• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں فن تعمیرات کی تاریخ پانچ ہزار سال قدیم ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ و ماہرین علم الآثار نے ایسے شواہد بہم پہنچائے ہیں جس سے کانسی کے زمانے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت ’’کائی کے غار‘‘ ہیں۔ یہ غار ضلع دادو میں واقع ہیں اور ان میں انسان کے قدموں کے نشانات بھی ہیں۔

سیہون سے پچیس میل کے فاصلے پرایک گاؤں پیر صالح محمد شاہ واقع ہے جس سے پانچ میل کی دوری پر دوسرا گاؤں ہے۔یہاں پر ایک قدیم قبرستان کے کھنڈرات بھی ملے ہیں۔ اس علاقے سے دریافت ہونے والے Fossil اور کائی کے غاروں سے پائے جانے والے Fossil یکساںادوار کے ہیں۔ تاریخی شواہد کے مطابق یہی غار انسان کا پہلا آشیانہ تھے۔

سندھ کی تہذیب سمیر کی اولین تہذیب اور ایلام اور میسو پٹامیہ کے طوفان نوح سے قبل کے دور کی تہذیبوں کی ہم عصر تھی۔ اس کا اندازہ ا ن مہروں سے لگایا جاسکتا ہے ، جن پر برطانوی آرکیالوجسٹ ’’مسٹر گیڈ ‘‘نے تحقیقی کام کیے۔لیکن ماہرین کی تحقیق و تفتیش کے بعد بھی ان مہروں پرجوتحریر کندہ ہےوہ ابھی تک ناقابل فہم ہیں۔، لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان مہروں کا تعلق موئن جو دڑو کے دور سے ہے۔ اس دوران جو تہذیبیں وجود میں آئیں ان میں آمری، کوٹ، ڈیجی، ہڑپی چہنو جو دڑو، موئن جو دڑو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 

یہ دراصل وہ بستیاں تھیں جو دریائے سندھ کے کنارے ایک ہزار میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی اس خطے میں ہزاروںایسی بستیاں تھیںجو گم نامی کے اندھیروں میں گم رہیں ۔کوٹ ڈیجی کے آثار موئن جو دڑو کے مشرق میں تیس میل دور دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر واقع ہیں۔ آمری، موئن جو دڑو سےبھی پہلے ایک بڑا شہر تھا۔

کوٹ ڈیجی کےمکانوں کے جو کھنڈرات دریافت ہوئے ، وہ کچی اور پکی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق ،کوٹ ڈیجی کےقدیم باشندوں سے ہڑپہ یا موئن جو دڑو والوں نے بعض فنی اور دیگر تصورات حاصل کئے۔ ان میں شہر کی منصوبہ بندی، قلعہ بندی اور غالباً مذہبی شعائر اور عقائد بھی شامل ہیں۔

سندھ کے قدیم آثار کی کھدائی کے دوران یہاں سے تین ثقافتی تہذیبوں یعنی آمری ، جھکراور جھانگر تہذیبوں کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ آمری کلچر، ہڑپہ کلچر کا پیش رو تھا، جھکر اور جھانگر کلچر ہڑپہ کلچر کے بعد کے عہد سے متعلق ہیں۔ چنانچہ ہڑپہ میں بالائی سطح پر ایسی باقیات بھی ملی ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علاقہ موئن جو دڑو کےقصہ پارینہ بننے کے بعد بھی آباد رہا ہے۔ 

چانہو جو دڑو کی بالائی سطح پر بھی جھکر اور جھانگر کلچر کی باقیات دریافت ہوئی ہیں اور جھکر کلچر کی تاریخ 1700قبل مسیح ہے تحقیق و تفتیش سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موئن جو دڑو کے لوگ تعمیرات کے معاملے میں بڑی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ان کے مکانات، دکانیں، در س گاہیں، کنویں، سڑکیں غرض کہ تمام تعمیرات باقاعدہ منصوبہ بندی سےکی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کھنڈرات میں جدید طرز تعمیر کی جھلکیاں بھی نظر آئی ہے۔ 

چنانچہ انہیں دیکھ کر فن تعمیر کے برطانوی ماہر نے کہا کہ موئن جو دڑو کی شاہراہ اول اور شاہراہ مشرق کا اتصال تو آکسفورڈ سرکس کا چوراہا معلوم ہوتا ہے۔ اس عہد کی اینٹیں، برصغیر پاک و ہند کی دوسری قدیم یا جدید اینٹوں کی بہ نسبت انگلستان کی اینٹوں سے زیادہ مماثلت رکھتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان تعمیرات میں اس نقش و نگاری کا کلی فقدان ہے، جو ہمارے قدیم فن کا طرۂ امتیاز ہے۔ 

حتیٰ کہ گپتاعہد میں نقش و نگار جس کی سندھ میں بہتات رہی۔ اس ضمن میں تراش خراش والی اینٹوں کے استعمال میں اس قدر مہارت پیدا ہو چکی تھی کہ یہ اسلوب تعمیر اپنی مثال آپ تھا۔ موئن جو دڑو میں نقاشی کے کام کی کمی رہی ، لیکن یہ کمی سندھ کے بعد کے حکمران یعنی سومرہ، کلہوڑا اور ٹالپروں نے پوری کر دی اور نقش و نگارکے اعلیٰ نمونے چھوڑے ہیں۔

