• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک ا سکول میں لڑکے اور لڑکیاں الگ الگ قطار میں کھڑے تھےلیکن کوئی بھی لڑکا کسی لڑکی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔اُن میںنظم و ضبط تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ اپنی ساتھی طالبات کی عزت کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اتنا ڈسپلن اور اتنی عزت یہ سب کیسے؟مجموعی طور پر تو یہ چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسکول میں روزانہ ایک گھنٹےکا پیریڈ’’ اخلاقیات‘‘ کا ہوتا ہے، جس میں اسلام کی روشنی میں معاشرے میں رہن سہن، لوگوں سے برتاؤ، لین دین غرض ایک ایک چیز پر تفصیلی لیکچر دیا جاتا ہے۔ 

پھر انگلش، میتھ، فزکس، کیمسٹری پڑھائی جاتی ہےیعنی پہلے اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں، پھر تعلیمی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔اور یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ بغیر کسی ٹیچر کے ڈنڈے کے ڈر خوف کےطلباء نظم وضبط کا مظاہرہ کر رہےتھے ۔

اس سے یہ ثابت ہو ا کہ فزکس ،کیمسٹری ،انگلش وغیرہ کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا سبق بھی اہم ہے، جس کے لیے ہر اسکول میں خصوصی لیکچر ہونے چاہیےجو بچپن سے بچوں کی ایسی ذہن سازی کریں کہ وہ آنے والے کل میں معاشرے کی بہتری کا سبب بنیں۔ جب کوئی طالب علم ڈاکٹر ، انجینیئر، وکیل، پولیس، سیاستدان بنے تو اس میں اخلاقیات کوٹ کوٹ کر بھری ہوں۔ (اسد اقبال)