جب خدا کی یاد کے لئے پکارا جاتا ہے تو انسان سوچتا ہے کہ کچھ دیر کام کر لوں۔ کچھ دن تک نماز شروع کروں گا۔ فرض کریں کہ آج آپ فوت ہو جاتے ہیں۔ خدا آپ سے یہ سوال کرتا ہے کہ اے میرے بندے، تو نے دنیا میں مجھے کتنا یاد کیا؟ اگر ہوا کوئی عقل لڑانے والا تو وہ کہے گا: یا ﷲ، تو نے مجھے وہ وقت دیا ہی نہیں، جس میں، میں تجھے یاد کر سکتا۔ زندگی کے پہلے سات آٹھ برس مجھے عقل ہی نہیں تھی۔ یہی حال آخری چند برسوں کا تھا۔ دنیا میں اپنا ایک تہائی وقت میں نے سوتے ہوئے گزارا کہ جسمانی ضرورت تھی۔ لڑکپن سے نوجوانی تک، روزانہ سات آٹھ دس گھنٹے میں نے وہ ہنر اور تعلیم حاصل کرتے ہوئے گزارے، جن سے دنیا میں میں اپنی بقا کی جنگ میں لڑ سکتا۔ دس اور سات ہو گئے سترہ گھنٹے۔ مہارت حاصل کر لینے کے بعد اتنا ہی وقت دفتر اور فیکٹری میں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے گزرا۔ باقی بچے سات گھنٹے، اس میں اپنی نوزائیدہ اولاد کو وقت دینا، بوڑھے ماں باپ کو اسپتال لے جانا، خود اپنی بیماری کے ایام، نہا دھو کر لباس پہننا ناخن کاٹنااور بال ترشوانا، رشتے داریاں نبھانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لینا۔ حساب دیتے دیتے آپ چوبیس کی بجائے پچیس گھنٹوں کا حساب دے ڈالتے ہیں اور داد طلب نظروں سے خدا کی طرف دیکھتے ہیں۔
عین اس موقع پر ایک اسکرین روشن ہوتی ہے۔ ایک مزدور سیمنٹ کی خالی بوری بچھا کر نماز پڑھ رہا ہے۔ آپ کے پاس کہنے کے لئے کیا بچے گا؟ قصہ مختصر یہ کہ جس نے خدا کو یاد کرنا ہے، وہ تنگدستی میں بھی کرے گا اور جس نے نہیں کرنا، وہ ارب پتی ہو کر بھی نہ کر سکے گا۔ باقی تفصیلات ہیں۔
پھر بھی یہ بات انسان کے دماغ سے اترتی نہیں کہ کس قدر مشکل ہے دنیا میں اپنی بقا کی جنگ۔ کس قدر سخت مقابلہ ہے انسانوں کے درمیان لیکن آپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے تمام انسانوں نے جو کچھ کھانا ہے، جو کچھ پینا ہے، جو کچھ اوڑھنا ہے، وہ زمین سے اگتا ہے۔ مٹی اور پانی اگا رہے ہیں، خدا کے حکم سے۔ جس شخص کے نصیب میں ﷲ نے نہیں لکھا، وہ صرف یہ نہیں کہ قحط سے مرے گا۔ ایسا بھی ہو گا کہ اس کے سامنے اشیائے خورونوش کے ڈھیر پڑے ہوں گے اور اس کا جسم، اس کی زبان کا بگڑا ہوا ذائقہ اسے اجازت ہی نہیں دے گا کہ کچھ کھا سکے۔ ڈاکٹر منع کر دیں گے۔ بےشمار امیر لوگ اپنے بچوں کی منتیں کرتے ہیں کہ کچھ کھالو، انہوں نے منہ پر تالا لگایا ہوتا ہے۔
ایک اور بہت بڑے راز کی بات ہے۔ اپنی زندگی میں جو جو خوراک آپ اپنے منہ میں ڈالتے ہیں، وہ دراصل آپ ہی کے جسم کا حصہ ہے لیکن دنیا میں اسے الگ سے اگایا گیا ہے۔ یہ خوراک، جو آپ کے جسم کا اٹوٹ حصہ ہے، ہر حال میں آپ کے جسم میں داخل ہو کر رہے گی۔ جیسے ہی آپ نے اپنی یہ خوراک پوری کر لی، اس کے ساتھ ہی آپ مر جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کھانے کی اپنی رفتار کم کر لیں تو آپ کی عمر بڑھ سکتی ہے۔ پانچ سال قبل نامور سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ شہد کی مکھیوں اور چوہوں کو کم خوراک دے کر ان کی عمر میں تقریباً دو گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسیار خور اور بہت زیادہ وزن رکھنے والے تقریباً سبھی لوگ جلدی مر جاتے ہیں۔خدا نے ہر چیز گن کر اگائی ہے۔ صرف انسان نہیں، ہر بندر نے کس درخت کا کون سا پھل کھانا ہے۔ ایک ایک چیز گنتی شدہ ہے۔ یوں ہر مخلوق کی خوراک کا بندوبست کرنے کے بعد خدا یہ کہتاہے کہ زمین میں کوئی ذی روح ایسا نہیں، جس کا رزق ﷲ کے ذمے نہ ہو اور وہ جانتاہے کہ وہ ( اس کرّۂ ارض پہ ) کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سونپا جائے گا (کس جگہ مرے گا)۔ خوردبینی جانداروں کی غذا بھی مقرر ہے اور اکثر وہ مرنے والے جانداروں بشمول انسان کی لاش کھاتے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوتا تو کرّۂ ارض اس وقت لاشوں سے اٹا ہوتا۔
جہاں تک رہا انسان کا یہ مغالطہ کہ میں بہت زیادہ محنت کر کے اپنے حالات بدل سکتا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا جسے دولت مند کرنا چاہے، اسے بغیر کوشش کے بھی کر سکتا ہے۔ عرب ممالک کی مثال آپ کے سامنے ہے، جن سے تیل نکل آیا۔ دوسری طرف جو لوگ بہت زیادہ محنت اور کوشش سے دولت مند ہوتے ہیں، ان میں بھی دولت مند ہونے کی بے قراری خدا کی طرف سے ان کے دماغ پہ نازل ہو رہی ہوتی ہے ۔یہ اصل میں فیزز ہوتے ہیں۔ انسان کو بہرحال سخت جدوجہد کرنی چاہئے لیکن یہ علم بھی ہونا چاہئے کہ جب انسان کا دولت مندی کا فیز ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنی تمام تر کوشش اور ذہانت کے باوجود غربت کا مزہ چکھ کے رہے گا۔ ایسا اگر نہ ہوتا تو کبھی کوئی دولت مند دوبارہ غریب نہ ہوتا۔ سوویت یونین، برطانیہ اور جرمنی جیسی سپرپاورز کبھی انہدام کا شکار نہ ہوتیں۔ قیامت کے دن خدا کو یہ بہرحال کوئی بھی نہ کہہ سکے گا کہ مجھے تو تیری یاد کے لئے وقت ہی نہیں ملا۔ حدیث یہ کہتی ہے کہ جو خدا کو یاد نہیں کرے گا، اس پر دنیاوی کاموں کی کثرت مسلط کر دی جائے گی اور سکون سے وہ محروم ہی رہے گا(مفہوم)۔