• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماں کی خوراک کے بچے کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ حمل کے دوران ماں جو کھانا کھاتی ہے اس کے بچے کی صحت پر دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین کی جانب سے چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق حمل کے دوران  ماں جو ایملسیفائرز استعمال کرتی ہے وہ بچے کی آنتوں کی ابتدائی نشوونما پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بچوں کی آنتوں کی ابتدائی نشونما پر ایملسیفائرز کے اثرات مستقبل میں بچوں کی آنتوں میں سوزش اور وزن میں اضافے کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ پاسچر اور انسرم کے سائنسدانوں کی سربراہی میں ہونے والی یہ تحقیق اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ ابتدائی زندگی کی خوراک کس طرح نسلوں میں پائیدار حیاتیاتی نشانات چھوڑ سکتی ہے۔

کھانے کی اشیاء اور گٹ بیکٹیریا 

ایملسیفائرز تیل اور پانی جیسے اجزاء کو ملانے میں مدد کرتے ہیں اس لیے فوڈ کمپنیاں کھانے کی اشیاء کی ساخت کو بہتر بنانے اور اُنہیں زیادہ دیر تر محفوظ رکھنے کے لیے ان میں ایملسیفائرز کو شامل کرتی ہیں۔

پروسیسرڈ فوڈز جیسے کہ آئس کریم، بیکڈ آئٹمز، ساسز، ڈیری آئٹمز اور پاؤڈرڈ بیبی فارمولا میں میں اکثر ایملیسیفائرز موجود ہوتے ہیں۔

دو عام ایملسیفائرز کاربوکسی میتھائل سیلولوز (ای 466) اور پولیسوربیٹ 80 (ای 433) ہیں۔

یاد رہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات پہلے ہی سامنے آ چکی ہے کہ یہ اضافی چیزیں بالغ افراد میں گٹ بیکٹیریاز کو پریشان کرتی ہیں۔ گٹ بیکٹیریاز انسان کے ہاضمے، مدافعتی توازن اور میٹابولزم کے لیے بہت اہم ہیں۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید