• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینجھر جھیل پر سہولتوں کا فقدان اب بھی موجود

حکومتی دعوؤں کے باوجود بھی کینجھر جھیل پر آنے والے سیاحوں کے لیے سہولتوں کا فقدان تاحال موجود ہے، جھیل کے مختلف پوائنٹس پر نہ ہی واچ ٹاورز تعمیر کئے گئے ہیں اور نہ ہی جیٹیز بنائی گئی ہیں۔

کینجھر جھیل کراچی، حیدر آباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے آنیوالے سیاحوں کے لئے ایک پرکشش تفریح گاہ ہے، سیاح جھیل کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں نہا نے کے ساتھ ساتھ کشتیوں پر جھیل کے اندرونی حصے کی سیر بھی کرتے ہیں۔

جھیل پر آنے والے سیاحوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے نظر آتے ہیں، سیاح اب بھی پینے کے پانی ،واش روم اور سایہ دار جھونپڑیوں کے لئے بھاری رقم ادا کرتے ہیں۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے، انٹری گیٹ پر پیسے دے کر آتے ہیں لیکن نہ پینے کا پانی ملتا ہے اور نہ ہی واش روم کی کوئی سہولت ہے ، ہر چیز کے لئے پیسے دینے پڑتے ہیں ۔

دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ سیاحت کی جانب سے جھیل پر واچ ٹاور ،کشتیوں کے لئے جیٹیز سمیت دیگر سہولتوں کی فراہمی کی رپورٹ تو جمع کرائی گئی لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں، جھیل کے ریسکیو سینٹر کی چھت پر قائم واچ ٹاور میں صرف ایک عدد خالی کرسی پورے جھیل کے سیاحوں کی نگرانی کرتی ہے۔

جھیل کے مختلف پوائنٹس پر نہ ہی واچ ٹاور تعمیر کئے گئے اور نہ ہی جیٹیزلیکن کشتیوں میں لائف جیکٹس اور 8 سیاحوں کو سوار کرنے کی پابندی پر عملدرآمد ہوتا ہے۔

جھیل پر واقع ریسکیو سینٹر کی عمارت میں ہی ٹورسٹ فیسی لیٹیشن سینٹر قائم کرکے وائرلیس سسٹم اور پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں لیکن بجلی چلی جائے تو وائرلیس سسٹم بھی ٹھپ ہوجاتا ہے کیونکہ بجلی کا متبادل نظام نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جھیل کے پانی میں کہیں بھی کسی قسم کا خطرہ کا نشان تو نظر نہیں آیا ، وزیر سیاحت سندھ سردار شاہ کہتے ہیں جھیل پر ہر سہولت فراہم کرنا حکومت کے لیے مشکل ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید