آج اتوار ہے ۔ اپنے پیاروں سے ملنے۔ ان کی آنکھوں میں جھانکنے کا دن۔ ماہ رمضان کی برکتیں دیکھیں کہ اب اپنے بیٹوں بیٹیوں پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں سے افطار کے وقت روز ہی ملاقات ہورہی ہے۔ پہلے یہ موقع صرف اتوار کی دوپہر کوملتا تھا۔ آج 26واں روزہ ہے۔ رات 27ویں ۔ بہت ہی مقدس شب۔ جب رحمتوں برکتوں کا نزول ہوگا۔ 27رمضان اسلامی حوالے سے یوم آزادیٔ پاکستان بھی ہے۔ حکیم محمد سعید شہید تو عمر بھر ہمیں احساس دلاتے رہے کہ پاکستان 27رمضان کو بڑی قربانیوں جاں نثاریوں سے حاصل ہوا ہے۔ اس لیے یوم آزادی 27رمضان کو منایا جائے۔ آئیے آج ہم ایک دوسرے کو یوم آزادی کے پیغامات بھیجیں۔ ایس ایم ایس کریں۔ ٹویٹ کریں۔ فیس بک سے رابطہ کریں۔ حکیم محمد سعید کی روح بھی خوش ہوگی اور ان لاکھوں شہیدان وطن کی روحیں بھی۔ جو اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان آتے ہوئے سکھوں ہندوئوں کی سفاکی کا شکار ہوئے۔ ان جانبازوں کی بھی جو اس وطن کے دفاع کے لیے سرحدوں پر اپنے لہو کا نذرانہ دے گئے۔ اور وہ بھی جو انسانی حقوق جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کرگئے اور وہ ہزاروں بھی جو انتہا پسندوں دہشت گردوں کے بم دھماکوں‘ فائرنگ میں جاں سے گزر گئے۔
ہم اور آپ اپنی قوم کی ( آپ کہتے ہیں کہ ہم ابھی قوم بنے ہی نہیں۔ چلئے آپ کی بات مانتے ہوئے) اپنے ہم وطنوں کی کتنی برائیاں کرلیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستانیوں جیسے مخیر اور ملکوں میں نہیں ہیں۔سب سے زیادہ عطیات دینے والے دردمند لوگ۔ رمضان المبارک میں تو خیر کا یہ جذبہ اپنے شباب پر ہوتا ہے۔ اعداد و شُمار مختلف بتائے جارہے ہیں۔ مرکز برائے عطیات Pakistan Centre for Philanthropy کے مطابق پاکستانی سالانہ 240ارب روپے خیرات کرتے ہیں۔ لیکن ایک اور تحقیق یہ رقم 554 ارب روپے بتارہی ہے۔ ان میں بیشتر رقم اہل وطن اپنی مرضی سے مختلف اداروں‘ تنظیموں کو دیتے ہیں۔ ایک جائزہ یہ ہے کہ عطیات 67فیصد افراد کو دیے جاتے ہیں اور 33فیصد تنظیموں کو۔ اس مطالعے سے یہ بھی علم ہوا ہے کہ عطیات کا یہ رجحان 1980 کی دہائی سے زیادہ قوی ہوگیا ہے۔ کیونکہ ریاست خلق خدا کی کفالت سے دستبردار ہو کر دوسرے طبقوں کی سرپرستی میں مصروف ہوتی گئی۔ سرکار خلقت سے اپنا ہاتھ اٹھاتی رہی۔ غیر سرکاری تنظیمیں این جی اوز وجود میں آتی رہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق این جی اوز پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ ہر 2000 افراد کے لیے ایک این جی او۔ رمضان کے مبارک دنوں میں اخبارات اور چینلوں میں ان تنظیموں کی طرف سے زکوٰۃ اور عطیات کے لیے اپیلیں بہت شائع اور نشر ہوتی ہیں۔ عالمی ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ پسماندہ اور غریب ملک پاکستان دولت مند ملکوں سے کہیں زیادہ رقوم مستحقین کے لیے ایثار کرتا ہے۔
کورونا جیسی سفاک عالمگیر وبا نے افراد کو ہی نہیں ریاستوں کو محرومیوں میں مبتلا کردیا ہے صرف میڈیکل نہیں مالی بحران بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے پاکستانی پنجاب۔ جنوبی پنجاب۔ سندھ۔ خیبر پختونخوا۔ بلوچستان۔ آزاد جموں و کشمیر۔ گلگت بلتستان میں بہت متحرک رہے ہیں۔ صرف متمول طبقہ ہی نہیں۔ متوسط گھرانوں نے بھی بہت مدد کی ہے۔ خیراتی ادارہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ اربوں روپے بانٹ رہا ہو۔ یا ہزاروں۔ اس کے سربراہوں اور وابستہ مخیر خواتین و حضرات کے دل اور ذہن میں جذبہ ایک ہی ہوتا ہے۔ خیال ہم نفساں۔ Fellow Feeling۔ یہی وہ عظیم رجحان ہے جو معاشرے کو آپس میں مربوط رکھتا ہے۔ کتنی محنت ہوتی ہے۔ اصل مستحقین کو تلاش کرنا۔ ان کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی طاقت دینا۔ ایک سسٹم بنانا پڑتا ہے۔ ہر لمحہ کڑی نگرانی کہ کہیں کوئی گھپلا نہ ہو۔ کرپشن نہ ہو۔
