• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی گم گشتہ تہذیب میں قدیم باشندوں کی خوراک

مسعود نبی خان

سوریہ نارائن نے کیمبرج یونیورسٹی سے آثار قدیمہ میں پی ایچ ڈی کی،اب فرانس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے وادی سندھ کےہزاروں سال قبل کے باشندوں کے کھانے پینے کے طور طریقوں پر تحقیق کی ہے۔ ان کی یہ تحقیق ’’آرکیالوجیکل سائنس‘‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اگرچہ وادی سندھ کے لوگوں کے طرز زندگی کے بارے میں بہت سی تحقیق کی گئی ہیں لیکن سوریہ نارائن کی اس تحقیق میں بنیادی طور پر اس خطے میں اگائی جانے والی فصلوں پر توجہ دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر اس تحقیق میں فصلوں کے ساتھ لوگوں کے استعمال میں آنے والے مویشیوں اور برتنوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔’’ انڈس ویلی سویلائزیشن ‘‘کے عہد میں جو، گندم، چاول ، انگور، کھیرا، بینگن، ہلدی، سرسوں، پٹ سن،، کپاس اور تل کی فصلیں کاشت ہوتی تھیں۔

ایک برطانوی ادارے کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے سندھ کی گم گشتہ تہذیب میں زیادہ تر لوگ گوشت خور تھے۔ وہ گائے، بھینس، بکری اور بکرے اور دیگر جانوروں کا گوشت رغبت سےکھاتے تھے۔اس تحقیق کی بنیاد وادی سندھ کے خطے میں کھدائی میں پائے جانے والے مٹی کے برتن ہیں جس کی بنیاد پر وہاں مروج کھانے پینے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔برتنوں سے نمونے لیے گئے اور سائنسی تجزیہ کرنے سے پتا چلا کہ ان میں مویشیوں کا گوشت پکایا اور کھایا جاتا تھا۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان برتنوں میں دودھ کی مصنوعات، جگالی کرنے والے جانوروں کا گوشت اور سبزیاں پکائی جاتی تھیں۔وادی سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مابین اس معاملے میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مٹی کے برتنوں کا استعمال ان کے علاوہ کچھ دوسرے مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا تھا۔اس خطے میں جگالی کرنے والے بے شمارجانور تھے تاہم ان برتنوں میں دودھ کی مصنوعات کا بہت کم استعمال پایا گيا ہے۔

جانوروں میں گائے اور بھینسیں ان کے اہم مویشی تھے جس کا اندازہ جانوروں کی باقیات اور ہڈیوں کے ملنے سے ہوتا ہے۔ ان میں سے 50 سے 60 فیصد حصہ گائے اور بھینسوں پر مشتمل ہے جبکہ تقریباً دس فیصد ہڈیاں بکریوں کی ہیں۔اس سےبخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ کے قدیم باشندوں کی پسندیدہ خوراک میں گائے اور بکرے کا گوشت بھی شامل رہا ہوگا۔ان باقیات سے اس بات کا سراغ بھی ملتا ہے کہ گائے کو گوشت کے علاوہ دودھ کےحصول جبکہ بیل کاشتکاری کے لیے پالا جاتا تھا۔ اگرچہ کھدائی میں خنزیر کی ہڈیاں بھی ملی ہیں لیکن وہ کس کام آتی ہوں گی، یہ واضح نہیں ہے۔ کچھ کھنڈرات سے ہرن اور پرندوں کی بھی باقیات ملی ہیں۔

تحقیق سےاس بات کا بھی علم ہوا کہ و ادئ سندھ کے لوگ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھتے تھے، متوازن غذائیں کھاتے تھے۔مختلف علاقوں میں قدیم آثار کی کھدائی کے دوران 7 عدد گیندیں دریافت ہوئیں، جب آرکیالوجی کے ماہرین نے سائنسی لیباریٹریز میں ان کا تجزیہ کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ یہ لڈو تھے۔ ان اداروں کی تحقیق کے نتائج جرنل آف آرکیالوجی سائنس میں شائع ہوئے ہیں، جن میں بتایا گیا کہ یہ لڈو 2600 قبل مسیح کے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان لڈوؤں میں جو، گندم اور دالیں شامل ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے افراد پروٹین سے بھرپور غذائیں کھانے کے عادی تھے۔ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ان لڈوؤں کو بہت احتیاط سے محفوظ کیا گیا تھا جس کے باعث یہ ملبہ گرنے کے بعد بھی کچلے جانے سے محفوظ رہے، مٹی میں دفن ہوجانے کے سبب ان میں موجود غذائی اشیا کے اجزا بھی برقرار اور محفوظ رہے۔

