• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خواجہ محمد سلیمان۔۔۔ برمنگھم
آ ج دنیا میں مسلمان مختلف مسلکوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، جن کی ایک لمبی داستان ہے، میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان کے اندر کس طرح اتحاد پیدا ہو اور یہ پھر ایک امت ہو کر دنیا میں عزت کا مقام حاصل کریں، دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی ہیں اور یہ کئی صدیوں سے موجود ہیں، اب ان کے درمیان کیا اتحاد پیدا ہو سکتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ذات اور محمد ﷺ کی رسالت پر یقین رکھتے ہیں، اختلاف خلافت پر ہے، شعیوں کے نزدیک خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وراثت ہے جب کہ سنی یہ کہتے ہیں کہ خلافت کا حق دار کوئی بھی ہو سکتا ہے، اب اس بات کا فیصلہ کرنا خاصا دشوار ہے کیونکہ صدیوں سے ان دونوں گروہوں نے اپنے راستے جد ا کر لئے ہیں، اتحا د کی کوششیں ہوئی ہیں لیکن معاملات دور تک چلے گئے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید اپنی اصلی حالت میں موجود ہے، ظاہر ہے کہ اس کی تعلیم دائمی ہے لیکن اس تعلیم کو ہر گروہ اپنی اپنی مرضی کی تعبیرات دیتا ہے، ایک آیت شیعہ پڑھیں گے وہ اس کو اپنا معنی اور مطلب دیں گے وہی آیت سنی پڑھیں گے وہ اس کو اپنا مطلب دیں گے، اس کتاب کے معلم نبیﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں، ہاں انہوں نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ میں امت کی ہدایت کے لئے اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جا رہا ہوں اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو، تم گمراہ نہیں ہوگے لیکن سنت کے حوالے سے بھی شیعہ سنی میں اختلافات ہیں، اختلافات اسی وقت دور ہو سکتے ہیں جب دونوں گرو ہ ایمانداری سے ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش کریں اور جن باتوں پر اتحاد ہو سکتا ہے، ان پر اتحاد کریں اور جن پر نہیں ہو سکتا اس کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑیں کہ وہی قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کہ کون حق پر تھا، اس وقت شیعہ سنی میں اتحاد اس لئے ضروری ہے کہ سارا کفر مسلمانوں کو دنیا سے مٹانے کے لئے متحد ہے، مثلاً بھارت کے ہندو اور اسرائیل کے یہودی میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے، ایک خدا پرست ہے اور دوسرا بت پرست لیکن اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے نئے حربے سب اسرائیل کے سکھلائے ہوئے ہیں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ فوجی تعاون کر رہے ہیں ،اسرائیل بھارت کو فوجی سازوسامان دے رہاہے، اسرائیلی لابی امریکہ کو ایران پر حملے کے لئے اکسارہی ہے، ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل کو کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے، ادھر سنی عرب ایران سے خوف زدہ ہو کر امریکہ کا آلہ کار بن رہا ہے، اب امریکہ عربوں کا کتنا ہمدرد ہے جس نے ہمیشہ اسرئیل کی پشت پناہی کی ہے، ان حالات میں مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ مسلمان مسلمان کا دشمن نہیں ہے بلکہ دشمن وہ کفر کی طاقتیں ہیں جو اسلام کے عادلانہ نظام سے خوفزدہ ہیں اور ان کی کوشش یہی ہے کہ مسلم امت ایک نہ ہو جائے اور پھر ان کے سامراجی عزائم کے لئے چیلنج نہ بن جائے۔
یورپ سے سے مزید