• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنگاپور کا تعلیمی نظام دنیا میں بہترین کیوں مانا جاتا ہے؟

سنگاپور، ایشیا کے کئی ممالک کے لیے ایک کامیاب رول ماڈل کا درجہ درکھتا ہے۔ ایشیا کے اس چھوٹے سے ملک نے ملائیشیا سے آزادی کے بعد مختصر سے عرصے میں ایک پسماندہ ملک سے جدید صنعتی معیشت کا درجہ حاصل کیا ہے۔ اس تبدیلی میں سنگاپور کے تعلیمی نظام کا کردار اہم رہا ہے۔ سنگاپور کے پاس نہ تو کوئی خام تیل کے ذخائر ہیں اور نہ ہی دیگر قدرتی وسائل کی بہتات۔ 

ایسے میں سنگاپور نے ابتدا میں ہی اپنی افرادی قوت پر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا اور قوم کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ آج سنگاپور کے اسکولنگ سسٹم کو دنیا بھر میں بہترین مانا جاتا ہے۔ صرف اسکول ہی کیوں، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور ایشیا کی سب سے زیادہ رینک کی جانے والی ایشیائی یونیورسٹی ہے اور عالمی سطح پر بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں کہیں آگے ہے۔

سنگاپور کی معاشی ترقی کا راز ان کے تعلیمی نظام میں پنہاں ہے۔ او ای سی ڈی کے بین الاقوامی طلبا کے جائزہ پروگرام PISAمیں سنگاپور کے بچے، اس گروپ کے 57ممالک میں سب سے سرِ فہرست رہتے ہیں۔ مزید برآں، سائنس اور ریاضی کے مضامین میں بھی سنگاپور کے طلبا آگے آگے رہتے ہیں۔

سنگاپور کا تعلیمی نظام، طلبا کی عمر کے مطابق مختلف مرحلوں میں تقسیم کردہ ہے۔ مثلاً3سے 4 سال کے بچے نرسی، 5سے7 سال کے بچے کنڈر گارٹن، 7سے 12/11 سال کے بچے پرائمری، 12سے17سال کے بچے سیکنڈری اسکول کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ 17سے18 سال کے طلبا جونیئر کالج (یا ووکیشنل تعلیم) کا انتخاب کرسکتے ہیں (آپشنل)، جب کہ 18سال اور اس سے بڑی عمر کے بچے اعلیٰ تعلیم (ہائر ایجوکیشن) کے لیے یونیورسٹی، پولی ٹیکنیک، آرٹس انسٹیٹیوشن وغیرہ کا انتخاب کرسکتے ہیں (آپشنل)۔

اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے 2024ء تک سنگاپور ’’اِسٹریمنگ سسٹم‘‘ متعارف کرادے گا۔ اس نظام کے تحت، ملک بھر کے بچوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق مختلف ’’اِسٹریمز‘‘ یا ’’پاتھ ویز‘‘میں تقسیم کیا جائے گا۔ سنگاپور کے شہری، ملک کی وزارتِ تعلیم سے پیشگی منظوری کے بغیر کسی بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں داخلہ نہیں لے سکتے۔

طلبا کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تین ’’اسٹریمز‘‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نارمل (اکیڈمک اسٹریم، کالج تعلیم)، نارمل (ٹیکنیکل اسٹریم، ووکیشنل تعلیم) اور ایکسپریس یا اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل طلبا، جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ طلبا کو جس اسٹریم میں رکھا جاتا ہے، ان سے اسی کے مطابق سند حاصل کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایکسپریس اسٹریم کے طلبا کیمبرج جی سی ای او لیولز حاصل کرتے ہیں، جب کہ نارمل (ٹیکنیکل) طلبا کی ووکیشنل موضوعات لینے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

سرکاری اور نجی اسکولوں میں فرق 

2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق، 145گورنمنٹ پرائمری اور 41نجی پرائمری اسکولوں کو سنگاپور کی حکومت کی جانب سے فنڈنگ حاصل ہورہی تھی۔ حکومت کی ترجیحی پالیسی کے باعث 15سال سے بڑی سنگاپور کی 97فی صد آبادی خواندہ ہے۔ تاہم سنگاپور کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے مابین کئی فرق دیکھے جاسکتے ہیں، جن میں طلبا کو دی جانے والی ڈگری بھی شامل ہے۔ نجی اسکول اپنا نصاب اور اسناد تیارر کرنے میں بااختیار ہیں، جب کہ سرکاری اسکول جی سی ای او-لیول اور نارمل- لیول امتحانات کے ساتھ نصاب تیار کرتے ہیں۔

ایک اور بڑا فرق کلاس میں طلبا کی تعداد میں ہوتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں فی کلاس 32طلبا بھرتی کیے جاتے ہیں جب کہ نجی اسکولوں میں اوسطاً 24طلبا لیے جاتے ہیں۔ اسکولوں کے اوقات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جونیئر بچوں کے لیے اسکول کے اوقات صبح 8بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجےتک اور سینئر بچوں کے لیے اوقات شام چھ بجے تک ہوتے ہیں۔ نجی شعبہ میں اسکولوں کے اوقات کار تقریباً صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہوکر سہ پہر تین بجے ختم ہوتے ہیں۔

تعلیم کی لاگت

سنگاپور کے سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان حصولِ تعلیم کی لاگت میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں فیس فکسڈ ہے جوکہ عمومی طور پر 30سنگاپور ڈالر (21امریکی ڈالر) ماہانہ ہے۔ نجی اسکولوں کی فیس زیادہ ہوتی ہے اور ہر تعلیمی ادارہ اپنے اپنے طور پر فیس کا تعین کرتا ہے۔

روزمرہ تعلیم

بارہ سالہ جیک کے ہفتے بھر کا شیڈول مکمل طور پر طے ہے۔ پیر کی صبح چھ بجے اس کا الارم بجنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ ساڑھے سات بجے ریاضی کے سوالات حل کر رہا ہوتا ہے۔ منگل کے روز مینڈرین کی کلاس کے بعد جیک کو 45منٹ کا وقفہ ملتا ہے۔ اسی طرح اسے جمعہ کے روز بھی 4:50 سے لے کر 5:15 تک پچیس منٹ کا وقفہ ملتا ہے۔ 

ہفتے کو بھی ریاضی، سائنس، مینڈرین اور انگلش کی کلاسیں ہوتی ہیں لیکن اس روز کا شیڈول بہت سخت نہیں ہوتا اور دو گھنٹے کی بریک بھی ملتی ہے لیکن اتوار کے روز جیک کے ہفتے بھر کے اوقاتِ کار پھر شروع ہو جاتے ہیں۔

سنگاپور کے ہزاروں بچے جیک کی طرح پرائمری سکول کے امتحانات کی تیاری کے لیے اسی طرح کے شیڈول پر عمل کرتے ہیں۔ 12سال کے جیک کی ماں شیرل آؤ کہتی ہیں کہ جیک اپنی پڑھائی کے اوقاتِ کار کی زیادہ شکایت نہیں کرتا کیونکہ اس کے اوقاتِ کار اپنے دوستوں کی نسبت زیادہ سخت نہیں ہیں۔ ’جب بھی میں دوسرے والدین سے بات کرتی ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے جیک کے لیے اور کتابیں خریدنے کی ضرورت ہے۔‘

PISAکے امتحانات میں سنگاپور کے طالب علموں کی اچھی کارکردگی کی کئی وجوہات میں سے ایک ملک کی بیوروکریسی ہے، جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہے اور ان کا مشن بالکل واضح ہے کہ انھوں نے سنگاپور کو دنیا کا امیرترین، ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ملک بنانا ہے۔

اساتذہ کی تنخواہیں

سنگاپور کے اعلیٰ تعلیمی معیار کی وجوہات میں سے ایک اس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہیں۔ سنگاپور میں اساتذہ کی تنخواہوں کا موازنہ صنعتی اور معاشی سیکٹر کے ملازمین سے کیا جا سکتا ہے۔ تنخواہ کے علاوہ انھیں اوورٹائم اور بونس بھی ملتا ہے۔ 

اساتذہ کا انتخاب ٹاپ 5فی صد گریجویٹس میں سے کیا جاتا ہے ، جنھیں اس عظیم پیشہ کو اختیار کرنے سے پہلے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی سخت ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ سنگاپور اپنے سرکاری بجٹ کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