رمضان کی ایک صبح ہی مجھے خیال آیا کہ ان تنظیموں اور اداروں کے محرک کتنے عظیم لوگ ہیں۔ وہ کس طرح مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ دُکھی انسانیت۔ محروموں۔ معذوروں کا کتنا درد رکھتے ہیں۔ ان کے دل کتنے کشادہ ہیں۔ یہ پُر خلوص ہستیاں کیا آپس میں کبھی ملتی ہیں۔ کبھی تبادلۂ خیال کرتی ہیں کہ انہیں اپنے مقاصد میں کتنی کامیابی ہوئی۔ کتنے علاقوں سے وہ بھوک ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کتنے ہم وطنوں کو خودکشی سے بچایا۔ کتنے بچوں کو بھکاری بننے سے روک سکے۔ کتنے ذہین نوجوانوں کو اپنی خوابوں کی تعبیر پانے میں مدد کرسکے۔ یہ اگر مل بیٹھیں تو اپنے وطن کا مستقبل مزید تابناک کرسکتے ہیں ۔اخوّت کے امجد ثاقب صاحب سے رابطہ ہوا۔ کچھ اور تنظیموں سے۔ یہی معلوم ہوا کہ ان عظیم پاکستانیوں کی ایسی کوئی انجمن نہیں ہے۔ جہاں یہ سال میں کم از کم ایک بار ہی ملتے ہوں۔
فیصل ایدھی 1800 سے زیادہ ایمبولینسوں چھ ہزار سے زیادہ رضاکاروں سمیت میدان عمل میں ہیں۔ دی سٹیزن فائونڈیشن 1202 اسکولوں سے پونے تین لاکھ طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں روشنی پھیلارہی ہے۔ انڈس اسپتال چار لاکھ سے زیادہ مریضوں کا مفت علاج کرچکا ہے۔ دو لاکھ سے زیادہ کا زکوٰۃ کے ذریعے۔ ایک لاکھ سے زیادہ بچوں کو بیماریوں سے نجات دلائی ہے ۔پروفیسر ادیب الحسن رضوی کی ایس یو آئی ٹی تو ان سب سے قدیم ہے۔ پھر الخدمت ہے۔ جن کی خدمات کا دائرہ صحرائوں پہاڑوں جنگلوں پورے پاکستان میں ہے۔ تعلیم بھی راشن بھی۔ بیوائوں اور یتیموں کی کفالت بھی۔ شوکت خانم کینسر اسپتال کی خدمات اور درد مندی بھی بہت وسیع ہے۔ اخوّت کی اسلامک مائیکرو فنانسنگ میں 50لاکھ سے زیادہ بلا سود قرضے ہیں۔35لاکھ خاندانوں کو با وقار مالی مقام دیا ہے۔ چھیپا فائونڈیشن ہے۔ عورت فائونڈیشن ۔ دارُالسکون۔ شاہد آفریدی فائونڈیشن۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اسپتال اور ادارے۔ سردار یاسین ملک ۔غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ۔ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز۔ ریڈ فائونڈیشن۔ عبدالحسیب خان۔ آغا خان فائونڈیشن۔ فاطمید فائونڈیشن۔ سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل۔ شہزاد رائے ۔ ابرار الحق۔ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ۔امن فائونڈیشن۔ سکھر بلڈ اینڈ ڈرگز ڈونیٹنگ سوسائٹی۔ اور بہت سی مقامی تنظیمیں۔ جو اپنے اپنے طور پر بہت خلوص اور ایمانداری سے کام کررہی ہیں۔ دینی مدارس کی ایک بڑی تعداد بچوں اور نوجوانوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دے رہی ہے۔ یہ ادارے اور تنظیمیں چلانے والے ہی اس ملک کو چلارہے ہیں۔ ورنہ ہم کالم نویس ۔ تجزیہ کار۔ سیاسی رہنما۔ سیاسی جماعتیں۔ تو ملک میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ لوگوں کو زندگی سے بیزار کرتے ہیں۔ صاحب دل اور درد مند ان اداروں کو دل کھول کر عطیات بھی دے رہے ہیں۔ میری ان سب سے درد مندانہ التجا ہے کہ اپنی ایک انجمن تشکیل دیں۔ سال میں کم از کم ایک بار ملیں۔ اپنے تاثرات کا تبادلہ کریں۔ آپ کے زریں خیالات اور عملی تجربات سے ملک میں حقیقی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ پاکستانیوں کو ایک سمت مل سکتی ہے۔ آمین ۔