• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاجروں پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف انجمن تاجران کا آج ریلی نکالنے اور دھرنے کا اعلان

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے زبردستی دکانیں بند کرانے ، تاجروں پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف آج (پیر) کو ریلی نکالنے اور وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تاجروں کو چاند رات تک کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہےیہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پرحضرت علی اچکزئی ، یٰسین مینگل ، سید عبدالخالق آغا ، سید نعمت آغا ، حاجی جبار آغا ، وارث خان ، اتحاد تاجران کے صدر شاہ رضا ہزارہ اور دیگربھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی اپیل پر تاجروں نے8مئی کودکانین ،مارکیٹس کھول دیں اورسارا دن اپنا کاروبار جاری رکھا جس پر ہم انکے شکر گزار ہیں 9مئی کو حکومت ، ضلعی انتظامیہ ،ایف سی اور پولیس نے دکانیں اور مارکیٹیں کھولنے والے تاجروںپرلاٹھی چارج کیا اوردرجنوں تاجروں کو گرفتا ر کرکے کوئٹہ شہر کے مختلف تھانوں میں بند کردیا اور اور دکانیں ،مارکیٹس زبردستی بند کردی گئیں جس کی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار تاجروں کو فوری طور پررہا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال بھی رمضان المبارک کے دوران لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ حکومت کی جانب سے تاجروں کو بلا سود قرضے،بجلی اوردیگر یوٹیلٹی بلز میں رعایت دینے کے وعدے کئے گئے جووفا نہ ہوسکے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مکمل لاک ڈاون کا اعلان کردیا گیا جو تاجروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکومت نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کے دوران تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لئے بغیر ہفتہ میں 2 دن لاک ڈاون کا فیصلہ کیا جس پر تاجروں نے رضاکارانہ طور پر جمعرات اور جمعہ کو لاک ڈائون کیا جس کے بعد حکومت نے 8 سے 16 مئی تک صوبے میں مکمل لاک ڈاون کا اعلان کردیا جسے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے مسترد کردیا تھا کیونکہ یہ عید کا سیزن ہے تاجروں نے کروڑوں روپے کا سامان ادھار لے رکھا ہے اور رمضان المبارک کے آخری ایام میں ہم اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے زبردستی دکانیں بند کرانے ، تاجروں پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف آج (پیر) کو منان چوک سے صبح 10بجے ریلی نکالنے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم تاجروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مرکزی انجمن تاجران کے دھرنے میں بھر پور شرکت کریں یہ دھرنا اسوقت تک جاری رہے گا جب تک وزیراعلیٰ اور ضلعی انتظامیہ تاجروں کو چاند رات تک کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اگرانتظامیہ نے دھرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی تو حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
کوئٹہ سے مزید