• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مُلک میں امن وامان کےقیام ، سرحدوں کی حفاظت سے لے کر قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے نمٹنے تک حالات سنبھالنے کے لیے فوج ہی کو میدانِ عمل میں آنا پڑتا ہے۔پھر وطنِ عزیز میں سیاسی افراتفری اور انتشار کے باعث ’’طوعاً وکرہاً‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی عنانِ حکومت سنبھالنے کی ذمّے داری بھی فوج ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے ،یہی سیاسی افراتفری اور انتشار اس وقت بھی مُلک میں موجود ہے ۔

یہ تو خیر جملۂ معترضہ تھا ،امرِ واقعہ ہے کہ مُلک بھر میں کورونا کی صورت ِحال نے زندگی کے ہر شعبے میں جو عدم استحکام اور غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا کر رکھی ہے، اس سے ہر فرد متاثر ہوا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے،حالاں کہ پاکستانی عوام کے ایک بڑے طبقے نے کورونا سے تحفّظ کے لیے احتیاطی و حفاظتی تدابیر اختیار کیں، نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی ظاہر کی، بلکہ بہت سے افراد تو آج تک اسےایک ’’ یہودی سازش ‘‘ہی سمجھ رہے ہیں۔

اگرایک طرف ذرایع ابلاغ نے عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات کی تشہیر کے لیے خاطر خواہ خدمات انجام دیں اورتا حال یہ سلسلہ جاری ہے ، تو دوسری جانب عوام کی لاپروائی اور بے نیازی مسلسل عروج پر ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس وبا کے باعث روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہلاکتوں کی خبریں منظرِعام پر آتی ہیں، لیکن اس کے با وجود عوام باز نہیں آرہے کہ پورے ماہِ صیام خورونوش کی دُکانوں، مارکیٹوں پر عوام کا جمِ غفیر نظر آیا، جس میں زیادہ تر افرادبنا ماسک ہی تھےاور اگر کوئی ماسک پہنا ہوا بھی تھا، تو ارد گرد کے افراد اسے ایسے دیکھتے رہے، جیسے وہ کوئی جرم کر رہا ہو۔ 

پھر سماجی فاصلے کی تو خیر بات ہی کیا کریں کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر ذاتی گاڑیوں تک میں شانے سے شانہ جوڑے افراد بیٹھے دکھائی دئیے ۔گویا، جان جائے، پر زبان کے چٹخارے اور عید کی شاپنگ نہ رُکنے پائے۔ چلو، پینشنرز اور بِلوں کی ادائی کرنے والوں کی تو مجبوری سمجھ آتی ہے کہ ان کا گھر سے نکلنا اور رش والی جگہ پر جانا ضروری تھا، مگر عید کی شاپنگ کرنے والوں کاازدحام کیوںنظر آیا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ دُکانوں پر عید کی خریداری کرنے والوں کا روایتی ہجوم کورونا کے حوالے سے پاکستانیوں کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

وبائی ایّام میں ترقّی یافتہ ممالک کا تو یہ طریقہ ہے کہ سرِشام ہی گھروں میں مقیّد ہو جاتے ہیں، نہ غیر ضروری گھر وںسے نکلتے ہیں، نہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ قارئین کو یہ بتانے کا مقصد انہیں یہ باور کروانا ہے کہ آج کے عہد میں بھی اس طرح کی اقوام اور لوگ پائے جاتے ہیں، جن کے لیے تہواروں سے زیادہ زندگیاں اہم ہیں۔ ویسے تو ہمارے یہاں ہر بات کا ذمّے دار حکومت کو ٹھہرادیا جاتا ہے، لیکن اس بار تو حکومت نے قبل اَزوقت ہی کووِڈ-19کی دوسری اور تیسری لہر کی سنگینی اور نتائج سے متعلق عوام کو آگاہ کر دیا تھا، اس کے باوجود بھی عوام کی جانب سے لاپروائی برتنے اور ہدایات نظر انداز کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے،حالاں کہ گھروں اور اسپتالوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو تاجارہا ہے۔ اورعوام کی احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کی ان ہی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بالآخر احکامات دینے اور ان پر عمل دَرآمد کروانے والوں (افواجِ پاکستان)کو شاہ راہوں پر آنا پڑا۔

