• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں بیٹے کے ہاتھ کی لکیروں میں زندگی تلاش رہا تھا

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

یہ مارچ 2020ء کی بات ہے، پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی آمد کے بعد اس کے وار شروع ہوچکے تھے۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس موذی وائرس کے سبب سخت خوف و ہراس کا شکار اور بے یقینی کی حالت میں تھی۔ اس مشکل گھڑی کا سب ہی سامنا کررہے تھے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اس وبا کے ساتھ ہم ایک اور امتحان سے دوچار ہونے والے ہیں۔

کورونا کی اسی فضا میں ہمارے بیٹے کو سرطان کا مرض تشخیص ہوا اور اس کے بعد ہم جن حالات سے گزرے، وہ یقیناً ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس دوران بیٹے اور خود پر گزرنے والی قیامت کی داستان اس خیال سے قارئین کی نذر کررہا ہوں کہ اس بات پر یقین کامل رہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں فرمائی، جس کی شفا نہ اُتاری ہو۔

مَیں جہاں ملازمت کرتا ہوں، وہاں کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد ہی سے نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کرکے ادارے نے کمپنی کے قریب ہی ہماری عارضی رہائش کا بندوبست کردیا تھا۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ گھر والوں سے اتنا دُور رہنا پڑ رہا تھا، بڑے کٹھن دن تھے۔ اگرچہ بچّوں سے ویڈیو کال پر بات ہوجاتی تھی، لیکن دل اُن سے ملنے کو بے قرار رہتا تھا۔ بالآخر تین ہفتے بعد ہمیں گھر جانے کی اجازت ملی۔ اچانک گھر پہنچا، تو سب حیران اور خوش بھی ہوئے۔ 

دوسرے روز ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوکر ہم یوں ہی بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ میرا بڑا بیٹا اچانک کھانسنے لگا اور مسلسل کھانسنے کے ساتھ گلا پکڑ کر تکلیف کا اظہار بھی کررہا تھا، میں نے تشویش سے اہلیہ کی طرف دیکھا، تو انہوں نے بتایا کہ ’’کئی روز سے اس کے گلے میں خراش اور تکلیف ہے، بھاپ وغیرہ لے رہا ہے، غرارے بھی کر رہا ہے، لیکن اس کا گلا ٹھیک نہیں ہو پارہا، پتا نہیں چل رہا کہ آخر مسئلہ ہے کیا؟‘‘ خیر، شام کو میں اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کچھ ادویہ تجویز کیں اور ساتھ ہی خون کے کچھ ٹیسٹ وغیرہ بھی لکھ کر دیئے۔ 

ٹیسٹ کروانے کے بعد جب رپورٹ لے کر ڈاکٹر کے پاس گئے، تو اس بتایا کہ ’’کچھ چیزیں ایب نارمل آرہی ہیں، اس طرح کی گلٹی ہونا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔‘‘ پھر اس نے کچھ ادویہ لکھ کر ایک ہفتے بعد دوبارہ چیک اپ کی ہدایت کی۔ ٹیسٹ کی رپورٹس کی ساری علامات خدانخواستہ سرطان کی نشان دہی کررہی تھیں۔ فکر اور پریشانی میں میری تو نیند اور بھوک دونوں ہی ختم ہوگئیں۔ گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتایا اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق گلے کی گلٹی کے مزید ٹیسٹس کے لیے دوسرے ہی روز بیٹے کو لے کر ملتان کے ایک اسپتال چلا گیا۔ ملتان کے ایک اسپتال میں گلٹی کے ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹر نے بائیوآپسی کا مشورہ دیا۔ بائیوآپسی بھی ملتان ہی کے ایک اسپتال میں ہونا تھی۔ 

اسپتال پہنچے، تو ایک طویل انتظار کے بعد ہماری باری آئی۔ بہرحال، رات دس بجے آپریشن کے بعد گلٹی سے مواد نکال کر ہمارے حوالے کردیا گیا۔ فوراً بھاگم بھاگ شوکت خانم اور آغا خان لیبارٹریز میں سیمپل پہنچائے۔ ٹیسٹس کی فیس بہت زیادہ تھی، لیکن کیا کرتے کہ بیٹے کی زندگی عزیز تھی۔بائیوآپسی رپورٹ ایک ہفتے بعد ملنی تھی۔ اس دوران بیٹے کی طبیعت مزید خراب ہوتی چلی گئی، پیروں میں اکڑائو اور سوزش کی وجہ سے شدید اذیّت میں مبتلا ہوگیا۔ 

کہیں پڑھا تھا کہ ہاتھ میں زندگی کی لکیر ہوتی ہے۔ اسی اَن جانے خوف کی وجہ سے بار بار بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھتا کہ کہیں اس کی زندگی کی لکیر ختم تو نہیں ہورہی۔ لیکن اس کے ہاتھ پر تمام لکیریں پوری نظر آتیں۔ میرے بیٹے کو شاید کچھ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی زندگی خطرے میں ہے۔ جب میں بے تابی سے اس کے ہاتھوں کی لکیر دیکھتا، تو پوچھتا، ’’ابو! آپ بار بار میرا ہاتھ کیوں دیکھتے ہیں.....؟ 

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ہاتھ میں زندگی کی لکیر ہوتی ہے، زندگی اور موت کا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پتا ہے۔‘‘ لیکن میں اُسے کیا بتاتا کہ میں تو واقعی اس کے ہاتھ کی لکیروں میں اس کی زندگی تلاش کر رہا ہوں۔ اگرچہ بیٹے کی حالت کافی خراب تھی، لیکن ایک اَن جانی سی اُمید بھی تھی کہ اللہ نے چاہا، تو اسے کچھ نہیں ہوگا اور یہ ٹھیک ہوجائے گا۔ اسی دوران ڈاکٹر کی ہدایت پرایم آر آئی بھی کروالی، جس کی رپورٹ کا انتظار تھا۔

اللہ اللہ کرکے بائیوآپسی کی رپورٹ موصول ہوئی، لرزتے ہاتھوں کے ساتھ بڑی بے تابی سے رپورٹ کھول کر دیکھی تو ڈاکٹر کا خدشہ درست ثابت ہوا۔ میرا لخت ِ جگر سرطان جیسے موذی مرض کا شکار ہوچکا تھا۔ وہ لمحہ مَیں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ اپنے انیس سالہ نوجوان، خُوب صُورت اور انتہائی ذہین بچّے کے اس خطرناک موذی مرض میں مبتلا ہونے کے انکشاف نے مجھے توڑ کر رکھ دیا، پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی۔ 

اسی دوران ایم آر آئی کی رپورٹ بھی آچکی تھی، اس سے بھی کنفرم ہوگیا تھا کہ بیٹے کوسرطان ہوگیا ہے۔ بہرحال، لرزتے ہونٹوں سے اہلیہ کو تمام صورتِ حال سے آگاہ کیا اور آئندہ پیش آنے والے ممکنہ حالات و واقعات کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار کیا۔ ہمیں علاج کے لیے فوراً شوکت خانم اسپتال لاہور جانا تھا۔ یہ روح فرسا خبر سن کر اہلیہ کی حالت بھی ابتر ہوگئی، بہرحال اُسے تسلّی دی اور ساتھ اللہ پاک سے دُعا کی کہ ہمیں اس مشکل سے جلد از جلد نجات دلادے، کیوں کہ اس صورتِ حال کے بعد سے ہمارا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، سونا سب کچھ برائے نام رہ گیا تھا۔ 

علاج کے ضمن میں شوکت خانم اسپتال، لاہور سے معلومات حاصل کیں، تو پتا چلا کہ تقریباً پچیس لاکھ روپے تک کے اخراجات ہوٓسکتے ہیں۔ اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنا میرے لیے ایک ناممکن سی بات تھی کہ میرے پاس ایک نوکری اور رہنے کے لیے صرف ایک گھر ہی تھا۔ بہت پریشانی ہوئی کہ اتنی بڑی رقم کا انتظام کیسے ہوگا؟ اِدھر بیٹے کی طبیعت روز بروز بگڑتی چلی جارہی تھی۔ اُسے سانس لینے اور کھانے پینے میں شدید مشکل کا سامنا تھا۔ آخرکار، مَیں نے فیصلہ کرلیا کہ ضرورت پڑنے پر اپنے مکان کا ایک حصّہ بیچ کراس کے علاج پر لگا دوں گا۔ مَیں جس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، وہاں میڈیکل کی سہولت مع اہل و عیال مفت ہے۔

اسی کش مکش میں رپورٹ لے کر کمپنی کے ڈاکٹر کو تمام صورتِ حال سے آگاہ کیا، تو انہوں نے مجھ سے بہت تعاون کیا اور تاکید کی کہ ’’بیٹے کو فوراً شوکت خانم اسپتال لے جائیں، جو کہ اب ہماری کمپنی کے پینل پر آگیا ہے۔‘‘ یعنی وہاں علاج کمپنی کے خرچ پر مفت ہوگا۔ یہ جان کر سجدئہ شکر ادا کیا اور بیٹے کو لے کر لاہور روانہ ہوگیا۔ اللہ اللہ کر کے رات گیارہ بجے لاہور پہنچے۔ 

لاہور پہنچنے سے قبل ہی ایک دوست کی مہربانی سے شوکت خانم اسپتال کے نزدیک ایک گیسٹ ہائوس بک کروالیا تھا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکے تھے، لہٰذا گیسٹ ہائوس پہنچتے ہی سوگئے۔ صبح چھے بجے شوکت خانم اسپتال پہنچے، تو وہاں مریضوں کی ایک طویل قطار تھی، ہم بھی قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔ 

اسپتال بہت اچھا اور ویل آرگنائزڈ تھا۔ مگر متعلقہ شعبے تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ آج کوئی ڈاکٹر دست یاب نہیں ہماری باری تین دن بعد یعنی سوموار کو آئے گی۔ بیٹے کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اتنے انتظار کے بعد اسے دوبارہ ہوٹل لے جاتا۔ لہٰذا عملے سے درخواست کی کہ مریض کی حالت بہت خراب ہے، خدارا! ہمیں آج ہی ہر صورت کسی ڈاکٹر سے ملوادیں۔ انہیں کچھ ترس آگیا اور ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا۔ بہرکیف، دو گھنٹے انتظار کے بعد خوش خبری سنائی گئی کہ رات کو سات بجے آپ چانس پر ہیں۔ اللہ کا کرم ہوا کہ طویل انتظار کے بعد باری آہی گئی۔ 

پہلے ہمارا مکمل ڈیٹا لیا گیا، مریض کی تصویر کھینچی گئی، فائل بنی، کارڈ بنا اور پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹرز کے ایک گروپ سے ملوایا گیا۔ ایک سینئر ڈاکٹر نے تمام رپورٹس دیکھ کرکنفرم کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے بیٹے کو سیکنڈ اسٹیج کینسر ہے، لیکن یہ قابلِ علاج ہے، شکر ہے کہ آپ جلد آگئے ہیں۔‘‘ اور ساتھ تسلّی بھی دی کہ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ انہوں نے علاج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ’’ علاج کا دورانیہ تقریباً چھے سے آٹھ ماہ ہوگا، ہر پندرہ روز بعد کیموتھراپی ہوگی۔ 

درمیان میں ایکس رے اور پیٹ اسکین وغیرہ بھی ہوگا۔ علاج کے دوران مریض کے سر کے بال اڑجائیں گے، بھنویں کم ہوجائیں گی۔ وزن میں بھی کمی یا زیادتی ہو سکتی ہے۔ نیز، کیمو کا اثر جسم کے کسی بھی حصّے پر ہوسکتا ہے۔‘‘ پھر ڈاکٹر نے کچھ مزید ٹیسٹ لکھ کر دیے اورمقررہ روز کیمو تھراپی کے لیے آنے کا کہہ کر رخصت کردیا۔ ہم ادویہ لے کر ہوٹل آگئے۔ گھر والے جو بے حد پریشان تھے اور بار بار فون کرکے پوچھ رہے تھے، انہیں بھی تسلّی دی کہ ڈاکٹر سے ملاقات ہوگئی ہے، سب ٹھیک ہے۔ دوسرے روز کچھ ٹیسٹ اور ایکس رے وغیرہ کے بعد بیٹے کو اسپتال میں داخل کر لیاگیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر تھا کہ یہ تمام علاج مفت اور کمپنی کے خرچے پر ہو رہا تھا۔

قصّہ مختصر، کیمو تھراپی کا سلسلہ شروع ہوگیا اور دوسری تھراپی کے بعدہی سے بیٹے کی طبیعت کافی بہتر ہونے لگی۔ مہینے میں دو بار کیمو تھراپی اور خون کے مختلف ٹیسٹس کا سلسلہ چلتا رہا۔ الحمدللہ، بیٹے کی طبیعت بتدریج بہتر ہو رہی تھی اور ساتھ ساتھ آن لائن تعلیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ پھر آخرکار وہ دن بھی آپہنچا کہ جب میرے بیٹے کی آخری کیمو تھراپی ہوئی۔

طریقہ کار کے مطابق آخری کیمو تھراپی کے ایک ماہ بعد پیٹ اسکین کروایا، تو اس کی رپورٹ بھی ماشاء اللہ بہت حوصلہ افزا آئی، یعنی کیمو تھراپی سے علاج کام یاب ہوگیا تھا اور میرا بیٹا الحمدللہ، سرطان جیسے مُوذی مرض کو شکست دے کر زندگی کی جانب لوٹ آیا تھا۔ ہم سب گھر والوں نے اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اداکیا۔ 

حسبِ توفیق صدقہ، خیرات وغیرہ بھی کی۔ اس کے بعد اب ڈاکٹرز کی ہدایات یہ ہیں کہ ہر تین ماہ بعد فالو اپ کے لیے اس کے خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر سے ملاقات لازمی ہوگی، تاکہ خدانخواستہ یہ مسئلہ کہیں دوبارہ نہ ہوجائے اور یہ سلسلہ دو سال تک مزید جاری رہے گا، یعنی مزید دو سال تک ڈاکٹرز اسے انڈر آبزرویشن رکھیں گے اور پھر مکمل کلیئر کیا جائے گا۔ اللہ پاک سے دُعا ہے کہ میرے بیٹے سمیت تمام بچّوں کو صحت اور صحت و تن درستی عطا فرمائے، آمین۔ الحمدللہ، ثم الحمدللہ، صحت یابی کے بعد میرا بیٹا اسلام آباد کی ایک مشہور آئی ٹی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور کمپیوٹر انجینئرنگ کے آخری سال میں ہے۔ (شفیق خان، کوٹ ادو، مظفر گڑھ)

سنڈے میگزین سے مزید