہ صدر بائیڈن اور شمالی کوریا کے صدر کے مابین جب بھی مذاکرات ہوں گے، صدر بائیڈن کو دیگر چار امریکی صدور کی طرح دامن جھٹک کر واپس آنا پڑے گا۔ اگر صدر بائیڈن نے جمہوری اقدار، انسانی حقوق کی پامالی کا راگ الاپا، دوسرے دن شمالی کوریا دو بین براعظمی میزائلوں کا تجربہ کردے گا۔ اس کی وجہ امریکی مبصرین یہ بتاتے ہیں کہ صدر بائیڈن اپنی عمر، نقاہت کی وجہ سے قدرے ترش اور ہائپر ہوگئے ہیں جبکہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان بھی سیمابی طبیعت کے مالک کہلاتے ہیں۔ 

صدر بائیڈن کیلئے ابھی ان کے بڑے مخالفین میں ریپبلکن پارٹی کے واحد سیاہ فام سینیٹر ٹم اسکاٹ نے صدر کے سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے ان کی تقریر یکسر مسترد کردی۔ ٹم اسکارٹ نے امریکا میں سفید فام نسل پرستوں کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال کیا کہ امریکا نسل پرست ملک ہے۔ صدر بائیڈن نے اس بیان کو مسترد کردیا مگر نائب صدر کملا ہیرس نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکا کی تاریخ میں نسل پرستی کے دردناک قصے عام ہیں۔ جو لوگ ان جرائم کے مرتکب ہوئے، انہیں قابل مذمت تصور کرنا چاہئے اور تاریخی حقائق کو سامنے لاکر ان کا ازالہ کرنا چاہئے۔ ہم تاریخ کو جھٹلا نہیں سکتے۔ 

واضح رہے کہ کملا ہیرس نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اسکول کے دور میں انہیں سفید فام بچے نزدیک نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات کملا ہیرس نے طشت ازبام کئے تھے۔ گزشتہ سال سیاہ شہری جارج فلائیڈ کا سفید فام پولیس اہلکار ڈیرک شیورن کے ہاتھوں قتل نے ایک بار پھر امریکا میں نسل پرستی کے اندوہناک واقعات کو تازہ اور زخموں کو ہرا کردیا ہے۔ سو دن کی کارکردگی میں اب صدر بائیڈن نے امریکا میں ہیلتھ کیئر پروگرام کو زیادہ جامع اور سودمند بنانے کیلئے ہنگامی پروگرام ترتیب دیا ہے اور اس کا بجٹ دگنے سے زائد کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنی حالیہ تقریر میں امریکیوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے میں اتحاد پیدا کریں اور خوشحالی کی جدوجہد کو تیز تر کریں۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس ریفارم کی ضرورت آن پڑی ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ فوری پولیس ریفارم پروگرام تیار کریں۔