• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ہارون مرزا۔۔۔۔راچڈیل
عالمی وبا کورونا وائرس کی ہولناک تباہ کاریوں کے بعد انسانوں کو موذی مرض سے بچانے کیلئے دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے مختلف اقسام کی ویکسین متعارف کرائی جا چکی ہیں، ویکسین بنانے کی دوڑ میں چین سرفہرست رہا، چینی حکام نے سرکاری دوا ساز کمپنی سائنو فارم کی تیار کردہ ویکسین لگانے کی اجازت ملنے کے بعد نہ صرف اپنے ملک میں ویکسی نیشن کا عمل شروع کیا بلکہ پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک کو بھی ویکسین فراہم کی گئی، پاکستان میں چائینہ طرز کی ویکسین اب تک لاکھوں افراد لگوا چکے ہیں امریکہ ‘ برطانیہ ‘ یورپی اور عرب ممالک کی طرف سے بین الاقوامی سفر کرنیوالے مسافروں کیلئے چائینہ کی ویکسین قبول نہ کرنے کے اعلان نے ایک طوفان برپا کر دیا ہے، سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ فائزر‘آسٹرازینیکا ‘جانسن اینڈ جانسن اورموڈرنا ویکسین کا سرٹیفکیٹ رکھنے والے افراد کو ہی داخلے کی اجازت دی جائے گی، سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے وطن پہنچے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے چین کی تیارکردہ ویکسینزلگوا رکھی ہیں، اس طرح عالمی سطح پرکرپشن کا دروازہ کھل رہا ہے، کیونکہ بیرون ممالک سفر کرنے والوں کو ہنگامی صورتحال میں منہ مانگے داموں پر مطلوبہ ویکسین لگوانا پڑے گی، چائنیز دوا ساز کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ویکسین اور یورپی ممالک کی ویکسین ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ ہیں مگر ایک سے انکار اور دوسری قابل قبول کا عمل بحران کو جنم دیتا نظر آ رہا ہے، کورونا سے بچائو کیلئے مختلف ممالک نے مسافروں کیلئے سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں برطانیہ ‘ امریکہ ‘ یورپی اور عرب ممالک کی طرف سے ایسے مسافروں کیلئے سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں جو کورونا سے بچائو کیلئے ویکسین کی دو خوراکیں لے چکے ہیں مگر بدقسمتی سے لاکھوں پاکستان جو اب تک چائینہ کی ویکسین لے چکے ہیں کا کورونا سرٹیفکیٹ ان ممالک میں قابل قبول نہیں، جس سے ان کے لیے بین الاقوامی سفر کیلئے دروازے بند ہو گئے ہیں، ویکسی نیشن مکمل کرانے کے بعد وہ کئی ماہ تک دوبارہ ویکسین لگوانے سے بھی قاصر ہیں، سائنو فارم چین کی ایک سرکاری دوا ساز کمپنی ہے جس کی ویکسین شرح فائزر اور موڈرنا کی تیارکردہ ویکسین سے کم اور86فیصد موثر ہے، اس ویکسین کو لگوانے والے مسافروں کے کورونا سرٹیفکیٹ کو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا جا رہا، چائینہ کی یہ ویکسین ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ہوتی ہے جس میں وائرس یا بیکٹریا کو گرمی یا کیمیکلز سے ہلاک کرنے کے بعد شامل کیا جاتا ہے جب یہ ویکسین جسم میں داخل کی جاتی ہے تو ان کے مردہ خلیوں سے جسم کا مدافعتی نظام زندہ وائرس یا بیکٹریا کا مقابلہ کرنا سیکھ جاتا ہے اور ویکسین کے نتیجے میں کسی منفی ردعمل کا خطرہ بھی نہیں ہوتا،مغربی ممالک میں بننے والی موڈرنا اور فائزر ویکسین ایم آر این اے ویکسین کے حامل مسافروں کی ویکسی نیشن کو عالمی سطح پر قبول مگر چائینز ویکسین کو ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے، دسمبر کے آغاز میں سائنوویک ویکسین کی پہلی کھیپ انڈونیشیا پہنچی جس کے بعد پاکستان نے بھی چینی کمپنی سائنو فارم سے ویکسین خریدنے کا اعلان کیا اور دھڑا دھڑ لوگوں کو ویکسین لگانا شرو ع کر دی، ہندوستان میں بھی مختلف اقسام کی ویکسین لگائی جا رہی ہیں، جس کے منفی اثرات بھی سامنے آئے ہیں، مرکزی وزارت صحت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر منوہر اگنانی نے کچھ عرصہ قبل کورونا ویکسین کے تین اقسام کے مثبت اثرات پر روشنی ڈالی، نئی دہلی کے راجیو گاندھی سپر سپیشلیٹی ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر بی ایل شیروال نے بھی ان خدشات کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ ویکسی نیشن مہم کے دوران تقریباً دس فیصد کیسز سامنے آئے ہیں، جس میں منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، ویکسی نیشن سے قبل فرد کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق آگاہی ضروری ہے مگر پاکستان میں بغیر کسی کی میڈیکل ہسٹری جانے اور اس امر کے چائینہ کی ویکسین بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ہوگی بھی یا نہیں دھڑا دھڑا لوگوں کو ویکسی نیٹ کرنے کا عمل شروع کیا گیا، لاکھوں پاکستانی جن میں تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے اب ویکسین مکمل کرانے کے بعد مختلف ممالک کے سفر کیلئے تیار ہیں مگر برطانیہ ‘ امریکہ ‘ یورپی اور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب چائینہ کی ویکسین کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں، جس سے تارکین وطن کے لیے بہت بڑی مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں پاکستان اب اپنی ویکسین بھی متعارف کرا چکا ہے جس کی ایک ہی خوراک کافی قرار دی جا رہی ہے، یورپی ممالک کی تیار کردہ ویکسین قابل قبول اور چائینہ کی ویکسین ماننے سے انکار کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے ‘ پاکستانی شہری چین کی تیار کردہ کوئی بھی ویکسین لگوانے والے بیرون ممالک سفر نہیں کرسکتے ،بیرون ممالک خصوصاً امریکا اور یورپ میں سفر کے لیے انہیں فائزر یا برطانیہ کی تیار کردہ آسٹر ا زینیکا ویکسین دوبارہ لگوانا پڑے گی جو ایک بار ویکسی نیشن مکمل ہونے کی مخصوص مدت گزرنے کے بعد ہی لگوائی جا سکتی ہے، چین کی تیار کردہ ویکسین یا اب مقامی طور پر چین کے تعاون سے تیار ہونے والی ویکسین پاک ویکس لگوانے والوں کے سرٹیفکیٹس عرب ممالک بھی تسلیم نہیں ہو رہے جو بلاشبہ تارکین وطن کیلئے بہت بڑا مسئلہ ہے، امریکا‘کینیڈا یا یورپی ممالک فائزر اور آسٹرازینیکا سمیت مغربی ممالک کی تیارکردہ ویکسین کے سرٹیفکیٹس کو قابل قبول قرار دے رہے ہیں، عالمی برادری نے جن ویکسینز کی منظوری دی ہے اس میں چائینہ اور پاکستانی ویکسین کو شامل نہ کرنے پر نیا بحران سامنے آ رہا ہے، جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے، پاکستان واپس آنیوالے تارکین وطن جو چائینہ کی ویکسین لگوا کر اپنی ویکسنیشن مکمل کرا چکے ہیں، اب کورونا سرٹیفکیٹ قبول نہ ہونے پر پھنس کر رہ گئے ہیں آج سعودیہ ‘ امریکہ ‘ برطانیہ ایک ویکسین سے انکار کر رہے ہیں تو کل کوئی دوسرا کسی دوسری ویکسین پر اعتراض اٹھادیگا، ایسی صورتحال برقرار رہی تو کیاسفر کرنے والوں کو اب تک بننے والی تمام ویکسینزلگوا کر ان کے سرٹیفکیٹس جیب میں لے کر گھومنا پڑیگا کہ جہاں جس سرٹیفکیٹ کی قبولیت ہوگی وہاں وہ سرٹیفکیٹ پیش کردے، تارکین وطن کی طرف سے اس امر پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، تارکین وطن کا موقف ہے کہ ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ دیگر ویکسینز کو عالمی سطح پر قبول کیا جا رہا ہے تو چائینہ کی ویکسین سے انکارکیوں اسے کھلے تضاد کا فوری خاتمہ کر کے تارکین وطن کو درپیش مشکلات سے نجات دلائی جائے۔
یورپ سے سے مزید