دیکھا جائے تو اس ساری صورتِ حال میں معاشرے کے کم وبیش تمام ہی طبقات اور شعبۂ ہائےزندگی کے افراد اپنے اپنے طور پر وبا کے خلاف اپنا کردار ادا کر رہےہیںاور عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ،لیکن سوال یہ ہےکہ مُلک کے وہ نام وَرسیاست دان ،جو میڈیا پر آکر عوام کی بےلوث خدمت کرنےکے بڑے بڑے دعوے کرتے ، مختلف ٹاک شوز میں شرکت، بلکہ ’’شور شرابا‘‘ کرتے ہیں ،انہوں نے اس کورونا عفریت کی وبا سے نمٹنے میں کیا کردار ادا کیا…؟؟ عوامی خدمت کے ان دعوے داروں،عوام کے نام پر سیاست، لُوٹ مار اور عوام ہی کا استحصال کرنے والوں نے وبا سے نمٹنے یا عوام کی مدد کے لیےکون سا کارنامہ انجام دیا؟ جن لوگوں سے ووٹ مانگنے کے لیے گلی گلی ،بستی بستی اور محلّہ محلّہ گھومے، ترقیاتی کاموں کا غچہ دیا،ڈرامے کیے،کیا اُن میں سےکسی ایک کے بھی گھر تعزیت کے لیے گئے؟

کورونا کے باعث ان کے پیاروں کی موت پر ان سے دو بول ہم دردی کے بولے؟ لاک ڈاؤن کے مارے، معاشی تنگ دستی کے شکار افراد کی زندگیاں آسان بنانے کے لیے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اپنے غریب ووٹرز سے ’’سماجی فاصلہ‘‘ تو وہ پہلےہی 12 فٹ رکھتے تھے، لیکن کورونا کے خوف سے تو انہوں نے اپنے حلقۂ انتخاب میں جانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ان کے پاس ان غیراہم باتوں کے لیے وقت ہی نہیں ۔ اس مرتبہ عوام کی جانب سے بھی ایک اچھی روایت ڈالی گئی کہ کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ووٹنگ ٹرن اوور انتہائی کم رہا۔

جس کی وجہ شدید گرمی، کورونا کا خوف بھی ہو سکتا ہے، لیکن در حقیقت یہ اِن بے حِس سیاست دانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ مُلک بھر میں کورونا کے مریضوں سے اسپتال بَھرے پڑے ہیں، کیا کسی قابلِ ذکر سیاست دان نے ان اسپتالوں کا دَورہ کرکے مریضوں کو دی جانے والی علاج معالجےکی سہولتوں سے متعلق تفصیلات حاصل کیں؟ ممکن ہے چند صاحبِ دل ، ہم درد سیاست دان گئے ہوں اور انہوں نے اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے انتظامات کا جائزہ بھی لیا ہو، مگر ایسے سیاست دانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے۔ وگرنہ، بڑی تعداد کی ترجیح سیال کوٹ اور کراچی کے ضمنی انتخابات ہی تھے۔ ویسے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کورونا کے مکمل خاتمے تک مُلک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی جاتی اور قائدین اپنے رفقا اور کارکنوں کو اپنے اپنے حلقوں میں اس وبا سے متاثر ہونے والے لوگوں کی مدد کی ہدایات کرتے ،لیکن ان کے نزدیک ووٹر نہیں، ووٹ اور اقتدار اہم ہے۔ 

’’ووٹوں کا بندوبست تو بغیر ووٹر کے بھی ہو جاتا ہے‘‘ ایک طرف تو انسانیت اسپتالوں کے بیڈ زاور وینٹی لیٹرز پر سِسک رہی ہے، تو دوسری جانب ہمارے سیاست دانوں کی خودنمائی کا یہ عالم ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیش تر ارکان اپنی طرف ٹی وی کیمرے کا رُخ دیکھ کر ماسک ہی چہرے سے کھسکا کر ٹھوڑی پر لے آتے ہیں کہ لوگ چہرہ دیکھ سکیں اور بالخصوص تقریر کرتے وقت چہرہ صاف دکھائی دے۔ خودنمائی کے شوق کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وبائی شدّت کے باوجود کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا کہ سیاست دان ٹاک شوز میں نہ گئے ہوں اور بعض سیاست دان تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے ماسک پہننے کو درخورِاعتنا ہی نہ جانا اور ٹی وی پر بھی بغیر ماسک ہی نظر آئے۔

دنیا بھر میں کورونا کی بدترین وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کے جو واقعات، خبریں اور مناظر سامنے آئے ہیں، ان میں سب سے لرزہ خیز اور دل خراش حوالہ بھارت کے مختلف شہر اور بستیاں ہیں، جو انسانی خودغرضی اور بے حِسی کی عبرت ناک داستان بنی نظر آرہی ہیں۔ بے شمار واقعات میں ایسا بھی ہوا کہ کورونا کے شکار مریضوں کو جب سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج کا موقع اور وسیلہ نہ ملا، تو وہ اپنے مریض کی ہلاکت کا گھر ہی پر انتظار کرتےرہے۔ 

اسپتالوں میں زیرِ علاج اور وینٹی لیٹرزپر زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوئے مریضوں کے ورثا اپنے پیاروں کی ہلاکت سے پہلے ہی شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں کے باہر لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیںکہ آخری رسومات کےطویل انتظار میں لاش خراب نہ ہو جائے۔ شمشان گھاٹوں پر لاشیں جلانے اور اجتماعی قبریں کھودنے کا کام شب وروز جاری ہے اور لوگ اپنے پیاروں اور خونی رشتوں کی زندگی ہی میں ان کی آخری رسومات کے لیے ’’ایڈوانس بکنگ‘‘ کی خاطر مارے مارے پھررہے ہیں۔ دوسری جانب اس سے بڑھ کر بے حسی کیا ہوگی کہ اس عفریت کے شکارمتعداد افراد ایسے بھی تھے ،جنہیں شمشان گھاٹ تک پہنچانے والے ہی میّسر نہیں آئے۔ 

کہیں کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش آٹو رکشے میں رکھ کر، تو کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی کی لاش سائیکل پر لے جاتا نظر آیا اور پھر ایسے لا تعدادمناظر اور واقعات بھی دیکھنے میں آئے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کی ادائی یا انہیں کندھا تک دینے کو کوئی تیار نہ تھا۔ بوڑھی ماں اپنے بیٹے کی لاش اٹھائے منّتیں ،سماجتیں کرکے ہار گئی، تو بالآخر معاوضہ دے کرکاندھے میسّر آئے۔ ذرا سوچیں کہ کیسا خوف ناک دَور ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کو کندھا دینے سے بھی کترارہے ہیںکہ کہیں وہ خود وائرس سے متاثر نہ ہو جائیں۔ جب کہ دوسری طرف یہی لوگ کس قدرمالی مشکلات سے دوچار ہیں کہ وائرس کی پروا کیے بغیرمعاوضہ لے کر غیروں کو کندھا دینے، شمشان گھاٹ پہنچانے تک پر آمادہ ہو رہے ہیں۔

تاہم، اس صورتِ حال میں بھارتی مسلمانوں کو بھی سراہنا پڑے گا کہ جن کے جذبۂ انسانی، ہم دردی اور مذہبی تعلیمات کا اعتراف اور ستائش بھارتی میڈیا نے بھی کی کہ بھارتی میڈیا کے مطابق ’’ایسے حالات میں ،جب کورونا سے مرنےوالوں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ لے جانے اور ان کی آخری رسومات ادا کرنے میں مدد کرنے کے لیے ان کے قریبی رشتے دار تک تیار نہیں تھے ۔اس وقت مُلک کے مختلف شہروں سے مسلم نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں اور اب بھی دے رہے ہیں۔‘‘ مسلمان اجتماعی و انفرادی دونوں سطحوں پر یہ کام کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کی تعریف بھی ہو رہی ہے۔

تامل ناڈو کی ایک مسلم تنظیم کے سیکرٹری جنرل ،مجیب الرحمان نے بھارتی میڈیا کو اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ’’ گزشتہ برس ہم لوگ جب دہلی میں تبلیغی مرکز سے واپس لَوٹے ،تو ہم مسلمانوں کو وائرس پھیلانے والوں کے طور پر پیش کیا گیا ۔ہمیں اس منفی طرزِعمل سے بہت تکلیف ہوئی ، کیوں کہ ہمارے ساتھ مجرموں والا سلوک اور سخت نفرت کا اظہار کیا گیا، لیکن ہم نےاسلامی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نہ تو کوئی احتجاج کیا ،نہ ہی شکوہ ، شکایت ، بلکہ بلا تفریق انسانی خدمت سے تمام الزامات کا جواب دیا۔‘‘

بے حسی کی آخری حد....

