• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برِصغیر پاک و ہند کی فلم انڈسٹری پر اگر نظر ڈالی جائے، تو یہاں پر بننے والی زیادہ تر فلموں میں رومانس اور ڈرامائی انداز کو ہر دور میں اہمیت دی گئی، یہ محبت کے موضوعات پر بننے والی فلمیں بار بار دہرائی بھی گئیں، اس کے باوجود بھی عوام الناس میں مقبول و پسند کی گئیں، تو اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی دل نواز موسیقی کو کہا جاسکتا ہے۔ بار بار ایک ہی موضوع پر بنائی جانے والی یہ فلمیں اپنے سدا بہار گانوں کی وجہ سے بے حد کام یاب رہیں۔ پاکستان اور بھارت میں کچھ رومانی فلمیں ہالی وڈ کی فلموں سے متاثر ہو کر ہی بنائی گئیں۔ 

آج ایک ایسی ہی فلم کو موضوع تحریر بنایا گیا ہے، یہ فلم 1969 میں ’’تم ملے پیار ملا‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی، ایشین فلمز کے بینر تلے بننے والی اس خُوب صورت رومانی، نغماتی اور ایڈونچر فلم میں زیبا اور محمد علی نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم کے پروڈیوسر قدیر خان اور محبوب خان تھے، جب کہ اقبال یوسف فلم کے ہدایت کار تھے۔ 

اقبال یوسف جو جاسوسی اور ایکشن فلموں کے حوالے سے اپنا ایک خاص تعارف رکھتے تھے، فم رات کے راہی، زمانہ کیا کہے گا، دال میں کالا، نیلہ پہ دہلہ جیسی جاسوسی فلمیں ان کے کریڈیٹ پر ہیں، ’’تم ملے پیار ملا‘‘ ان کی دیگر فلموں سے بے حد مختلف فلم تھی، جس کے مصنف ذاکر حسین تھے، یہ ایک ایسی کہانی پر مبنی فلم تھی، جو 1934 میں امریکا میں It Hapened One Night کے نام سے بنائی گئی۔ یہ رومانی کامیڈی ٹائپ مووی تھی۔

یہ فلم ایک ناول ’’Night Bus‘‘ سے ماخوذ تھی۔ اس کہانی کو ہالی وڈ میں 1985 میں ’’The Sure Thing‘‘ کے نام سے بنایا۔ اس فلم کا موضوع بنایا گیا۔نامور اداکار راج کپور اور نرگس نے 1956 میں فلم ’’چوری چوری‘‘ میں اپنی اداکاری سے فلم بینوں سے خوب داد پائی۔ یہ فلم اسی انگریزی فلم سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی، بھارتی فلم ’’چوری چوری‘‘ اپنے سپرہٹ میوزک اور منظر نامے کی وجہ سے ایک سدا بہار رومانی کامیڈی فلم ثابت ہوئی۔1965 میں اقبال یوسف نے اس انگریزی لواسٹوری کامیڈی کہانی پر کام شروع کر دیا تھا، اس وقت ان کے ذہن میں ہیرو کے کردار میں اداکار کمال کا نام تھا، اس زمانے میں کمال اور زیبا کی جوڑی ہٹ ہوئی تھی ، لیکن بعد میں محمد علی اور زیبا کو لےکر یہ فلم انہوں نے مکمل کی۔ 

اس فلم کی تکمیل میں چار سال کا عرصہ لگا، کچھ عرصے تک فلم کا تمام کام بند ہوگیا، اس دوران فلم کا بہت کم کام فلمایا گیا۔ 1966 میں جب محمد علی اور زیبا کی شادی ہوئی تو اس فلم میں وہ کام کر رہے تھے، ایسٹرن اسٹوڈیو میں اس فلم کی فلم بندی ہو رہی تھی۔ موسیقار ناشاد نے اس فلم کے تمام نغمات کو اپنے سُریلے اور رسیلے سازوں سے اس قدر خُوب صورتی سے کمپوز کیا کہ فلم کے گیت اس دور میں جگہ جگہ سنائی دیتے تھے۔ خاص طور پر احمد رشدی کا گایا ہوا یہ عوامی گیت ’’گوری کے سر پہ سج کے، سہرے کے پھول کھلیں گے تم ملے پیار ملا رہے‘‘ کی مقبولیت سب سے آگے رہی۔ 

اس گیت میں نغمہ نگار تسلیم فاضلی نے علی زیب کی شادی پر ایک خوش نما اور نہایت ہی دل کش نغمہ لکھاتھا، جو محمد علی نے اس خوش اور دل کشی سے فلمایا کہ ان کے چہرے پر زیبا کے ملنے کی خوشیاں نمایاں طور پر عیاں نظر آتی ہیں۔ فلم کے دیگر نغمات میں بے حد اعلیٰ اور عمدہ تھے، جس میں ’’آپ کو بھول جائیں ہم‘‘ (نورجہاں، مہدی حسن) ’’اپنے پہلو میں میرے دل کو مچل جانے دو‘‘ (نور جہاں، منیر حسین) ’’مجھ کو الفت میں نہیں مجھ کو عداوت میں سہی‘‘ (مجیب عالم) ’’یہ حسین وادیاں یہ سماں‘‘ (آئرن پروین کورس) یہ دلکش نغمات اس فلم میں شامل تھے۔

