• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیرر باس کی رہائی کا فیصلہ پیرول بورڈ کرے گا

لندن (پی اے) پیرول بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا ٹیرر باس کو جیل سے رہا کیا جاسکتا ہے۔ برطانیہ میں دہشت گردی کی ہدایت کے جرم میں سزا پانے والے پہلے شخص رنگ زیب احمد کی رہائی کے معاملے پر پیرول بورڈ جمعرات کو سماعت کرے گا۔ راچڈیل میں پیدا ہونے والے مسلمان کو 2008ء میں ٹرائل کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اسے کم از کم 10 سال جیل میں گزارنا تھے۔ ٹرائل میں بتایا گیا تھا کہ اس نے کس طرح القاعدہ سیل کے تین افراد کی جانب سے بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی تیاری کی قیادت کی تھی۔ کائونٹر ٹیررازم چیفس کو یہ یقین نہیں تھا کہ احمد حملے کی پلاننگ کر رہا تھا۔ اس کے ٹرائل میں بتایا گیا کہ وہ اس پر قائل تھے کہ حملہ یقینی تھا اس کی سکیم کا انکشاف تین ڈائریوں کے ملنے سے ہوا تھا جن میں تفصیلات اور القاعدہ کے اہم آپریٹیوز کے فون نمبر نظر نہ آنے والی سیاہی سے لکھے گئے تھے، بعد میں اس نے ایم آئی 6 اور ایم آئی 5 پر پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے تعاون سے ٹارچر کے الزام کا مقدمہ کردیا لیکن گزشتہ سال ہائیکورٹ نے اس کے ہرجانے کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔ احمد نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ ڈی پورٹ کئے جانے سے قبل 2006ء اور 2007ء کے درمیان پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے ہاتھوں اس پر ٹارچر کیا گیا تھا اور ٹیررازم الزامات چارج کیا گیا تھا۔ پیرول بورڈ کے ایک ترجمان نے کہا کہ رنگ زیب احمد کے پیرول ریویو کی زبانی سماعت لسٹ کی گئی ہے اور یہ جون میں ہوگی۔ پیرول بورڈ سماعت کے دوران وسیع پیمانے پر شواہد کا بغور جائزہ لے گا جس میں اس کے اصل جرم کی تفصیلات، رویے میں تبدیلی کا کوئی ثبوت اور اس کے جرم سے وکٹمز کو پہنچنے والے نقصان اور اثرات پر غور کیا جائے گا۔ پیرول ریویوز میں مکمل اور احتیاط کے ساتھ شواہد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہینے کے آخر تک اس کی رہائی کا فیصلہ متوقع نہیں ہے اور اگر اس کیس میں مزید معلومات کی ضرورت پڑی تو عرصہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔ عام طور پر پیرول بورڈ کو ٹیرر کیس میں معلومات کی وسعت اور پیچیدگی کی وجہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
یورپ سے سے مزید