• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروباری لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی پراجیکٹ شروع کیا جاتاہے، پہلے اس کی فیزیبیلیٹی بنائی جاتی ہے ۔ آپ ایک ارب روپے کے فنڈز سے ایک منصوبہ شروع کرتے ہیں تو منافع کتنا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے سرمایہ لگا دیا جائے اور بعد میں تماشہ دیکھا جائے ۔ اگر یہ پیسے بینک میں رکھ دیے جاتے یا دکانیں بنا کر کرایے پر دے دی جاتیں تو اس سے زیادہ نفع تو ویسے ہی ہوجانا تھا۔ پھر فائدہ اتنی محنت کا ؟ اگر پراجیکٹ ٹھیک بنیادوں پر استوار نہ ہو تو فائدہ دینے کی بجائے وہ انسان کا خون پینا شروع کر دیتا ہے ۔ جو کھرب پتی ہیں ، ان کے ایک ایک سیکنڈ کی قیمت ہوتی ہے ۔ ایک شخص کے لیے ایک لفٹ پورا دن ساکن رہتی ہے ۔ وجہ ؟ عام لفٹ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ انتظار کرتے ہوئے اس نے جو تین منٹ ضائع کرنے ہیں ، ان تین منٹ میں اس نے کروڑوں کے فیصلے کر لینے ہیں۔ اس کا وقت بہت قیمتی ہے ۔

جب انسان دولت کما رہا ہوتاہے تو اس سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں ہوتی۔ دوسری طرف آپ صوفی چھوڑیے، بل گیٹس جیسے دانشمند کاروباری شخص کو بھی دیکھیں تو ایک راز وہ پا گیا ہے ورنہ اتنی آسانی سے آدھی جائیداد کیسے دے دیتا ۔اس نے تاخیری حربے استعمال کیوں نہ کیے کہ جائیداد بچائی جا سکے۔ پوری دنیا میںوہ پولیو ویکسین جیسے اتنے بڑے بڑے سماجی بہبود کے پراجیکٹس کیوں چلاتا ۔

وہ راز یہ ہے کہ زندگی میں آپ ایک حد تک ہی وسائل استعمال کر سکتے ہیں ۔ بل گیٹس 66برس کا ہو چکا ۔ پیچھے کتنے رہ گئے؟ دولت مند یہ نہیں کر سکتا کہ خوش ہو تو دس روٹیاں کھا جائے ۔زندگی میں جتنے نوالے آپ نے کھانے ہیں ، وہ گنے ہوئے ہیں ۔ حدیث یہ کہتی ہے کہ انسان کہتا ہے ، میرا مال ، میرا مال حالانکہ اس کا مال صرف اتنا ہی ہے ، جتنااس نے کھا لیا یا پہن کے بوسیدہ کر دیا یا اللہ کی راہ میں دے دیا ۔ اس کے علاوہ باقی تو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانا ہوگا۔ (صحیح مسلم 2959)

انسان اپنی عمر نہیں بڑھا سکتا ۔ لا علاج امراض سے خود کو بچا نہیں سکتا ۔ ایک آئس کریم اور ایک جھولا، بچّے کو وہ خوشی دلا سکتاہے، جو بڑھاپے میں ایک مرسڈیز گاڑی نہیں دلا سکتی ۔ چالیس کلو کی اضافی چربی جسم پہ چڑھی ہوتی ہے اور جوڑ درد کرتے ہیں ۔ کیا خوشی منائے وہ؟

دنیا میں جتنی بھی قیمتی اشیا ہیں ، وہ صرف اپنے محدود اورچند ہاتھوں میں مرتکز ہونے کی وجہ سے قیمتی ہیں ۔ سمندر کا پانی یا زمین کی مٹی کیوں بے وقعت ہیں ؟ اس لیے کہ وہ ہر ایک کی دسترس میں ہیں اور کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تمام مخلوقات نے جو کچھ کھانا ہے ، وہ زمین سے اگتا ہے یا بارش کی صورت میں نازل ہوتا ہے ۔