فلم مکمل ہو کر 1969 میں کراچی کے لیرک سنیما میں ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ثابت ہوئی، فلم کی مختصر کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک دولت مند نواب نے اپنی بیٹی کو بچپن سے مغربی ماحول سے متاثر ہو کر اس کی پرورش کی۔ بچی کی ماں ان کی کم عمری میں انتقال کر چکی ہوتی ہے۔ ماں نے بچی کی اچھی اور مشرقی تربیت کے لیے اپنی وفادار ملازمہ کو وصیت کی، لیکن بیگم کی وفات کے بعد نواب صاحب نے ملازمہ اور اس کے معصوم بیٹے سے ایسا امتیازی سلوک کیا کہ وہ گھر و بنگلے کو چھوڑ کر جھونپڑے میں رہنے لگے۔ بچی مغربی تہذیب میں پل کر خودسر اور ضدی ہو گئی، جوان ہوئی تو نواب صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔ نواب نے اس کی شادی اپنی مرضی سے طے کرنے کا ارادہ کیا، تو بیٹی اپنی ضد میں آکر گھر چھوڑ کر بھاگ گئی، نواب نے اخبار میں بیٹی کی گمشدگی کا اشتہار دے دیا۔ 

لڑکی بھاگ کر ایک انجانے سفر کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک نوجوان کہانی نویس سے ہوجاتی ہے، جو باتوں باتوں میں لڑکی کے بارے وہ سب کچھ جان لیتا ہے، جو وہ اس سے چھپا رہی ہوتی ہے۔ نوجوان اس لڑکی کی بھر پور مدد بھی کرتا ہے، اس سفر میں لڑکی کے ساتھ مختلف دل چسپ اور خطرناک واقعات بھی رونما ہوتے ہیں، جس میں نوجوان اس کی بھر پور مدد کرتا ہے۔ یہ وہی نوجوان ہوتا ہے، جسے بچپن میں اس کے باپ نے اس کی ماں کے ساتھ نکال دیا تھا۔ یہ لڑکی جس کا نام رخشی ہوتا ہے، اس نوجوان کی مدد سے اپنے عیار اور لالچی دوست حنیف کے پاس جب پہنچتی ہے، تو اسے حنیف کی حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے اور پھر وہ اپنی گھر سے بھاگنے والی غلطی پر شرمندہ ہو کر اپنے ڈیڈی کے پاس آتی ہے اور اس مددگار نوجوان کا بتاتی ہے۔ نوجوان اس لڑکی کی کہانی لکھ کر ایک اخبار میں دینا چاہتا ہے۔

نواب صاحب نوجوان سے ملتے، اس کے گھر جاتا ہے تو اس کی ماں کودیکھ کر جان جاتا ہے کہ یہ اس کی اسی ملازمہ کا بیٹا ہے، جو اس کی مروجہ بیگم کو بے حد عزیز تھی۔ بالاخر رخشی کو اس کہانی نویس سے محبت ہو جاتی ہے اور پھر آخر دونوں کا ملاپ ہو جاتا ہے، ان دونوں کا ملاپ کرنے میں اقبال کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اس فلم میں زیبا اور محمد علی کے بعد اقبال یوسف، آزاد اور سنوش رمل کے کردار بہت اہم تھے۔ آزاد نے زیبا کے دولت مند باپ کا کردار کیا تھا، جب کہ اقبال یوسف نے مزاحیہ انداز میں زیبا کے کزن کا کردار ادا کیا۔ اداکارہ سنوش رمل نے محمد علی کی ماں کا رول کیا۔

دیگر اداکاروں میں رنگیلا، حنیف، فیضی، رنگیلا، نومی، سمعیہ ناز، ساقی، ارسلان، ناز بیگم، ساری، شیدامام، مہتاب بانو، نگو، عابدہ کے نام شامل تھے۔ اقبال یوسف نے اس ڈگر سے ہٹ کر ایک دل چسپ رومانی کامیڈی فلم بنانے میں جو محنت کی، وہ ان کی بہترین ڈائریکشن کی وجہ سے کام یاب رہی۔ 

ڈائریکشن کے بعد موسقی کے شعبہ میں ناشاد صاحب نے کمال کی دھنیں بنائیں اور ان پر تسلیم فاضل کے لکھے ہوئے گیت بے حد مقبول ہوئے۔ فلم کی آئوٹ ڈور اور ان ڈور فوٹو گرافی میں کامران مرزا، نبی احمد اور محبوب علی نے بھی اپنے شعبے میں بہت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ آج بھی’’تم ملے پیار ملا‘‘ علی زیب کی ایک خوب صورت، نعماتی اور کام یاب فلم کا درجہ رکھتی ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید