• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیاتی آلودگی پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے؟

’’ماحولیاتی آلودگی‘‘ دنیا کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ ماحولیات کے تحفظ اور خطرناک ماحولیاتی تبدیلیاں روکنے کےلئے عالمی سطح پر کئی کانفرنسیں ہوچکی ہیں۔ دن بدن دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اگر یہ صورتِ حال اسی طرح برقرار رہی تو اس سے نسل انسانی کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا۔ امریکہ کی صنعتیں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں شامل کرتی ہیں۔ اس کے بعد چین، بھارت اور دیگر بڑے ممالک کا نمبر آتا ہے۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر کاربن کے اخراج میں کمی کے اقدامات کئے گئے تو اس سے ان کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ یہی وجہ ہے بڑے ممالک کی جانب سے گلوبل وارمنگ کے لئے سنجیدہ کوششیں نہ کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں امریکہ، چین، فرانس، جاپان، بھارت اور دیگر ممالک کے رہنمائوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ ان کو انسانیت دشمن اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کا سبب قرار دیاگیا ۔ماحولیاتی سائنس دانوں نے بہت پہلے خبردار کرنا شروع کردیا تھا کہ اگر کرۂ ارض کی فضا گرم ہوتی رہی تو اس سے آب وہوا کے نظام میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ ماحولیاتی آلودگی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف نوعیت کے کیمیکلز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ ان سے ایسی گیسیں پیدا ہوتی ہیں جو ہماری زمین کی فضا کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ یہ گیسیں فضا میں موجود گیسوں کے ساتھ مل کران گیسوںکی تباہی کا باعث بن رہی ہیں جو دراصل ہماری زمین کو سورج سے نکلنے والی مضر شعاعوں اور دیگر ذرات سے بچاتی ہیں۔ یہ عمل بذاتِ خود عالمی سطح پر نہایت سست رفتار لیکن بھیانک تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے دنیا بھر میں گلیشئرز پگھل رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہورہی ہے جس سے ساحل سمندر پر واقع دنیا کے کئی شہروں کے ختم ہونے کا امکان ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشئرز کے پگھلنے سے پانی کی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ اور سمندری اور جنگلی حیات کی بقا کیلئے خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہونے والی متعدد تحقیقی مقالوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمیحدت کے باعث سرد علاقوں میں رہنے والے جانوروں کی کئی انواع اپنی جگہیں چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔ ماحولیاتی ماہرین یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گلوبل وارمنگ پر قابو نہ پانے کی صورت میں موجودہ صدی کے اختتام تک صورت حال اس حد تک خراب ہوسکتی ہے کہ انسان کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوجائے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کی وجہ سے ایک سو تیس ممالک سر جوڑکر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔اس وقت امریکہ اور چین کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ چین بلاشبہ عالمی مارکیٹوں پر چھایا ہوا ہے۔ مستقبل کا سپر پاور بھی چین ہی نظر آرہا ہے۔ چینی کارخانے امریکی منڈیوں کے لئے ہمہ وقت مصنوعات تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ امریکی بازار چینی اشیا ءسے بھرے پڑے ہیں۔ امریکہ معاشی ابتری کے اس زمانے میں بھی چینی مصنوعات کا بڑا خریدار ہے۔ اسلئے چین کی شراکت کے بغیر ماحولیاتی آلودگی اور دنیا کو درپیش دوسرے چیلنجوں سے نہیں نمٹا جاسکتا۔ اگر امریکہ اور چین دونوں تہیہ کرلیں کہ ماحولیات کا تحفظ کیا جائے گا اور اس حوالے سے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں تو ماحولیاتی آلودگی میں کمی آسکتی ہے، لیکن یہ دونوں عملی طورپر ایسا کرتے نظر نہیں آتے۔ جس طرح ماحولیاتی آلودگی کو بڑھانے میں سب سے زیادہ کردار چند ترقی یافتہ ممالک کا ہے، اسی طرح آلودگی میں کمی کرنے میں بھی ان ہی ممالک کو آگے بڑھنا چاہئے۔ یہ مسئلہ چونکہ کسی ایک ملک اور قوم کا نہیں بلکہ یہ پوری دنیا اور اس میں بسنے والی تمام نسلوں کی بقا کا ہے اس لئے سب کو باہم مل کر اس کا حل نکالنا چاہئے۔ ترقی یافتہ اور بڑے ہونے کے ناتے اس میں برطانیہ، روس، امریکہ اور چین کو اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کےلئے لازمی ہے کہ عالمی سطح پر طرزِ زندگی میں تبدیلی لائی جائے۔چین اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کیلئے کہا گیا تھا لیکن امریکہ کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا۔امریکہ کو اس طرح کے عالمی مسائل سے سروکار ہی نہیں ہے، وہ صرف دنیا میں جنگیں لڑنے سے دلچسپی رکھتا ہے۔ جس کا ایک ثبوت یہ ہے امریکی سینیٹ نے ان ہی دنوں 639بلین ڈالر کے فوجی اخراجات کا بل منظور کیا گیا تھا۔ اگر اس بل کا ایک تہائی بھی وقف کردے تو ماحولیاتی آلودگی ختم ہوسکتی ہے لیکن امریکہ کو انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔آپ خود سوچیں! انسانوں کی بھلائی کیلئے کئےجانے والے کاموں میں رکاوٹ کون ہے؟

تازہ ترین