قدرتی آفات اور جان لیوا وبائوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ زمانۂ قدیم میں تحقیق کے جدید ذرایع نہ ہونے کے باعث کسی بھی وبا کے بنیادی عوامل یامحرّکات کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا تھا، تو اس حوالے سے ضعیف الاعتقادی کے باعث طرح طرح کےجواز گھڑ لیے جاتے تھے ،لیکن عہدِ حاضر میں جب انسان چاند پر پہنچنے کا دعوے دار ہے، تو ترقّی کے نام پر ایک دوسرے کی تباہی کے لیے ایسا ایسا جدید اسلحہ بنا لیا ہے، جو چند منٹوں میں لاکھوں کی آبادی صفحۂ ہستی سے مٹا سکتا ہے، لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ ترقّی بھی شاید انسانوں کے ہلاکت کے ذرایع تیار کرنے کے لیے ہی ہوئی ہے کہ جتنا پیسا، دماغ، وقت اور ٹیکنالوجی اسلحہ سازی، بم وغیرہ بنانے میں استعمال ہوئی، اس قدر محنت و صلاحیت صحت کے میدان میں صرف نہ کی جا سکی۔ جس کی بڑی مثال حالیہ وبا، کورونا وائرس ہے، جسے Covid-19 کا نام دیا گیا ہے کہ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے دَور میں بھی ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس وبا کا منبع کون سا مُلک ہے۔ 

گو کہ ابتدا میں اس حوالے سے چِین کا نام لیا گیا، پھر بعض دیگر ممالک اور بھارت کا نام بھی سامنے آیا اور سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بہر حال،جان ہاپکنز یونی وَرسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ’’عالمی سطح پر اس وقت کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 15 کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ ہے، جب کہ اس عالمی وبا سے 31لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چُکی ہیں۔ ‘‘کورونا کے باعث دُنیا بھر کا معاشی اور سماجی نظام بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں سے لے کر چھوٹے کاروبار تک سب ہی اس کی زَد میں ہیں۔ 

ایک مستند ادارے کے سروے کے مطابق ’’کووِڈ -19کی وجہ سےآمدنی میں سب سے زیادہ کمی تھائی لینڈ میں دیکھی گئی ،جہاں لوگوں کی ماہانہ تن خواہ میں 76 فی صد تک کمی واقع ہوئی، جب کہ سب سے کم سوئٹزرلینڈ میں دیکھی گئی ،جہاں یہ تناسب صرف 10فی صد رہا۔ اس سروے میں یہ بھی رپورٹ ہوا کہ ’’کورونا وائرس سے عورتوں کے مقابلے میں مَرد زیادہ متاثر ہوئےاور وبا کے دوران دنیا کے ہر دوسرے شخص کی آمدنی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ۔‘‘ 

تاہم، اگر ترقّی پذیر ممالک کے حوالے سےبات کی جائے، تو پاکستان میں یقیناً 90 فی صد گھرانےاس وبا کے اثرات برداشت کررہے ہیں، لیکن اثرات صرف وائرس کا شکار ہونے والوں ہی پر نہیں پڑے، بلکہ جس طرح وبا کی آڑ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا، اس شقی القلبی اور سنگ دلانہ رویّوں کی تفصیلات بہت طویل ہیں۔ بے حِسی کی آخری حد تو یہ ہے کہ جان بچانے کے لیے آکسیجن کی ضرورت میں اضافہ ہوا، تو آکسیجن سلینڈرز مارکیٹ سے غائب کر دئیےگئےاور پھر وہی سلینڈرز دُگنی قیمتوں میں فروخت کیے جانے لگے۔ اس صورتِ حال میں عام افراد بھی خوف کے مارے ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر احتیاطاً دو سے تین سلینڈرز خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں۔ یعنی پہلے سلینڈر ز میں گیس بکتی تھی اور اب سلینڈرز بک رہے ہیں۔