• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پاکستان باکسنگ پر قابض لوگوں نے کھیل کیلئے کچھ نہیں کیا

ایشین باکسنگ چیمپئن شپ میں قازقستان نے آٹھ گولڈ میڈلز کے ساتھ چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصلکیا۔ قازقستان نے مجموعی طور پر 16 میڈلز حاصل کئے۔ ازبکستان نے سات گولڈ، چھ سلور اور پانچ برانز کے ساتھ دوسری، منگولیا نے تین گولڈ اور پانچ برانز کے ساتھ مجموعی آٹھ میڈلز کے ساتھ تیسری، بھارت نے دو گولڈ، پانچ سلور اور اٹھ برانز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ 

سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں نے ایک ایک برانز میڈل کے ساتھ گیارہویں پوزیشن حاصل کی۔ 30ویں ایشین باکسنگ چیمپئن شپ کا انعقاد 2019 ء میں ہونا تھا لیکن کوویڈ 19 کی وباء کی شدت کے باعث چیمپئن شپ کا انعقاد نہ ہوسکا۔ سائوتھ کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے دس بار اس چیمپئن شپ کو جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایشین باکسنگ چیمپئن شپ کا آغاز 1963ء میں ہوا۔ 

میزبان ملک تھائی لینڈ تھا اور بنکاک میں ہونے والے ایونٹ میں جاپان نے تین گولڈ کے ساتھ چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 2001 ء میں چیمپئن شپ میں ویمنز مقابلوں کو بھی شامل کیا گیا اور نارتھ کوریا نے اس چیمپئن شپ کو جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 

پاکستان نے صرف 2005 ء میں ویتنام کے شہر ہوچی من سٹی میں ہونے والی چیمپئن شپ جیتی، دبئی میں اے ایس بی سی ایشین مینز اینڈ ویمنز ایلیٹ باکسنگ چیمپئن شپ میں 17 ممالک نے حصہ لیا جن میں افغانستان، بحرین، انڈونیشیا، ہندوستان، ایران، عراق، قازقستان، کرغزستان، کویت، لاؤس، منگولیا، فلپائن، قطر، سری لنکا، تاجکستان، میزبان متحدہ عرب امارات اور ازبکستان کی ٹیمیں شامل تھیں۔

باکسروں کی کل تعداد 150 ہے جس میں اے ایس بی سی ایشین ایلیٹ مینز اور ویمنز باکسنگ چیمپین شپ میں17 مختلف ممالک کی47 خواتین شامل ہیں۔پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے دوسرے گروپ کے سربراہ جہانگیر ریاض ایشین باکسنگ چیمپئن شپ کی تقریب میں مدعو تھے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کی عدم شرکت پر افسوس ہوا ، ہمارے باکسرز اس ایونٹ میں شرکت کرتے تو جیتے نہیں تو تجربہ ضرور حاصل کرتے ،پاکستان باکسنگ پر اس وقت جن لوگوں کا قبضہ ہے انہوں نے باکسنگ کیلئے نہیں اپنے لئے کام کیا ہے اپنی اپنی جیبیں بھریں ہیں، میں نے باکسنگ فیڈریشن کے انتخابات کا اپنا کیس آئبا کے سامنے رکھا جس پر انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر عمر کرملیو نے اپنے تحریری آرڈر میں پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے 24 جنوری 2021کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے خالد محمود اور مجھے (جہانگیر ریاض) کو ہدایت کی ہے کہ دونوں مل کر ایڈہاک کمیٹی بنائیں جو تین ماہ میں فیڈریشن کے انتخابات عالمی نمائندے کی موجودگی میں کروانے کے پابند ہوںگی۔ 

ایشین چیمپئن شپ کی اچانک میزبانی کے باوجود متحدہ عرب امارات نے شاندار انتطامات کئے۔ قازقستان، ازبکستان، بھارت، منگولیا، فلپائن، ایران، کرغزستان اور تاجکستان کے باکسروں نے اپنی کارکردگی سے متاثر کیا۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ پاکستان سمیت جاپان، چین، جنوبی کوریا، چینی تائپے، تھائی لینڈ اور دیگر اس ایونٹ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

تاشقند میں اے ایس بی سی فنڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیشن کا اجلاس نتیجہ خیز رہا جہاں میں نے شرکت کی امید ہ کہ میں برصغیر میں ہونے والے باکسنگ کے کام میں معاونت کرسکتا ہوں ،ہمارے باکسروں کو بڑی غیرملکی چیمپئن شپ میں شرکت کیلئے تواتر کے ساتھ تربیتی کیمپ کی ضرورت ہے۔مستقبل میں پاکستان میں بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کروں گا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید