• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیبن فیور، تنہا کمرے کے دروازے، کھڑکیاں کھول کر رہنے کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ درحقیقت کوئی بیماری نہیں، بلکہ بند جگہ سے خوف کی علامت ہے۔تاہم، بعض ماہرین اسے سینڈروم بھی قرار دیتے ہیں۔ بعض کیسز میں کسی مرض یا وَبا میں مبتلا ہونے کے خوف سے الگ تھلگ رہنا بھی کیبن فیور میں مبتلا کردیتا ہے۔ کیبن فیور کی عام علامات میں بے چینی، چڑچڑاپَن، سُستی، افسردگی، توجّہ مرکوز نہ کرپانا، عدم برداشت، بسیارخوری، کام کرنے کی لگن کم ہوجانا، دوست احباب، رشتےداروں سے میل جو ل ترک کر دینا، چلنے میں کم زوری، بار بار نیند کا غلبہ، نا اُمیدی طاری رہنا، وزن میں تبدیلی اور ذہنی دباؤ وغیرہ شامل ہیں۔ 

کیبن فیور سے متاثرہ فرد کا علاج کسی جنرل فزیشن سے نہیں، بلکہ سائیکاٹرسٹ، اپلائیڈ سائیکالوجسٹ یا ماہرِمشاورت سے کروانا چاہیے۔ چوں کہ کیبن فیور لاحق ہونے کی وجہ کوئی مخصوص موسم، وائرس یا بیکٹیریا نہیں، بلکہ یہ متاثرہ فرد کی اپنی تخلیق کردہ اندرونی دُنیا کے سبب ہوتا ہے، تو جیسے ہی متاثرہ افراد خود ساختہ دُنیا سے باہر نکل کر لوگوں سے میل جول بڑھائیں گے، ان کی طبیعت میں بہتری آتی چلی جائے گی۔

علاوہ ازیں، عمومی ہدایات کے مطابق کیبن فیور کے شکار افراد صُبح سویرے کچھ دیر کے لیے موسم کی مناسبت سے لباس پہن کر چہل قدمی کریں کہ اس سے قدرتی طور پر جسم کے تمام نظام توازن میں رہتے ہوئے متحرک ہو جاتے ہیں، جب کہ اینڈورفن ہارمونز(Endorphin Hormones)زائدمقدار میںبنتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم درد برداشت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اعصابی دباؤ سہہ پاتا ہے۔

علاج کے ضمن میں بازاری اور ڈبّوں میں بند کھانا کھانے کی بجائے گھر کا بناکھانا کھائیں۔متوزان غذا استعمال کریں۔یاد رکھیے، اگر آپ ورزش یا چہل قدمی نہیں کریں گے، تو بھوک بھی کم لگے گی۔سفید چینی کا استعمال کم کردیں اور پانی زیادہ سے زیادہ پیئں۔ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان کچھ اور نہ کھایا جائے۔ خود کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔گھر کے تمام کاموں کی ایک فہرست بنالیں کہ کس دِن کیا کام کرنا ہے۔ مثلاً ایک دِن پُرانی فائلز اور دیگر دستاویزات پڑھ لیں، تو اگلے روز گھر کی مکمل صفائی کرلیں۔ 

اسی طرح کسی دِن گھر کی کراکری اور پکانے کے برتن ترتیب سے رکھے جاسکتے ہیں،جب کہ ہفتے میں ایک دِن تمام امور کا جائزہ لیں، تاکہ اگرکس کام میں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو،تو آئندہ دُور کی جاسکے۔ علاوہ ازیں، کبھی معمّا حل کرلیں، تو کبھی مطالعہ کریں۔ یعنی کسی نہ کسی صُورت اپنی دماغی صلاحیتیں متحرک رکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود کو بے کار اور فالتو ہرگز نہ سمجھیں۔ (مضمون نگار، ڈائو یونی ورسٹی اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی، کراچی سے بطور اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ رہ چُکے ہیں)