• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کے الیکٹرک کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ دیگر کمپنیوں کیساتھ کرنے کا حکم

نیپرا میں کے الیکٹرک کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا نے حکم دیا کہ آئندہ کے الیکٹرک کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ کی جائے۔

چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک سے سوال کیا کہ آپ کا سوئی سدرن کے ساتھ گیس سپلائی کا معاہدہ ہو گیا؟

کے الیکٹرک حکام نے جواب دیا کہ سوئی سدرن گیس کے ساتھ ابھی یہ معاہدہ نہیں ہوا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کی لڑائی میں کراچی کے شہری پس رہے ہیں، ابھی کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے درمیان بقایا جات کے معاملات طے نہیں ہوئے، جب آپ کو گیس پوری ملتی ہے تو فرنس آئل کیوں چلاتے ہیں؟

کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ ہماری گیس کی کم سے کم طلب 19 کروڑ مکعب فٹ ہے، جب 19 کروڑ مکعب فٹ سے طلب بڑھ جائے تو فرنس آئل استعمال کرتے ہیں۔

صارفینِ کراچی کی جانب سے شکایت کی گئی کہ رات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم نے منع کیا تھا کہ کراچی میں رات کو لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

کے الیکٹرک حکام نے جواب دیا کہ رات کو کچھ علاقوں میں لوڈشیڈنگ این ٹی ڈی سی کی وجہ سے کرنا پڑی تھی، اب 15 روز سے رات کو لوڈشیڈنگ نہیں کر رہے۔

کے الیکٹرک حکام نے چیئرمین نیپرا کو بریفنگ میں کہا کہ جنوری سے اپریل تک فی یونٹ اوسط اضافہ ایک روپے فی یونٹ بنتا ہے، ایک روپے فی یونٹ اوسط اضافے کا اثر 5 ارب 56 کروڑ روپے بنے گا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ فیول چارجز پرائس ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ مئی اور جون کی سماعت کے بعد کریں گے۔

اس کے ساتھ ہی کے الیکٹرک کی جنوری سے اپریل تک کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی سماعت مکمل ہو گئی۔

نیپرا میں بجلی کی پیداوری صلاحیت کے پلان برائے 30-2021ء پر بھی سماعت ہوئی، این ٹی ڈی سی نے پلان کی منظوری کیلئے نیپرا کو درخواست کر رکھی ہے۔

چیئرمین نیپرا نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی بجلی جنریشن پلان اتھارٹی کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں کر رہی ہے؟ این ٹی ڈی سی کے خلاف لیگل کارروائی شروع کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے پاور سیکٹر کا بیڑا غرق کرنے میں این ٹی ڈی سی کا بڑا ہاتھ ہے، بجلی کی طلب اور رسد کی درست منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

قومی خبریں سے مزید