• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاجروں کی تعداد 80 لاکھ ہے تو ٹیکس گزار 25 لاکھ کیوں؟

اسلام آباد (حنیف خالد) ایف بی آر کے ایک سابق سینئر ممبر شاہد حسین اسد نے کہا ہے کہ تاجروں کی کل پاکستان تنظیموں کے یہ دعوے درست نہیں کہ ملک میں تاجروں کی تعداد 80لاکھ ہے۔ 

اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ تاجر لیڈروں کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر پاکستان میں ٹیکس گزاروں کی مجموعی تعداد 25لاکھ کیوں ہے؟

 شاہد حسین اسد نے کہا کہ 4لاکھ سالانہ آمدنی پر ٹیکس دینا لازمی ہے‘ اس طرح 33ہزار چار سو روپے ماہانہ کمانے والے تاجروں کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت سالانہ آمدن گوشوارے جمع کرانا لازمی ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ 25لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں میں اکثریت تنخواہ داہ طبقے کی ہے۔

 اس طرح 80لاکھ تاجر سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرا رہے یا اِن میں سے بمشکل چند لاکھ تاجر سالانہ آمدن گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ شاہد حسین اسد نے کہا کہ واقعی تاجروں کا معاشی قتل بند ہونا چاہئے بلکہ معاشی قتل تو کسی کا بھی نہیں ہونا چاہئے، تاجروں کا بھی نہیں لیکن یہ فیصلہ بھی ہونا چاہئے کہ تاجر کون ہے۔

یعنی تاجر کی تعریف کیا ہے؟ تاجر رہنمائوں کے دعوے کے مطابق وہ 80لاکھ تاجروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 

پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق جو شخص 4لاکھ روپے سالانہ یعنی تقریباً 33ہزار چار سو روپے ماہانہ سے زائد کماتا ہوں اس کا ٹیکس گزار ہونا ضروری ہے‘ لیکن پاکستان میں تو ٹیکس گزاروں کی مجموعی تعداد صرف 25لاکھ کے قریب ہے جن میں سے اکثریت تنخواہ دار ٹیکس گزاروں کی ہے۔

 انہیں تنخواہ ہی ٹیکس کٹوتی کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ تاجر رہنمائوں کے دعوے کے مطابق اگر 80لاکھ تاجر ٹیکس نہیں دیتے یعنی انکی سالانہ آمدنی 4لاکھ روپے یا ماہانہ آمدنی 33ہزار چار سو روپے سے بھی کم ہے تو پھر ایسے تاجروں کے لاک ڈائون سے کیسے اور کس کے معاشی قتل کا خطرہ ہے؟ 

کیا چند لاکھ ایسے تاجر جو ٹیکس بھی نہیں دیتے کیلئے 22کروڑ کی آبادی کی زندگیوں کو دائو پر لگا دیا ہے اور خدانخواستہ بھارت جیسی صورتحال پیدا کر دی جائے؟ 

ممبر ٹیکس شاہد حسین اسد نے تاجر رہنمائوں سے اپیل کی کہ اپنے تھوڑے سے فائدہ کیلئے عوام کی جانوں سے نہ کھیلیں۔ 

مرکزی اور صوبائی تاجر رہنمائوں کو چاہئے کہ اپنے پچھلے 3سال کے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس کی ادائیگی کی تفصیلات جاری کر دیں تاکہ عوام کو اُنکے معاشی قتل کا اندازہ ہوسکے۔

ملک بھر سے سے مزید