• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی میں کامیاب ہونا اتنا مشکل نہیں لیکن غیرمعمولی کامیابیاں سمیٹنا ضرور غیرمعمولی ہے۔ ہر شخص کے لیے کامیابی الگ طرح سے کام کرتی ہے، اس لیے کوئی ایسا ’یونیورسل سائز‘ نہیں، جو سب کی کامیابی کے لیے فٹ قرار دیا جاسکے۔انسان کامیابی کے لیے ہمیشہ تگ و دو کرتا اور کامیاب انسانوں کے تجربے سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کامیابی کے نام سے سیکڑوں کتب لکھی گئیں جب کہ موٹیویشنل اسپیکرز بھی کامیابی کے اسرار و رموز سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں بیسویں صدی کے آغاز میں امریکی صحافی نپولین ہِل نے ’’تھنک اینڈ گرو رِچ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ مذکورہ کتاب اُس دور میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب قرار پائی۔ اس کتاب کی بنیاد پر کئی برس کی عرق ریزی کے بعد تھامس سی کورلے نے اپنی تحقیق کا نچوڑ یہ نکالا کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان 11عادات کا سنگِ گراں حائل ہے۔ 

تمام کامیاب افراد کی زندگیوں میں 11ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کوئی بھی شخص اپنا لے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان 11خصوصیات میں کسی بھی کام کو انجام دینے کے لیے وقت سے پہلے اُٹھنا، روزانہ ورزش کرنا، روزانہ مطالعہ کرنا، مثبت سوچ رکھنا، آمدنی کے لیے ایک سے زائد ذرائع پیدا کرنا، زیادہ باعلم لوگوں سے رائے لینا اور مشورہ کرنا، عاجزی و انکساری، اور اچھی صحبت وغیرہ شامل ہیں۔

لیکن جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا کہ کامیابی کا کوئی بھی اصول حتمی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی ذاتی خصوصیات ہوسکتی ہیں، جو آپ کو دیگر سے نمایاں اور زیادہ بڑی کامیابیاں دلوا سکتی ہیں۔

کامیابی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے کامیابی کے لیے تیار رہیں:

تبدیلی کو قبول کرنا کسی بھی فرد کے لیے مشکل ترین چیز ہوتی ہے، مگر آج کی دنیا جو بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ٹیکنالوجی ہر جگہ چھا گئی ہے، وہاں تبدیلیوں سے ڈرنے یا ان سے بچنے کی بجائے انہیں قبول کرنا ہی کامیابی کی سیڑھی کے لیے ضروری عنصر ہے۔

ناکامی کا الزام دوسروں پر عائد کرنے کے بجائے اس کی ذمہ داری لیں:

حقیقی کامیاب رہنما اور افراد کو کیرئیر سمیت زندگی میں اونچ نیچ کا سامنا ہوتا ہے مگر وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ دوسری جانب ناکام افراد دیگر کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ایسا کرنے سے لوگ مزید نیچے جاگرتے ہیں۔

دوسروں کی کامیابی کا کریڈٹ لینے کے بجائے اپنی کامیابی بھی شیئر کریں:

سخت محنت کرنے والے لوگوں کو کامیابی کے لمحات سے لطف اندواز ہونے کا موقع دینا چاہئے اور ایسا کرنے سے وہ زیادہ بہتر رہنما یا ٹیم کے رکن بن جاتے ہیں۔

اپنی کامیابی کے لیے دوسروں کی ناکامی کی خواہش نہ کریں:

جب آپ لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ کسی ادارے میں ہوتے ہیں تو کامیابی کے لیے سب کا کامیاب ہونا ضروری ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کامیاب افراد اپنے ساتھیوں کی ناکامی کی خواہش نہیں کرتے بلکہ انہیں کامیاب اور آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ سب کی کامیابی ہی ان کی کامیابی ہوتی ہے۔ تنہا ان کی کامیابی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا، سیکھنا ختم ناکامی شروع:

بطور فرد، پروفیشل اور رہنما کے طور پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔ اگر آپ زیادہ جانتے ہیں تو مسابقت میں ہمیشہ ایک قدم آگے ہوتے ہیں، اگر تو آپ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تو ترقی کے مواقع آپ کے ہاتھ سے کب نکل جائیں گے، معلوم بھی نہیں ہوسکے گا۔

محدود پیمانے پر خطرہ مول لینے سے نہ گھبرائیں، ڈرنے میں ناکامی ہے:

مسترد کیے جانا اور ناکامی دو سب سے بڑے خوف ہیں اور یہ اکثر لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ اگر آپ خود سے یہ نہیں پوچھتے کہ کیا چاہتے ہیں تو کسی نہ کسی موقع پر مسترد ہونے کا سامنا کرسکتے ہیں۔ مگر پہلے سے ہی ناکامی کا تصور ذہن میں بٹھا لینا آپ کو زندگی میں بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

اپنے کان کھلے رکھیں، سُنیں زیادہ اور بولیں کم:

ماہرین کے مطابق زندگی سمیت ہر شعبے میں سب سے ضروری صلاحیت لوگوں کی بات سننا ہے۔ ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہم اپنے خیالات بتانے کے لیے پُرجوش ہوتے ہیں اور ان پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، کم بولنے سے ہمارے لیے دیگر افراد کے خیالات کو سننے کا موقع ملتا ہے اور وہ ہمیں پسند کرنے لگتے ہیں۔ زندگی میں یہ کامیابی کی کنجی ثابت ہوتی ہے۔

کامیابی اور ناکامی آپ کے رویہ میں پنہاں ہے:

ماہرین کے مطابق مثبت رویہ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے اور کسی سے بات چیت کے دوران نیم دلانہ جواب کی بجائے مثبت جواب ایک بڑا فرق ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی جانب دیگر افراد کھنچتے ہیں اور وہ زندگی میں آگے بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

بے غرض بنیں کامیابی پائیں، خودغرضی میں ناکامی ہے:

دیگر افراد کے ساتھ اچھا رویہ زندگی اور کیریئر سمیت ہر مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے، آسان الفاظ میں یہ کہ اچھے لوگ ریس میں آگے رہتے ہیں کیونکہ جب آپ دوسروں کو آگے لے جائیں گے تو فطرت آپ کو خود بخود آگے رکھے گی۔