• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں کرنسی نوٹ اور سکہ کا رواج عام ہے۔ کاغذی کرنسی سے قبل چاندی کے روپے کا استعمال ہوتا تھا ۔قدیم زمانے میں جب سکے کا رواج نہ تھا تو تجارت اور لین دین کے لیےاجناس کے بدلے اجناس کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جب دھات کا دور آیا اور لوگوں نے سونا چاندی، تانبے اور پیتل کا استعمال کرناسیکھا تو تجارت او رلین دین کے لیے انہی دھاتوں کا استعمال کیا گیا۔وادی سندھ کی تہذیب میں چھٹی صدی قبل مسیح ،سکوں کا رواج عام ہو چکا تھا۔ وادی سندھ کے سکے چاندی کے ٹکڑے ہوتے تھے،جن پر دھاتی مہروں سے نشان کندہ کیے جاتے تھے۔ سندھ تہذیب کے زوال پذیر ہونے کے بعد بھی یہ سکے جو ’’پن ‘‘یا ’’کرشاپن ‘‘کہلاتے تھے، ہندوستان میں بڑی مدت تک رائج رہے۔ گوتم بدھ کے زمانے میں بھی یہی سکے چلتے تھے۔ سکندراعظم ،جب ٹیکسلا پہنچا تو اسے یہی سکے نذر کیے گئے۔ 

ایک زمانے میں ہندوستان کے قدیم ترین سکے سمجھے جاتے تھے۔ لیکن مخققین نے جب ان پر تحقیق کیں تو معلوم ہوا کہ ان سکوں پر اسی زبان میں تحریریں کندہ ہیں اور ویسے ہی نشانات منقش ہیں جیسے کہ وادی سندھ کی مہروں پرملے تھے۔ موہنجودڑو کے آثار میں وہ سانچے بھی ملے ہیں جن سے ان سکوں پر نشانات بنائے جاتے تھے ۔ آثارقدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی سندھ کی صحیح تاریخ مرتب کرنے کے لیےسندھ کے سکوں پر کندہ عبارات کی باقاعدہ تحقیق کرکے تاریخ سندھ کے گم شدہ اوراق کو تلاش کر نے میں مدد مل سکتی ہے۔ سکوں کے ذریعے تاریخ کا اتنا حقیقی اور صحیح مواد ملتا ہے جو کسی دوسرے ذریعے سے ملنا محال ہے۔ درحقیقت سکوں کا صرف جمع کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کا مطالعہ کرنا اور ان پر تحقیق کرنا لازم ہے۔

 چھٹی صدی قبل مسیح میں، سندھ میں دھاتی سکوں کا رواج عام تھا

کسی بھی حکومت کا اپنی ریاست میں سکہ جاری کرتا، اس کی خود مختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن سندھ کے سمہ حکمرانوں نے سکے جاری کرنے کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ اگرچہ ان میں سے کئی حکمراں خود مختار تھے، تاہم اُنھوں نے اپنی سلطنت میں اپنے نام اور مہر کا سکہ جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور ہمسایہ ریاستوں کے جاری کیے ہوئے سکوں کا یہاں استعمال ہوتا رہا۔ سندھی مؤرخین کاکہنا ہے کہ بعض تاریخی کتابوں میں اس دور کے سکوں کے بارے میں جو کچھ درج ہے وہ نامکمل اور بہت ہی مختصر ہے۔ ان کے مطالعہ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ سمہ حکمرانوں کے دور میں ان کے اپنے جاری کردہ سکے بھی رائج تھے۔ لیکن اس خاندان کے کن حکمرانوں نے یہ سکے جاری کیے، اس کے بارے میں آج تک تحقیق کی گئی ہے اور نہ ہی کچھ لکھا گیا ہے۔

جام انٹر کےدور حکومت میں شرح مبادلہ کے طور پر سکہ رائج تھا لیکن اس کے نام کا کوئی بھی سکہ اب تک نہیں ملا ہے۔ اس دور میں سندھ میں ہندوستان کےبادشاہ ،سلطان محمد بن تغلق کے سکے دینار، تنکہ، عدلی، نغفی، درکانی اور جیتل رائج تھے۔ دینار سونے کا سکہ تھا اور اس کا وزن ۱۹۹گرین تھا۔ اس کے ایک طرف گول دائرے میں ’’الوثق بتائید الرحمان محمد شاہ سلطان‘‘ اور چاروں اطراف میں ’’ھذا الدنار۔ بحضرۃ دھلی سنہ سبع و عشرین و سبع مائۃ‘‘ لکھا تھا۔ سکے کے دوسرے رخ پر کلمہ شہادت لکھا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سونے کا سکہ اور تھا جس کا وزن ۱۷۰ گرین تھا اس کے ایک دائرے میں ’’فی عھد محمد بن تغلق‘‘ اور چاروں طرف ’’ضرب ھذا الدُنیاء بحضرۃ دھلی سندست و ثلثین وبسبع مائہ‘‘ لکھا تھا اور دوسری طرف ’’و اللہ الغنی وانتم الفقرا‘‘ لکھا ہوا ہے۔ 

جیتل تانبے کا سکہ تھا ۔ یہ سکے بھی سندھ میں ٹھٹہ، بدین، سیہون اور اروڑ سے دست یاب ہوئے ، اس سے یہ امر یقینی ہے کہ یہ سکے سندھ میں بھی رائج تھے۔جام فتح خان کے دور میں سندھ کےہمسایہ ریاست، گجرات سے گہرے تعلقات رہے، جس کی وجہ سے وہاں کے حکمراں احمد شاہ (۸۱۴ھ۔ ۸۴۶ھ) کے نام کےچاندی اور تانبے کے سکے بھی سندھ میں رائج تھے۔قدیم آثار کی کھدائی کے دوران جون پور کے حاکم ابراہیم شاہ کےجاری کیے ہوئے تانبے کے سکے بھی دست یاب ہوئے ۔

جام نظام الدین ثانی عرف جام نندا، اپنے باپ صدر الدین جام سنجر کی وفات کے بعد ۲۵ ربیع الاوّل ۸۶۶ھ (۱۴۶۱ء) میں تخت پر بیٹھا۔وہ سمہ خاندان کا پہلا حکمران ہے جس کے نام کے سکے سندھ میں دست یاب ہوئے ، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی حکومت مکمل طور پر خود مختار اور ریاست اقتصادی طور پر خوشحال تھی، نیز بیرون ملک سے تجارت زوروں پر تھی۔ جام نظام الدین نندا کے دور کےتین مختلف اقسام کے سکےہیں۔ تینوں تانبے کے ہیں۔ ان سکوں کے ایک طرف گول دائرے میں ’’سلطان جام نظام الدین‘‘ اور دوسری طرف گول دائرے میں اپنے باپ کا نام ’’جام صد الدین‘‘ کندہ کرایا۔ 

ان سکوں کے اجراء کی کوئی تاریخ درج نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ یہ کس سن میں جاری کیے گئے۔ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ٹھٹھہ چوں کہ سمہ سلاطین کا پایہ تخت تھا، اس لیے یہ سکے ٹھٹھہ کی ٹکسال ہی میں ڈھالے گئے ہوں گے۔ان پر کندہ عبارت کا رسم الخط عربی ہے۔ اس دور میں گجرات کے سلاطین کی طرف سے جاری سونے کی اشرفیاں بھی سندھ میں رائج تھیں۔

جام نظام الدین کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا جام فیروزتخت نشین ہوا۔ اس کے دورحکومت میں سندھ میں سمہ حکمرانوں کے جاری کیے گئے سکے بھی زیر گردش تھے، یہ تمام سکے تانبے کے تھے۔ کئی ایسے سکے بھی ملے جن میں چاندی کے ساتھ تانبے کی بھی ملاوٹ تھی اور یہ وزن میں دوسرے سکوں کے مقابلے میں بڑے اور بھاری تھے۔ اس دور کے تین مختلف اوزان کے تانبے کے سکے ملے ۔ تانبے کا ایک سکہ ایسا بھی ملا جس پر الٹے حروف کندہ ہیں، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غالباً سکے ڈھالنے کاسانچہ غلط بن گیا تھا، لیکن اس خامی کے باوجود یہ سکے بھی زیر گردش رہے۔ 

سکے کے ایک طرف گول دائرے میں ’’جام فیروز شاہ‘‘ اور دوسری طرف اس کے باپ کا نام ’’سلطان نظام الدین‘‘ کندہ تھا۔ ان سکوں کےاجراء کا سن درج نہیں ۔لیکن ان سکوں کے مطالعہ اور اس دور کی تاریخ کے بہ نظر غائر جائزے سے یہ اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں کہ یہ سکے بھی ٹھٹھہ کی ٹکسال میںکسی حکومتی امیر کی نگرانی میں ڈھالے گئے ۔