• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بحیرہ عرب میں ممکنہ طوفان سندھ حکومت اور بلدیاتی ادارے زبانی جمع خرچ میں مصروف


سمندری طوفان سے سندھ کے ساحلی پٹی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، محکمہ بلدیات اور ماتحت اداروں نے زبانی خرچ کے ذریعے معاملات خوش اصلوبی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ممکنہ سمندری طوفان کے پیش نظر سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات تیاریاں مکمل کرنے کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے تمام بلڈرز کو کرینز ہٹانے کا کہہ دیا ہے لیکن وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اطراف بننے والی بلڈنگز سے اب تک کرینز نہیں ہٹائی جاسکی ہیں۔

ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز نے تمام بل بورڈز ہٹانے کا کہا جو صرف بیان بازی تک تو ممکن ہو پایا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔

کراچی واٹر بورڈ نے دو ہیلپ لائن کے نمبرز دیے، انہیں ڈائل کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ نمبر دستیاب ہی نہیں۔

پی ڈی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ منظور کالونی نالہ۔ گجر اور اورنگی نالے سے دو لاکھ ٹن سے زائد کچرا نکالا لیکن آج کی صورتحال بھی کچھ اور ہی قصہ سنا رہی تھی۔

کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈی ایچ اے کی انتظامیہ نے بھی پریس ریلیز جاری کرکے اپنے آپ کو بری الزماں قرار دے ڈالا ہے۔

رہی بات سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات کی تو صفائی کا انہیں ہمیشہ بارشوں اور قدرتی آفات سے قبل یاد آتا ہے، کروڑوں کا بجٹ بھی استعمال ہوجائے گا اور نتیجہ بھی نہیں نکلے گا۔

قومی خبریں سے مزید