موئن جو دڑو کی تہذیب کے اختتام کے بعد سندھ میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والوںاور ہندو راجائوں کی حکومت رہی۔ ان میں رائے خاندان کی حکومت طویل عرصہ تک قائم رہی۔ رائے خاندان کے حکم رانوں نے سندھ میں بے شمار نئے شہر آباد کئے جوٹیلوں پر آباد کیے گئے تھےتاکہ دریائے سندھ کی طغیانی جو سیلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے اس ناگہانی آفت سے بچائو ہو سکے۔ آج سندھ میں جتنے بھی دڑیں یعنی اہم ٹیلے ہیں وہاں شہر آباد تھے۔

موئن جو دڑو ضلع لاڑکانہ میں ہے۔ کاہو جو دڑو ضلع میر پور خاص ، چانہو جو دڑو ضلع شہید بے نظیر آباد، ٹھل میراکن ضلع شہید بے نظیر آباد میں۔ سدھیرن جو دڑو ضلع ٹنڈو محمد خان میں اور برہمن آباد موجودہ ضلع سانگھڑ میں ہے ۔ کئی دفعہ آباد ہونے اور اجڑنے سے مختلف تہیں بنتی رہتی ہیں۔ ان تہوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ ہرتہہ ایک خاص عہد یا زمانہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ 

آج موجودہ تاریخ، شہروں مثلاً ٹھٹھہ، حیدرآباد، سیہون، سکھر، لاڑکانہ، ملتان، لاہور وغیرہ کے نیچے نہ جانے کتنے تاریخی شہر اور دفن ہوں گےاور ان کے بارے میں اگر ہمیں کچھ پتہ چلتا ہے تو ان کھنڈرات کی تہوں سے ہی ان کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔مزید برآں ان ہندو راجائوں کے عہد میں طرز تعمیرات سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میںاینٹوں کی جگہ چٹانی پتھر کا استعمال ہوتا تھاجب کہ لوہے کا استعمال بھی اسی دورسےشروع ہوا۔ ضلع شہید بے نظیر آباد میں چانہو جو دڑو کے قریب دلیل کوٹ ہے، جو ہندو راجائوں کے عہد میں عدالت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

سندھ میں اسلام کی آمد کے بعد طرز تعمیر میں بھی خاصی تبدیلی آئی۔ محمد بن قاسم نے دیبل کی جگہ بھنبھور شہر کی بنیاد رکھی اور برہمن آباد کی جگہ منصورہ کو آباد کیا۔ سرزمین سندھ میں سب سے پہلے بھنبھور میں مسجد بنائی گئی، جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ عربوں نے ہسپانیہ اورمراکش میں جو تعمیرات کی تھیں، سندھ کے خطے میں ان کی تعمیر کردہ عمارتیں ان سے خاصی مماثلت رکھتی ہیں۔عربوں کے بعد سندھ میں ایرانی اور افغانی حکمرانوں کی آمد و رفت رہی۔ان کے تعمیراتی فن کی جھلکیاں ٹھٹھہ اور دیگر شہروں میں مساجد اور مزارات میں نظر آتی ہیں۔سلطان محمود غزنوی نے سندھ میں آمد کے بعد پہلی مسجد، بھوڈیسر مسجد ننگر پار کر میں تعمیرا کرائی۔

ارغوں اور ترخانوں کی آمد کے بعد سندھ کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے عہد میں یعنی شاہ بیگ ارغوں سے لے کر مرزا جانی بیگ تک یہاں کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ البتہ ان حکمرانوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے مزاربنوائےاور اس ابتدا ا عیسیٰ خان ترخان نےکی۔ ٹھٹھہ میں ارغوں اور ترخانوں کے عالی شان مقبرے موجود ہیں۔ سنہ 1000ھ تک سندھ ترخانوں کے قبضہ میں رہا ۔مغل بادشاہ اکبرکےسپہ سالار عبدالرحیم خان خانان نےجب سندھ کو مغلیہ سلطنت میں شامل کیا تو انہوں نے بھی تعمیراتی فن کو فروے دیا، ٹھٹہ کی شاہجہانی مسجد اپنی مثال آپ ہے۔

مغلوں کے بعد سندھ میں کلہوڑا خاندان کی حکومت قائم ہوئی۔انہوں نے حیدرآباد کو اپنا پایہ تخت بنایا۔یہاں ان کے عظیم الشان مقابرموجود ہیں۔ سندھ میں فن تعمیرات کو کلہوڑہ دور میں عروج ملا۔ ان میں میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میاں سرفراز خان کلہوڑو کا نام سر فہرست ہے۔ خدا آباد (دادو) شکار پور، خیر پور، حیدر آباد، میر پور ، لاڑکانہ وغیرہ جیسے شہران ہی حکمرانوں نے تعمیر کیے۔ 

میاں غلام شاہ کے تعمیر کردہ شہروں میں حیدر آباد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس شہر کی بنیاد 1767ء میں رکھی گئی۔ موجود دور میں کلہوڑوں اور ٹالپروں کے عہد کے بے شمار قلعہ، مساجد، اور مقبرے پورے سرزمین سندھ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ تعمیراتی حسن ان لوگوں کے جمالیاتی ذوق کا مظہر ہیں۔