• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام میں والدین کا مقام و مرتبہ اور اُن سے حُسنِ سلوک کی اہمیت (گزشتہ سے پیوستہ)

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

والدین سے متعلق ان تمام احکام وحی میں ایک بات بڑی قابلِ غور ہے کہ اولاد کو والدین کے ساتھ ادب و احترام ، ان کے حقوق کی ادائیگی ان سے بہترین برتاؤ اور اعلیٰ رویہ اختیار کرنے کی تاکید تو ہے، لیکن یہ حکم کہیں نہیں دیا گیا کہ والدین بھی اولاد کی پرورش کریں ،ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں، کیوں کہ یہ بات جبلّی طور پر حیوانات میں بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرتے ہیں ، ننھی سی چڑیا اپنے پیٹ کی غذا نکال کر اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتی اور اُن کی پرورش کرتی ہے۔ انسان تو پھر اشرف المخلوقات اور ذی شعور ہے، اس کی فطرت میں بھی یہ بات رکھ دی گئی ہے، اس لئے قرآن نے انسان کو کہیں بھی یہ تاکید نہیں کی ،تم اپنے بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرو۔ 

جہاں بچوں کی پرورش اور نگہداشت حیوانی جبلت میں ہے ،وہیں حیوانات کی جبلت یہ بھی ہے ،جانور کا بچہ بڑا ہو کر نہ صرف یہ کہ اپنے ماں باپ کو فراموش کر دیتا ہے، بلکہ وہ انہیں ماں باپ کی حیثیت سے پہچانتا تک نہیں اور اس حیوانی جبلت کی اتنہا یہ ہوتی کہ رشتوں کا تقدس تک پا مال ہو جاتا ہے۔ بس انسان کو والدین سے حسنِ سلوک کی قرآنی تاکید میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اے انسان دیکھ بڑا ہو کر ماں باپ کو فراموش نہیں کر دینا یہ انسانی فطرت نہیں حیوانی جبلت ہے تو بڑا ہو کر اور والدین کو فراموش کر کے جانور نہ بن جانا۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور اُن کی اطاعت صرف ایک الہامی حکم ہی نہیں، بلکہ ایک معاشرتی تقاضا ، عُمرانی خوبی اور خاندانی ضرورت بھی ہے۔ جو معاشرے پر دوررس اثرات کی حامل ہے، جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا کہ خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی اور والدین خاندان کی بنیادی اکائی ہیں،اس لئے والدین سے اچھا برتاؤ اور ان کا ادب و احترام معاشرے کو ایثار و قربانی ، ہمدردی و مواسات اور محبت و اخوت جیسے اعلیٰ انسانی جذبات سے مزین کرے گا۔ والدین کی اطاعت و فرماںبرداری معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے کا باعث ہوتی ہے، اس کے بر خلاف والدین کے ساتھ بدسلوکی کے رویے سے معاشرے میں نافرمانی اور انتشار کی فضا عام ہوگی۔

بد سلوکی کا یہ رویہ افراد معاشرہ کے اندر جذبۂ اطاعت کو ختم کر کے مادرپدر آزاد شتر بے مہار قانون شکن، ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری انسان بنائے گا۔ والدین عزت و شرافت کا معیار ہیں۔والدین کی عزت و احترام اٹھ جانے سے شرافت کی معروف اقدار مٹ جائیں گی۔ آنکھوں سے شرم و حیا اور دلوں سے ادب و احترام جیسے محاسن ناپید ہو جائیں گے ،خود غرضی اور خود سری کی لعنتیں معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی اور وہ اجتماعی سکون سے محروم ہو جائے گا۔ ایسے معاشرے کو انسانی معاشرہ کہنے کی بجائے جانوروں کا ریوڑ کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔

ہم جس دور میں رہے ہیں، اس میں معاشرتی انتشار کی بدولت خاندانی نظام زندگی بہت بری طرح توڑ پھوڑ کا شکار ہے، ایسے دگرگوں ماحول میں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اطاعت و فرماںبرداری کا عملی نمونہ بن کر اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے معاشرے میں والدین کے ادب و احترام پر مبنی جذبۂ اطاعت کو عام کر سکیں اور معاشرے میں والدین کی عزت و احترام کے رویوں کو کسی بھی قیمت پر کم نہیں ہونے دیں۔ 

مغرب نے والدین کے ساتھ جو رویہ اپنا رکھا ہے، افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ وہ ہمارے جیسے معاشروں میں بھی راہ پارہا ہے اور مسلمان ان مغربی غیر اخلاقی رویوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان وحی شکن رویوں کے آگے صرف ایک صدارتی آرڈیننس سے بندھ نہیں باندھا جا سکتا اس سیلاب بلاخیز کواسلام کی معاشرتی تعلیمات اور خاندانی اصلاح اور تربیت سے روکا جاسکتا ہے۔