• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریلوے کی مالی حالت پتلی، ریٹائرڈ ملازمین 2-2 سال سے گریجویٹی سے محروم

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)کوئٹہ ڈویژن سمیت ملک بھر میں ریلوے خزانہ خالی ہونے کے باعث رواں ماہ بزرگوں اور بیواوں کو پنشن دینے میں دشواری کا سامنا رہا اور ریلوے کو وزارت خزانہ سے رقم بروقت نہ ملنے کے باعث ایک لاکھ 20 ہزار کے قریب پنشنروں کو نصف جون تک پنشن ادا نہیں کی گئی، ریلوے کے مالی حالات کی خرابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گریڈ 17اور اوپر میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو دودوسال سے گریجویٹی کی ادائیگی نہیں کی گئی ، ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اس طرح کے سیکڑوں کیسز پینڈنگ میں ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کے یہ واضح احکامات موجود ہیں کہ ریٹائر ہونے والوں کو گریجویٹی سمیت ان کے تمام واجبات ا ن کی ریٹائرمنٹ کے روز ہی ادا کیے جا ئیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گریجوئٹی بروقت نہ ملنے سے ان ملازمین اپنے بچوں کو سیٹل کرنے اور انکے شادی بیاہ کے جو منصوبے بنا رکھے تھےوہ بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔تفصیلات کے مطابق ریلوے کا خزانہ خالی ہونے پر 1لاکھ 20 ہزار سے زائد پینشنرز جون کی پندرہ تاریخ تک پنشن سے محروم رہے۔ذرائع کے مطابق ریلوے کو وزارت خزانہ سے رقم نہ ملنے کے سبب بزرگوں اور بیواوں کو پنشن دینے میں دشواری کا سامناہے ، پیسے نہ ہونے کے باعث بیواؤں اور بزرگوں کے چیک رک گئے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی حکومت سے پینشن کی مد میں سبسڈی کی رقم تاخیر کا شکار ہو ئی۔ رقم ملتے ہی تے ہی بینکوں کو چیک جاری کر دئیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پینشنرز کاکہنا ہے کہ وہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، مہنگائی میں روز مرہ کے اخراجات کو پورا کرنا نا ممکن ہو گیا ہے ۔ان کے مسائل کے حل کے لئے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیاجائے اور پنشن کے مقررہ تاریخ میں ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ بعض پنشنرز کا کہنا تھا کہ ان کو ریٹائر ہوئے دو سال ہونے کو ہیں مگر گریجویٹی کی رقم آج تک نہیں مل سکی ہے، انھوں نے گریجوئٹی کی ادائیگی کیلئے متعلقہ حکام کو درخواستیں دیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ ریل کے پاس تنخواہوں کی ادائیگی تک کیلئے رقم نہیں تو آپ کو گریجوئٹی کہاں سے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے باقاعدہ احکامات موجود ہیں کہ ریٹائر ہونے والے کو اس کی ملازمت کے آخری دن تمام واجبات کی ادائیگی کی جائے ۔ محکمہ ریلوے ان احکامات کی کھلی خلاف ورز ی کر رہا ہے ۔ عدالت عظمیٰ اس کا از خود نوٹس لے اور بڑھاپے میں ریٹائرڈ ملازمین کو ذہنی ازیت سے نجات دلائے ۔درایں اثنا محکمہ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ریلوے میں حاضر سروس ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے جبکہ ریلوے سے ریٹائر ہو کر پینشن لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ریلوے کے محکمے پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے اور گزشتہ سال پنشن کی مد میں 31 ارب 41 کروڑروپے 88 لاکھ 93 ہزارروپے خرچ ہوئے ہیں۔محکمہ ریلوے کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019 کے مقابلے میں 2020 میں حاضر سروس ملازمین کی تعداد کم ہو کر 67 ہزار627 رہ گئی، مالی سال 2020 میں ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 28 ارب 21 کروڑ 44 لاکھ 77 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں۔
کوئٹہ سے مزید