• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
فرانس کے صدر کے منہ پر تھپڑمارنے والے کو تو چار ماہ کی سزا سنا دی گئی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔تھپڑ مارنے والے کا بیان ہے کہ اس نے یہ حرکت جذبات میں کی جبکہ استغاثہ نے اسے دانستہ طور پر کیا گیا تشدد قرار دیا ہے اور دیکھا جائے تو بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ فرانس کے صدر کے خلاف فرانسیسی عوام کے دلوں مین جو جذبات ہیں ان کانتیجہ یہ تھپڑ ہے ،لیکن اس حملے کو کیا کہیں گے جس میں بے گناہ چار افراد کو دن دھاڑے اس دنیا سے رخصت کردیا گیا ۔ یہ انگریز معاشرے میں رہنے والے وہ سیدھے سادھے پڑھے لکھے لوگ تھے جو اپنے اور اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے کئی سالوں سے کینیڈا کی سر زمین کو اپنا سمجھ کر سکون سے جی رہے تھے ۔ انہیں تو معلوم بھی نہیں تھا کہ اس زمین کے لوگوں نے کبھی انھیں اپنا سمجھا ہی نہیں تھا، وہ تو تارکین وطن ہی کے طور پر پہچانے جاتے تھے ۔وہ لاکھ وہاں کے قاعدے قانون کو فالو کر کے خود کو اس ملک کا ایک ذمے دار شہری ثابت کرتے معمولات زندگی میں مشغول رہے لیکن انھیں علم بھی نہیں تھا کہ ان کے اردگرد رہنے والوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو انہیں کبھی بھی اپنا جیسا نہیں سمجھے گا، بلکہ ان کے لئے اپنے دل میں ایسے جذبات بھر رہا ہے جس سے صرف نفرت ہی جنم لے سکتی ہے ۔ صدر میکرون کوتھپڑ مارنے والے نے اپنے جذبات کا اظہار ایک طمانچے سے کردیا لیکن ایک مخصوص قوم اور مذہب کے لوگوں کے لئے دلوں میں نفرت کے جذبات رکھنے والے تو کبھی مساجد پر عبادت کرنے والوں پر حملہ کر کے بھڑاس نکال رہے ہیں تو کبھی ٹرک سے کچل کر اور تواتر سے ہونے والے یہ واقعات بتارہے ہیں کہ ان معاشروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کتنی اندر تک اتری ہوئی ہے ۔اسلاموفوبیا کا نام لے کر اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ کیوں ہم یہاں رہ کر جینز شرٹ کے بیچ میں شلوار قمیض اور حجاب کو شامل کر رہے ہیں ۔کیونکہ ہم یہ سجھ رہے ہیں کہ یہ معاشرے بھی ہمارے ہیں ۔کیا ہوا کہ جو ہم اپنے دیس کو چھوڑ کر یہاں کی ترقی میں اپنا بھی تھوڑا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں ۔ کیوں ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ یہاں سے حاصل کی جانے والی تعلیم ہمیں وہ کچھ سکھا دے گی جس کی بدولت ہم دنیا میں اپنا نام روشن کر سکیں اور دنیا کہے گی کہ دیکھو یہ ترقی پذیر ملک کے لوگ ترقی یافتہ ملک میں آکر یہاں کے ملنے والے مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر کتنا اچھا کام کر رہے ہیں ۔ یورپ سے لے کر امریکہ کینیڈا تک لاکھوں مسلمان ان ممالک کے لیگل شہری ہیں اور ان کی زندگیاں بھی یہاں کے قاعدے قوانین کے تحت ہی گزر رہی ہے ۔ یہ بھی صبح اٹھ کر ذریعہ معاش کی فکر میں لگ جاتے ہیں ۔ ان کو اپنی اولادوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی فکر ہوتی ہے البتہ فرق یہ ہے کہ ان کی شامیں پبس یا نائٹ کلبس میں نہیں گزرتیں ۔ان ممالک کے پڑھے لکھے تارکین بنیفٹس کی فکر نہیں کرتے بلکہ اچھی سے اچھی ملازمت یا کاروبار پر فوکس کرتے ہیں ،جن سے ان کا گھر اچھے سے چل سکے ۔وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہاں تعلیم اچھی ہے تو کیوں نہ اپنی نسلوں کو بہترین سے بہترین تعلیم دلا ئی جائے۔ حالانکہ سوچنے کی بات تو یہ ہے یہاں دی جانے والی تعلیم ان معاشروں کی اصل نسلوں کوباہر سے آنے والوں کے لئے تفریق ختم کرنا نہیں سکھا پارہی اور یہ ہمارے لئے فکر کی بات ہے ۔
یورپ سے سے مزید