• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلسطین میںگزشتہ کئی روز سے قیامتِ صغریٰ بپا ہے اور اسرائیلی فورسز نے رمضان المبارک اور عید کے دوران بھی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھا جس میں اب تک 100سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کی پوری دنیا مذمت کررہی ہے لیکن اسرائیلی وحشیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی درندوں کے مظالم سے پھول جیسے معصوم بچے اور کلیوں جیسی ننھی بچیاں بھی محفوظ نہ رہ سکیں حالانکہ مسلّمہ جنگی اصول و قواعد کے مطابق بچوں، بوڑھوں اور معذوروں پر ہاتھ نہیں اُٹھایا جاتا لیکن ’’انصاف کے علمبردار‘‘ امریکہ کے ’’لے پالک‘‘ اسرائیلی غنڈوں نے فلسطینی بچوں کو بھی خاک وخون میں تڑپادیا ہے۔ میں رات انٹرنیٹ پر ان بچوں اور بچیوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ ہر تصویر ایسی تھی کہ وہ خون کے آنسو رونے پر مجبور کرتی تھی۔ آئیے! میں آپ کو فلسطینی مائوں کے پارہ پارہ چند جگر گوشوں کی داستانیں سناتا ہوں۔یہ گورا چٹا، گول مٹول حماد نامی خوبصورت بچہ ہے۔ یہ اپنے والد کے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ راستے میں ہی ’’درندوں‘‘ نے انہیں نوچ ڈالا۔ اس کا والد اسے کاندھوں پر اُٹھائے بے بسی کی حالت میں گھر پہنچا تو اس کے گھر پہلے ہی صفِ ماتم بچھی تھی کیونکہ اس کی بہن اسکول سے واپس آرہی تھی کہ اسرائیلی ٹینکوں نے بارود کی بارش شروع کردی، ننھی کلی کا خون کتابوں پر پڑا تھا اور خون آلود کتابوں سے غم زدہ الفاظ ’’عالمی ضمیر‘‘ کو جھنجھوڑتے ہوئے کہہ رہے تھے: مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟ کیا ایوبی کے فرزند میرا حساب لیں گے؟یہ عبدالصمد ہے۔ گلی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک اسرائیلی ٹینک نمودار ہوئے۔ مجاہدین کو تلاش کرتے رہے جب کوئی نظر نہ آیا تو جاتے جاتے بارود کے گولے ان بچوں پر ہی برساگئے۔ عبدالصمد شہید ہوگیا اور اس کے ساتھی شدید زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے زخمی ہونے والوں کو اُٹھایا اور ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جارہے تھے کہ اسرائیلی وحشیوں نے فضائی بمباری کی جس سے ایمبولینس زخمیوں سمیت ملبے کا ڈھیر ہوگئی۔ کہاں ہیں حقوقِ انسانی کے علمبردار؟ کیا ان کو یہ قیامت نظر نہیں آتی؟یہ عادل نامی بچہ ہے۔ یہ اپنے نرم وگداز بستر پر میٹھی نیند سورہا تھا۔ جب اس کو بھوک لگتی تو پائوں مارنے کے ساتھ ساتھ رونا بھی شروع کردیتا۔ اس کی ماں کی ممتا اسے گود میں اُٹھاتی، سینے سے چمٹا کر دودھ پلاتی اور جہادی ترانوں کی لوریاں دیتے ہوئے سلادیتی کیونکہ یہ عظیم ماں اس بچے کی پرورش اس نیت سے کررہی تھی کہ یہ بڑا ہوکر اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرے گا اور ’’قبلۂ اول‘‘ کو یہودکے منحوس اور زہریلے پنجے سے آزاد کروائے گا۔ اس نے عادل کو ایک دفعہ پھر نرم وملائم گدے پر لٹایا اور خود تہجد کی نماز کی تیاری کرنے لگی۔ وہ نمازِ تہجد میں مصروف تھیں کہ ایک زوردار دھماکا ہوا، گھر کے صحن میں ہل چل مچی اور چند لمحوں کے بعد یہ گھر ماں بچے سمیت مٹی کا ڈھیر بن گیا… کہاں ہیں اقوامِ متحدہ کے منصف؟ اب ان کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟یہ غزہ سے تعلق رکھنے والا حسین نامی بچہ ہے۔ اس کا والد اسرائیلی مظالم کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس کی ماں اپنے صحن میں کپڑے سکھارہی تھی کہ ایک میزائل نے اس کاکام تمام کردیا۔ حسین نے اپنی ماں کو جگانے کی کوشش تو بہت کی لیکن ناکام رہا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد حسین کے پڑوسیوں نے اس کی ماں کو دفن کردیا۔ کیا مجال ہے کہ حسین کی آنکھوں سے آنسوئوں کا کوئی قطرہ بھی نکلا ہو۔ باہمت بچے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں کیونکہ ان کی گھٹی میں ہی یہ پڑا ہوتا ہے۔ یہ دیکھیں چھ سالہ حسین جس نے جھولی پتھروں سے بھری ہوئی ہے اور بکتر بند گاڑیوں کو مار مار کر ’’القدس‘‘ کا تحفظ کررہا ہے۔ کاش! عالمِ اسلام کے حکمران اس بچے ہی سےسبق سیکھ لیں۔یہ دس سالہ محمود ہے۔ اسکول میں پڑھتا ہے۔ دوپہر کو اسکول سے واپس آیا تو اس کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ یہاں اس کو میزائلوں کے چند ٹکڑے ملے۔ یہ اسے اُٹھاکر جمع کررہا تھا کہ ایک صحافی تصویرکشی کی غرض سے وہاں پہنچ گیا۔ اس نے محمود کو سلام کیا اور اس کے ساتھ اس کے گھر کی باقیات پر بیٹھ گیا۔ محمود کو اپنی پیاری امی اور چھوٹے بہن بھائی کی یاد ستارہی تھی لیکن وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بس بے خیالی میں آنسو تھے کہ اس کی موٹی موٹی آنکھوں سے سرخ گالوں پر بہے جارہے تھے۔ صحافی نے اس کو پیار کیا اور پھر بے خود ہوکر روپڑا…میں سوچتا ہوں کہ نجانے کتنے محمود، حسین، حماد، عبدالصمد، حنیفہ اور خولہ جیسے بچے اور بچیاں ہوں گی جو اپنے اپنے والدین اور پیاروں کو فلسطین کی ویران گلیوں میں تلاش کررہے ہوں گے لیکن جب انہیں کوئی نظر نہ آئے گا تو پھر وہ سراپا انتقام بن کر مجاہدین کے لشکر میں شامل ہوکر ایک نہ ایک دن اس معرکے کو سر کرجائیں گے۔ اے کاش! عالمِ اسلام کے حکمران ان بچوں جتنی، جو شہدا کی تصاویر اٹھائے سراپا احتجاج ہیں، ہمت ہی کرلیں لیکن شاید 56 اسلامی ممالک کے حکمران ’’نیرو‘‘ والا کردار دہرانا چاہتے ہیںکہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو آرام سے بانسری بجارہا تھا۔ آج قبلۂ اول جل رہا ہے اور ہمارے اہل حل وعقد اس بات پر بحث کررہے ہیں کہ اسرائیل کے حرام وجود کو تسلیم کیا جائے یا نہیں؟ آج 35 بےگناہ فلسطینیوں کی بے گوروکفن لاشیں 56 اسلامی ممالک کے ایک ارب 47 کروڑ سے زائد مسلمانوں سے سوال کرتی ہیں کیا اب بھی اسرائیل کو عالمی دہشت گرد اور مجرم قرار نہیں دیا جائے گا؟آج ایک مرتبہ پھر فلسطین لہو لہوہے اور ہم شرمندہ شرمندہ سے ہیں!

تازہ ترین