• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علم سیکھنے اور سکھانے کا عمل صدیوں سے جاری ہے۔ ہمیں تایخ میں کئی مسلمان سائنسدانوں کے نام نمایاں نظرآتے ہیں، جن کی تمام دنیامعترف ہے، ان میں محمد بن موسیٰ الخوارزمی، ابن سینا، عمر خیام، البیرونی، ابن خلدون اور ابن الہیثم قابلِ ذکر ہیں۔ تعلیم، نظام زندگی کا احاطہ کرتی ہے، ساتھ ہی معاشرے میں شعور اُجاگر کرنے اور بچوں کی اچھی تربیت میں بھی معاون ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کی شرح خواندگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال وفاقی وزارت تعلیم نے شرح خواندگی کے حوالے سے 10سالہ رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق پاکستان خطے کے 9ممالک میں صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں شرح خواندگی 57فیصد ہے۔

عام طور سے دینی اور دنیاوی تعلیم کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، دونوں کی ہی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ ہمارے یہاں مدرسوں میں رائج نظامِ تعلیم کے علاوہ جو دوسرا نظامِ تعلیم ہے، اس کے بھی دو معیارِ ہیں۔ ایک وہ جو سرکاری اسکولوں میں نظر آتا ہے اور دوسرا پرائیویٹ اسکولوں میں۔ سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم کا حال اتنا فرسودہ ہے کہ نہ وہاں قابل اساتذہ ہیں اور نہ ہی اعلیٰ تعلیمی نصاب، سالہا سال پرانا نصاب آج بھی بچوں کو پڑھایا جارہا ہے جبکہ دیگر بنیادی سہولتوں کابھی فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صاحب حیثیت نہیں، وہ بھی اپنے بچوں کو پرائیو یٹ اسکولوں میں تعلیم دلوانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں، چاہے اس کیلئے انھیں اپنا پیٹ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے۔

دوسری جانب پرائیویٹ اسکولوں میں بھی دو طرح کے نصاب پڑھائے جاتے ہیں، ایک تو صوبائی نظامِ تعلیم کے تحت ہوتا ہے اور دوسرا کیمبرج سسٹم کے تحت۔ سندھ کی سطح پر بات کی جائے تو یہاں اب بھی سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی وہ کتابیں پڑھائی جارہی ہیں جو آج سے کئی دہائی پہلے بھی پڑھائی جارہی تھیں۔ ایسے میں والدین اپنے بچوں کو کیمبرج سسٹم کے تحت تعلیم دلوانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ان کا بچہ کچھ سیکھ سکے۔

بچے کو ابتدا میں گھر سے ہی تعلیم ملتی ہے، جو اس کی بنیاد بناتی ہے۔ اس کے بعد بچے کو اسکول میں داخل کروادیا جاتا ہے، جہاں وہ کنڈر گارٹن یا نرسری سے آغاز کرتا ہوا پانچویں جماعت تک پرائمری سطح کی تعلیم مکمل کرتا ہے۔ پرائمری تعلیم کسی بھی بچے کی شخصیت اور شعور کےلیے بہت اہم ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچے بہت متجسس ہوتے ہیں۔ لہٰذاان کے تجسس کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنی چاہیے۔ 

دنیا بھر میں پرائمری تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہی بچے کی بنیاد(Base)بناتی ہے اور ایک بار اگر بنیاد مضبوط پڑگئی تو اس پر عمارت کھڑی کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے طریقہ کار، سہولتوں اور اساتذہ کے انتخاب تک ہر مرحلے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارا جاسکے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت پاکستان نے اقوامِ متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2030ء تک اپنے ہر بچے کو لازمی بنیادوں پر معیاری پرائمری تعلیم فراہم کرے گا۔

مستقبل کے لیے کسی بھی طالب علم کی سمت متعین کرنے میں ثانوی تعلیم کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اور عملی زندگی میں بچوں کوSTEM(سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس) ایجوکیشن میں مہارت دِلوائیں۔ اس حوالے سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں اُبھریں۔ 

تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ جن بچوں میں ماحول کو سمجھنے کی بہتر صلاحیتیں ہوتی ہیں، وہ STEMلرننگ میں دیگر بچوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔STEM وہ مہارتیں ہیں جو بچوں کو مستقبل میں نت نئی ایجادات اور آئیڈیاز پیش کرنے میں مدد کریں گی اور ملک کو نئے موجد، انٹرپرینیورز، لیڈرز اور کارآمد شہری ملیں گے، جو ملک وقوم کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔

عالمگیریت اور مسابقت کے اس دور میں ہرکوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، بائیومیٹرکس، مشین لرننگ آٹومیشن، فوڈ سائنسز اور دیگر تکنیکی تعلیم پر بڑا کام ہورہا ہے۔ طالب علموں کو چاہیے کہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے لیے روایتی شعبوں سے ہٹ کر کسی ایسے شعبے میں تعلیم حاصل کریں، جن کی مستقبل میں مانگ اور روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہوں۔ بہت سی مقامی یونیورسٹیاں بھی ایسے بیچلرز اور ماسٹرز پروگرام پیش کررہی ہیں جبکہ اس ضمن میں نامور غیرملکی یونیورسٹیوں کے آن لائن کورسز بھی دستیاب ہیں (کئی کورسز بلامعاوضہ بھی کروائے جاتے ہیں)۔

اس کے علاوہ بہت سی موبائل ایپس اور سوفٹ ویئرز بھی طالب علموں کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا، شرح خواندگی میں بہتری لانے کے لیے پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اعدادوشمار کے مطابق آئندہ 4سے 5سال کے دوران مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ اور ڈیٹا میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے نوکریوں کے سب سے زیادہ مواقع پیدا ہونگے۔

تعلیم وہ روشنی ہے، جو اندھیرے کو مٹا دیتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اس بات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ شعبہ تعلیم میں صنفی مساوات کا لازمی خیال رکھا جائے تاکہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی باشعور اور پڑھی لکھی ہوں تاکہ وہ عملی زندگی میں کچھ کرسکیں اور نسلوں کی بھی بہتر پرورش ہوسکے۔ انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور اس کی تربیت بچے کے اچھے کردار کی بنیاد بنتی ہے۔ بچے کا زیادہ وقت اپنی ماں کے ساتھ گزرتا ہے اور وہ اس کے طور طریقے، عادات اور دلچسپیوں کو مستعار لیتا ہے۔ ماں بچے کو اچھے بُرے کی تمیز اور صحیح غلط کی پہچان سکھاتی ہے۔

ذہنی پسماندگی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اب لوگوں کو احساس ہوچکا ہے کہ عورت کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ ہر انسان میں (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) بہت سی صلاحیتیں ہوتی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔

تعلیم یافتہ لڑکیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے گھر بلکہ اپنے معاشرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ آج دنیا بہت تیزی سے آگے جارہی ہے، جو اُس کے ساتھ نہیں چل پاتا، وہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسے میں تعلیمی میدان میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک میں ناصرف معیارِ تعلیم بہتر ہو بلکہ خواندگی کی شرح میں بھی اضافہ ہو۔