• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی سفارتکار فوزیہ یونس کا اپنی والدہ زہرہ بیگم کو دلی خراج عقیدت

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برطانوی سفارتکار فوزیہ یونس نے اپنی والدہ زہرہ بیگم کو دلی خراج عقیدت پیش کیا ہے، جنہوں نےکوویڈ۔ 19 سے متاثر ہونے کے بعد اپنی جان گنوا دی۔ فوزیہ یونس اس وقت برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹر کمیونیکیشنز تعینات ہیں۔ قبل ازیں وہ فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) بشمول بنگلہ دیش اور سری نکا میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور وہ نمبر 10 ڈائوننگ اسٹریٹ میں بھی کام کر چکی ہیں۔ ان کی والدہ زہرہ بیگم کا انتقال جنوری 2021 کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ہوا اور اس سے قبل تین ماہ تک ہسپتال میں داخل رہیں۔ ٹوئٹر پر فوزیہ یونس نے نو بیاہتا دلہن کی حیثیت سے اپنی والدہ کا سفر شیئر کیا جو انہوں نے شوہر سے ملنے کے لئے پاکستان سے برطانیہ کے لئے کیا تھا۔ 18 سال کی عمر میں وہ فروری (1977) کی سردیوں میں برطانیہ پہنچیں، وہ نئی شادی شدہ اور بہ یک وقت امید و پریشانی کے عالم میں تھیں۔ برف میں پہلی بار پھسلنے سے انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ انہیں اپنےجوتوں میں نوکدار ہیل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ فوزیہ نے ٹویٹر پر اپنی والدہ کے برطانیہ میں ہونے والے پہلے تجربات کے بارے میں ٹوئٹر پر کہا کہ ان کا پہلا گھر میری خالہ کا دو بیڈ والا گھر تھا جس میں ان کے 4 بچے، دادا، والد اور والدہ بھی رہتے تھے۔ فوزیہ نے بتایا کہ کس طرح ان کی والدہ کو کبھی بھی سکول نہیں بھیجا گیا تھا اور وہ اپنے اہل خانہ کو خط نہیں لکھ سکتی تھیں لیکن اس کے بجائے وہ واٹس ایپ پر سکون محسوس کرنے سے پہلے اپنی آواز ریکارڈ کرنے کے لئے کیسٹ استعمال کرتی تھیں۔ ماں نے اپنے آپ کو فیملی اور کمیونٹی کے لئے وقف کردیا تھا۔ ان کے ہاتھ سے بنائے ہوئے سموسے سب سے پہلے سکول کے میلوں میں جاتے تھے، کپڑے سلائی کر کے اضافی رقم اکٹھا کرتی تھیں، انہوں نے میرے دادا کی دیکھ بھال کی، جو دل کے دورے کے بعد شدید معذورہوگئے تھے۔ فوزیہ نے اپنی والدہ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر کام ہنستے مسکراتے ہوئے کرتی تھیں۔ زہرہ بیگم لڑکیوں کی تعلیم کی سخت حامی تھیں، جنہوں نے کامیابی کے ساتھ چار بچوں کی پرورش کی۔ ان کے بچوں میں ایوارڈ یافتہ وکیل، ایک تاجر، ایک کل وقتی سفارتکار شامل ہے۔سفارت کار نے بتایا کہ ان کی والدہ کو متعدد شکلوں میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اسے اپنے راستے میں آنے نہیں دیا کیوں کہ وہ مثبت سوچ اور استقامت پر یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر کے دروازے پر انڈے پھینکےگئے اور ہماری جلد کی رنگت کے بارے میں تبصرے ہوئے۔ وہ ہمیں کہا کرتی تھی کہ ہم جو معیار طے کرتے ہیں اسی پر قائم رہنا ہے۔ بھائیوں اور بہنوں کی حیثیت سے آپ کو اپنی جلد کےرنگ کی وضاحت نہیں کرنی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے خاص طور پر نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا کی مخالفت کی، وہ اپنی ہی برادری کے اندر سے جنس پرستی کے خلاف لڑیں۔ اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے فوزیہ نے کہا کہ میری ماں ان خواتین کی نسل سے تھیں جو برطانیہ کی آئندہ نسلوں کو پالنے کے لئے اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں، جو اب زندگی کے ہر شعبے میں فرق پیدا کررہی ہیں۔ ان کی کہانیاں اکثر نہیں بتائی جاتی ہیں، ان کی آواز اب گفتگو سے محروم ہے۔ ماں ہم آپ کے مقروض ہیں، آپ کا شکریہ۔
یورپ سے سے مزید