چند برس قبل نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں قدیم آثار سے بازیاب ہونے والی اشیاء کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ تہذیب سے ملنے والے آثار بھی رکھے گئے تھے۔نمائش کے منتظمین اور آثارقدیمہ کے ماہرین کا کہنا تھاکہ وادی سندھ ایک ترقی یافتہ تہذیب تھی اور اس کے شہری بہت ترقی یافتہ تھے۔ نمائش میں کھانے پینے کی ایسی اشیا کا تصور پیش کیا گیا جو اس دور میں سند ھ کے باسی استعمال کرتے تھے۔ نمائش کے ایک حصے میں مٹی کے برتن میں کالےچنے کو دھیمی آنچ پر ابلتے دکھایا گیا۔ 

یہ معمولی نوعیت کا کھانا نہیں تھا، اسے اناج اور سبزیوں کے ساتھ اسی طرح پکایا جا رہا تھا جیسے پانچ ہزار سال پہلے ہڑپہ اور موہنجودڑو کی تہذیب کے دور میں لوگ پکاتےتھے۔ لوگوں کی خوراک میں بیشتر وہ چیزیں شامل تھیں جو جنوبی ایشیا میں اب بھی استعمال کی جاتی ہیں۔نمائش کی کیوریٹر ،سومی چترجی نے نمائش کے شرکاء کو بتایا کہ سندھ کی قدیم خوراک میں بہت سے کھانے ایسے ہیں جو اب بھی مقبول ہیں ، جن کا تعلق ہمار ے فطری ذائقے سے ہے اور جو زندگی کے لیے ضروری سمجھےجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر چاول اور روٹی۔ سومی چتر جی کے مطابق اس زمانے میں ، گاجر، لہسن اور کیلے کازیادہ استعمال کیا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق روٹیوں کی تیاری کا تصور غالباً باجرے سے آیا۔ چند مسالہ جات مثلاًٍ ہلدی اور دار چینی کو ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، تاہم ان کی تیاری کا طریقہ انہیں ایک منفرد حیثیت دیتا تھا۔ نمائش میں موجودشیف، سبیاچی گورائی کا کہنا تھا کہ کھانا تیار کرنے کے برتن ،مثلاًٍ مٹی کی ہانڈیاں سادہ لیکن منفرد انداز کی تھیں۔ ان ہانڈیوں کا پیندا دبیز ہوا کرتا تھا تاکہ پکاتے وقت ان میں دراڑیں نہ پڑیں۔ ایسے برتنوں کی تیاری میں ریت کی اتنی مقدار شامل ہوتی تھی جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ کم وقت میں گرم نہ ہو، تاکہ برتن میں نچلے حصے کا کھانا جلنے سے محفوظ رہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ،قدیم تہذیب میں کھانے کی روایات میں جدید زمانے کے لیے بھی بہت سبق ہے۔ اس زمانے میں سبزیوں کے چھلکے نہیں اتارے جاتے تھے۔ کھانا دھیمی آنچ پر پکایا جاتا تھا اور استعمال کیے جانے والے پانی کا شوربہ بنا لیا جاتا تھا۔ سندھ کی قدیم تہذیب کی غذاؤں میں آلو کا ذکر نہیں ملتا، غالباً اس دور میں آلو کی کاشت شروع نہیں کی گئی تھی۔نمائش میں جہاں وادئ سندھ کی تہذیب کے بارے میں لوگوں کو جاننے کا موقع ملا وہاں ان کے کھانوں سے زمانہ قدیم کے ساتھ تعلق کا بھی پتا چلا۔