• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طلبا فری آن لائن کورسز سے فائدہ اٹھائیں

انٹرنیٹ کے عام ہونے سے تعلیمی نظام میں آن لائن کورسز متعارف کروائے گئے۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہوا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود طالب علموں کے لیے مشہور و معروف جامعات سے گھر بیٹھے کورسز کرنا ممکن ہوگیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لاکھوں افراد نے آن لائن تعلیم کے ذریعے اپنی تعلیمی قابلیت اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ پھر حالات نے کروٹ بدلی اور کووِڈ-19عالمی وبا نے نظامِ زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ایسے میں شعبہ تعلیم بھی اس وبا کے اثرات سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ 

مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے آن لائن تعلیم دینے کے رجحان میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ گھر پر بیٹھے بیٹھے ہر عمر کے طالب علم آن لائن تعلیم کے حصول میں مگن رہا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں آن لائن تعلیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے کیونکہ کووِڈ-19کی تیسری لہر کے باعث تعلیمی ادارے ایک بار پھر بند ہیں۔ ایسے میں طلبا کو چاہیے کہ اپنے تعلیمی سال کے مضامین کے علاوہ اپنی دلچسپی کے دیگر مضامین پر بھی آن لائن کورسز کرنے پر توجہ دیں تاکہ نہ صرف فارغ وقت کا بہتر استعمال ہوسکے بلکہ ان کی صلاحیتیں بھی پروان چڑھیں۔

انٹرنیٹ پر دنیا کی بہترین جامعات کی جانب سے سینکڑوں مفت آن لائن کورسز دستیاب ہیں، جنہیں بآسانی ہارورڈ، ایم آئی ٹی اوپن کورس ویئر، کورسیرا، اوڈاسٹی، خان اکیڈمی اور دیگر پر سرچ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک کے کئی نوجوان پہلے ہی ایم آئی ٹی اور ہارورڈ جیسے ممتاز اداروں کے مفت آئن لائن کورسز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ باقی طالب علم بھی ان کورسز سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

آن لائن کورسز کی حمایت کرنے والوں کا وسیع پیمانے پر خیال تھا کہ یہ طریقہ تعلیم صدیوں پرانے تعلیمی نظام کو تبدیل کردے گا۔ ان کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طالب علموں کو اعلیٰ درجے کی تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے اور یہ تعلیم میعار کے اعتبار سے ہاروڈ، اسٹینڈفورڈ اور ایم آئی ٹی سے کسی بھی طرح کم نہیں ہو گی جہاں درجنوں طالب علموں کو مخصوص کلاس رومز میں معمول کے مروجہ طریقوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم سے نوازا جاتا ہے۔ آن لائن طریقہ تعلیم کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کو سہل بنانے اور عوام الناس تک پھیلانے کا ذریعہ سمجھا گیا کیونکہ طلبا کی ایک بڑی تعداد ان اعلیٰ تعلیمی اداروں تک مالی و دیگر ذرائع نہ ہونے کے باعث داخلہ حاصل نہیں کر سکتی تھی۔

2013ء میں جارجیا ٹیک نے کمپیوٹر سائنسز میں پہلے آن لائن ماسٹر ڈگری پروگرام کا اعلان کیا، جس کی فیس 6ہزار600ڈالرز رکھی گئی، جو کہ کیمپس میں حاصل ہونے والے ڈگری کورسز کے تقریباً ہم پلہ ہی تھی۔ اس کورس میں 1400طالب علموں نے داخلہ لیا۔ اس پروگرام نے یہ ثابت کیا کہ وسیع پیمانے پر آن لائن اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن ہے۔ اسی دوران آن لائن کورسز کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی اور یہ ان لوگوں کے لیے خاصی پُرکشش بات تھی جو اپنے شعبے میں سندیافتہ نہیں تھے۔ 

کچھ سال قبل ایم آئی ٹی کے ڈیوڈ پرٹچارڈ (David Pritchard) اور دیگر تحقیق کاروں کی ایک جائزہ رپورٹ میکینکس ریویو میں شائع ہوئی، جس میں آن لائن کورسزاور کیمپس میں جاری کورسز کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ جائزے سے یہ پہلو سامنے آیا کہ آن لائن کورسز مشکل مواد کے ابلاغ میں سود مند ہیں حتیٰ کہ یہ ان طالب علموں کے لیے بھی سودمند ثابت ہوئے جو ایم آئی ٹی کے مطلوبہ معیارپر پورا نہیں اترتے تھے۔ 

دراصل آن لائن کورس کے طالب علم فزکس کے مضمون کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتے تھے اور انہوں نے امتحان میں ریگولر طالب علموں کی طرح اس مضمون میں نمایاں بہتری دکھائی۔ پرٹچارڈ کے مطابق وہ کلاس کے اچھے طالب علموں کی مانند اس مضمون کو سمجھنے اور اپنی استعداد کار بڑھانے میں کامیاب رہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن کورسز کے ضمن میں ایک اہم اور قابل توجہ معاملہ یہ ہے کہ ان کورسز کو اختیار کرنے والے 90فیصد طالب علم اپنے کورسز کو ختم نہیں کرپاتے۔ Penn نامی ادارے کے جائزے کے مطابق انخلاء کی یہ شرح 96فیصد ہے۔ اس حوالے سے پرٹچارڈ کا کہنا تھا کہ آن لائن کورسز میں شریک ہونے والوں کی اکثریت سنجیدہ طالب علموں کی نہیں، درحقیقت وہ خود کو تفریح کے لیے ان کورسز میں انرول کرواتے ہیں اور مفت میں ایک دو لیکچروں میں شرکت کو وہ معیوب نہیں سمجھتے۔ Penn کی رپورٹ کے مطا بق ا ٓن لائن کورسز میں داخلہ لینے والےطالب علموں میں سے نصف پہلی آن لائن کلاس سے کورس چھوڑ جاتے ہیں۔ پرٹچارڈ ایم او او سی کورس کے لئے 17ہزار طالب علموں نے خود کو انرول کروایا، صرف دس فیصد طالب علموں نے دوسرا اسائنمنٹ مکمل کیا جبکہ ان کی صرف نصف تعداد نے سرٹیفکیٹ کے خاتمے تک آن لائن کلاسز میں شرکت جاری رکھی۔

موکس (Massive Open Online Courses) کے بارے میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ موکس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے ایک برتر مقام پر پہنچا جارہا ہے کیونکہ آن لائن لیکچرز کے ذریعے طلبا کو اپنے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض ایسی چیزیں بھی کیمپس کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں جو ٹیکنالوجی کے ذریعے منتقل نہیں کی جا سکتیں۔

بالغ افراد خصوصاً ایسے افراد جو تعلیم حاصل کرنے کی رسمی عمر سے آگے نکل چکے ہوں ، ان کے لیے یہ نہایت فائدہ مند ہے۔ ایسے افراد جو اگر کسی موضوع میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں یا کسی وجہ سے کلاس نہ لینا چاہیں، وہ اپنی سہولت کے مطابق موکس چھوڑ سکتے ہیں جبکہ کیمپس کی تعلیم میں انھیں 12ہفتے کا سیمسٹر پورا کرنا ہوتا ہے۔