سونا ہمارے لیے تو بہت قیمتی ہے لیکن ایک ایک ستارے /سورج کے مرکز میں کتنے کتنے ٹریلین ٹن سونا بے کار پڑ ا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ جن92عناصر کی ملکیت پر انسان اس زمین پہ لڑتا پھرتا ہے ، وہ درحقیقت غیر اہم ہیں ۔ سب سے زیادہ انسان زمین کی ملکیت پہ لڑتا ہے ۔ایک ایک سیارے پرکروڑوں ایکڑ زمین بے کار پڑی ہے ۔ چاند اور مریخ پر اس خالی زمین کا دعویدار کوئی نہیں ۔ تیل اور سونے سمیت ، جن جن چیزوں پر انسان لڑتا پھر رہا ہے ، خدا کے نزدیک درحقیقت ان کی کوئی وقعت نہیں ۔ شروع شروع میں جب انسان آسٹریلیا اور امریکہ گیا تھا تو زمین کی قیمت وہاں کیا تھی ۔ پاکستان میں چند روپوں میں ایکڑوں کے سودے ہوا کرتے تھے ۔

ان سارے وسائل کی قیمت ان کی کمیابی سے ہے ۔ نیو یارک میں زمین کی قیمت اس لیے زیادہ مہنگی نہیں کہ مٹی کا معیار شیخوپورہ سے بہت اونچا ہے ۔ ہو سکتاہے یہاں کی مٹی نیو یارک سے بہتر ہو اور پانی بھی میٹھا ہو ۔ وہاں قیمت اس لیے زیادہ ہے کہ خریدار اور خواہشمند بہت زیادہ ہیں ۔

اس سارے گورکھ دھندے میں انسان ایک بات بھول گیا۔ جس طرح زمین کا سونا اور تیل محدود ہیں ، اسی طرح زمین پہ اس کا وقت اور اس کے افعال بھی محدود ہیں ۔آپ ایک زمین پر سبزی اگا سکتے ہیں یا دکانیں بنا کر کرایے پر دے سکتے ہیں ۔ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے کہ دکانوں کے اندر ٹینڈے کاشت ہو رہے ہوں۔ اس کے لیے ایک پراجیکٹ کی نظر سے زمین کو دیکھنا ہوگا کہ زیادہ فائدہ کس میں ہے؟

اسی طرح انسان کی توانائی بھی محدود ہے ۔ ایک باکسر زندگی میں گنے ہوئے گھونسے ہی رسید کر سکتاہے ۔میں زندگی میں صرف ساٹھ ہزار دفعہ کھڑا ہو سکتا ہوں ۔آپ زندگی میں صرف دو کروڑ مرتبہ سوچ سکتے ہیں ، اس سے زیادہ نہیں ۔ انسان بھی دراصل ایک پراجیکٹ ہے۔ پراجیکٹ یہ ہے کہ یا تو کسی حسین عورت کے بارے میں سوچ لو یا ﷲ کے بارے میں ۔ یا سبزی اگا لو یا دوکان کا کرایا لے لو۔آدمی کی مٹھی سے زندگی ریت کی طرح پھسلتی چلی جا رہی ہوتی ہے اور پاگلوں کی طرح وہ دولت کمانے کی جدوجہد میں مصروف رہتاہے ؛حتیٰ کہ پراجیکٹ ختم ہو جاتا ہے ۔

جس طرح ارب پتی بندہ سوچتا ہے کہ میرا ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے ، اسی طرح دنیا کے ہر اس شخص کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ، جس میں وہ خدا کے بارے میں سوچتا ہے ۔ پوری زندگی انسان سوچتا رہتا ہے کہ زیادہ فائدہ کس میں ہے ؟اپنا خسارا میں کیسے گھٹائوں ۔خراب ٹماٹر وہ سبزی والے کے منہ پر دے مارتا ہے ۔نہیں سمجھ آتی تو بس یہ نہیں کہ خدا کے بارے میں تو وہ سوچ ہی نہیں رہا ۔ خسارا گھٹے کیسے ؟

تازہ ترین