• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
آزاد جموں و کشمیر کی عدالتی تاریخ اور باالخصوص تحصیل ڈڈیال میں دوسری مرتبہ یہ غم دیکھنا پڑا کہ حاضر سروس چیف جسٹس آزادکشمیر ہائی کورٹ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس سے قبل تحصیل ڈڈیال ہی کی اہم شخصیت اور اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر محمد یونس سرکھوی ایک تقریب کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔جسٹس محمد شیراز کیانی آزاد جموں و کشمیر ہائی کو رٹ کے چیف جسٹس چند ماہ قبل ہی تعینات ہوئے تھے۔ ان دنوں جسٹس محمد شیراز کیانی کورونا جیسی جان لیوا بیماری میں مبتلا تھے، کچھ افاقہ ہوا تو تقریب حلف کشمیر ہاؤس اسلام آباد کے سبزہ زار پر منعقد ہوئی ۔ صدر ریاست سردار مسعود خان نے حلف لیا ۔ کچھ روز افاقہ کے بعدچیف جسٹس صاحب کی پھر طبعیت خراب ہوئی اور اسلام آباد ہسپتال میں میں داخل کیے گئے اور زندگی کی آخری سانسو ں تک وہی زیر علاج رہے ،یاد رہے فخر اندرہل ہر دلعزیز شخصیت جسٹس محمد شیراز کیانی 06اگست 1965ءکو تحصیل ڈڈیال کے گاؤں حویلی بگار میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ہائی سکول ڈڈیال اور گورنمنٹ ڈگری کالج ڈڈیال سے حاصل کرتے ہوئے 1985ءمیں آزادجموں کشمیر یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی سال 1989ءمیں یونیورسٹی لاء کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، جامعہ پنجاب میں سال 1988میں کشمیر اسٹوڈنٹ کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے منتخب ہوئے کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھا اور 1989ءسے 1995ءتک بطور وکیل میرپور اور ڈڈیال میں پریکٹس شروع کر دی سال 1991ءمیں بار ایسوسی ایشن ڈڈیال آزاد کشمیر کے نائب صدر منتخب ہوئے اکتوبر 1995ءمیں سول جج کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور اپنے عدالتی کیریئر کا آغاز کیا، سال 2003ءمیں سینئر سول جج 2006ءمیں ایڈیشنل جج اور 2010ءمیں بطور ڈسڑکٹ ایڈیشنل سیشن جج ترقیاب ہوئے، آپ کی اعلیٰ کارکردگی پر ہائی کورٹ کی جانب سے سال 2003-04 ءمیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا سال 1996ء اور 2001ءکے عام انتخابات میں بطور ریٹرننگ آفیسر فرائض سرانجام دئیے سال 2011ءمیں بطور ڈسڑکٹ ریٹرننگ آفیسر کے فرائض سر انجام دئیے، سال 2014ء میں جناب جسٹس محمد شیراز کیانی کو جج احتساب وبینکنگ کورٹ میرپور تعینات کیا گیا، 2015ء کے آغاز میں آپ کو چیئرمین سروس ٹریبونل آزادجموں و کشمیر کونسل کا اضافی چارج دیا گیاء بطور جوڈیشل آفیسر آپ نے سال 2003ء میں شریعہ اکیڈمی اسلام آباد میں اسلامی قوانین کا کورس کیا اور اسی دوران سوڈان،مصر ودیگر ممالک کا دورہ بھی کیا اور اُن کے عدالتی نظام سے متعلق تمام شرکاء کورس کے ساتھ مطالعاتی دورہ کیا اپنے جوڈیشل کیرئیر میں جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد اور لاہور میں کئی عدالتی تربیتی کورسز اور کانفرنس میں شرکت کی جسٹس محمد شیراز کیانی کے 20سالہ بے داغ اور شاندار عدالتی کیرئیر کو مدنظر رکھتے ہوئے 23ستمبر 2015ء کو آ پ عدالت العالیہ آزادجموں کشمیر کا جج تعینات کردیا گیاء اپنے ساڑھے پانچ سالہ عرصہ تعیناتی بطور جج ہائی کورٹ کئی اہم نوعیت کے فیصلے کئے اور کثیر تعداد میں یہ فیصلے پاکستان کی عدالتوں میں بطور ریفرنس شامل کیے گئے۔ اور پاکستانی جراید و اخبارات میں بھی شائع ہوئے سال 2017ءمیں برطانیہ کی کراؤن کورٹ نے خصوصی طور پر جسٹس محمد شیراز کیانی کو مدعو کیا اور برطانیہ کے جوڈیشل سسٹم پر بریفنگ دینے کے بعد ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران بطور آبزرو جج کے ساتھ بیٹھایا اور ساری کارروائی کا حصہ بنایا سال 2020ءمیں آپ کو اضافی طور پر ایڈمنسٹریٹو جج ہائی کورٹ کا منصب سونپا گیاء آپ مسٹ یونیورسٹی کی سینٹ کمیٹی کا بھی حصہ ہیں اور اب 18 مارچ 2021ء آپکو بطور چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر کا نوٹیفکیشن جار ی کرتے ہوئے تعینات کردیا گیا تھا۔لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور مورخہ 3مئی 2021 کو دنیا فانی سے رخصت فرما گئے ۔
یورپ سے سے مزید