• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمائما کا ایک بار پھر عمران خان کے بیان پر ردعمل


وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما  نے ڈھکے چھپے انداز میں عمران خان کے عورتوں کے مختصر لباس سے مردوں کے جذبات کے بھڑک اٹھنے سے متعلق بیان پر ردعمل دیا ہے۔

اس سے قبل ریپ سے فحاشی کو جوڑنے پر بھی جمائما نے کھلے الفاظ میں عمران خان کے حوالے سے کہا تھا کہ جس عمران کو میں جانتی ہوں وہ کہتا تھاکہ پردہ عورتوں کی نہیں بلکہ مردوں کی آنکھوں پر ڈالنا چاہیے۔

اب امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، عورت کے مختصر لباس سے مرد کے جذبات بھڑک جاتے ہیں۔

وزیراعظم کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے، اس بحث میں ان کی سابقہ اہلیہ نے بھی ڈھکے چھپے انداز میں حصہ لیا ہے۔

انہوں نے اس سے قبل عمران خان کے بیان پر ردعمل میں کیے گئے ٹوئٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ کیساتھ ’ایک بار پھر یہی‘ لکھا۔

جمائما نے اپنے ٹوئٹ میں  سعودی عرب کی ایک بزرگ خاتون کا قصہ بیان کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’آج بھی یاد ہے کہ جب برسوں پہلے وہ سعودی عرب میں تھیں تو ایک بزرگ خاتون برقع اور نقاب کیے ہراسانی کا شکار ہوئی تھیں۔‘

جمائما نے لکھا کہ ’خاتون نے حقیقیت بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ برقع اور نقاب میں باہر کہیں جارہی تھیں تو ایک نوجوان نے ان کا پیچھا کیا ہراساں کیا، جس سے چھٹکارا پانے کا واحد حل یہ تھاکہ وہ اپنا نقاب ہٹائے۔‘

اپنے ٹوئٹ کے آخر میں جمائما نے لکھا کہ ’مسئلہ کبھی بھی خواتین کے لباس کا نہیں رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو امریکی ٹی وی کو انٹریو میں ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، عورت کے مختصر لباس سے مرد کے جذبات بھڑک جاتے ہیں۔

عمران خان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے، سوشل میڈیا صارفین کی اس معاملے پر رائے منقسم ہے۔

عمران خان کا کہناتھاکہ انہوں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی پہلی اہلیہ سے طلاق ہوئے ڈیڑھ دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم اب بھی مداح ان کی جوڑی اور محبت سے متعلق باتیں کرتے رہتے ہیں، جمائما بھی اپنے بیانات پر خبروں کا حصہ بنتی رہتی ہیں اور انہیں خبروں میں رہنے کا فن بھی خوب آتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید