• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیزاب پھینکنے کے واقعات آئے تو شرمین عبید والی فلم بن گئی، ڈی جی رینجرز سندھ


ڈائریکٹر جنرل( ڈی جی) رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے شرمین عبید چنائے کی فلم اور آسکر ایوارڈ پر تبصرہ کیا ہے۔

کراچی میں منشیات کے خلاف عالمی دن کی مناسبت سے ڈاؤ یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل افتخارحسن چوہدری نے کہا کہ تیزاب پھینکنے کے تین واقعات آئے تو شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی، آسکر مل گیا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی فیملی کے ساتھ کیا ہوا؟ آپ کو پتا ہے؟ اور پھر ایک اور واقعہ ہوگیا، وہاں ایک شخص کی داڑھی مونڈ دی گئی۔

ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ کینیڈا جیسے واقعات کراچی میں ہوتے تو اب تک کراچی کو خطرناک ترین شہر قرار دے دیا جاچکا ہوتا۔

اُن کا کہنا تھاکہ ملک میں تیزاب پھینکنے کے 3 واقعات سامنے آئے تو اس پر شرمین عبید چنائے والی فلم بن گئی اور اسے آسکر بھی مل گیا۔

میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے یہ بھی کہا کہ لندن میں 800 سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے واقعات ہوئے کہیں کوئی فلم نہ بنی، میڈیا بھی غائب رہا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں چاقو مارنے کے 10 ہزار کیسز ہوئے، کسی کو پتا نہیں چلا، آپ کے خیال میں کیا لندن اب بھی محفوظ ہے؟

ڈی جی رینجرز نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال نیویارک میں 1638یا 1688 مسلح ڈکیتیاں ہوئیں، کراچی میں 280 ہوئیں۔

اُن کا کہنا تھاکہ ہم اتنے برے نہیں جتنا ہمیں برا بنایا جاتا ہے اور ہم خود کو برا سمجھنے لگتے ہیں۔

میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے مزید کہاکہ ہمارے پاس پراسیکیویشن نہیں، 24 گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتے،اس کے بعد ہمیں ملزم پولیس کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن پولیس کے پاس ہے، ہمارے پاس نہیں ہے، سابق سی سی پی او کراچی کے ساتھ پروسیکیوشن ٹیم بنائی گئی تھی۔

ڈی جی رینجرز نے یہ بھی کہا کہ پروسیکیوشن ٹیم کی وجہ سے عزیر بلوچ کی 5 مقدمات میں شناخت ہوئی، رینجرز دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، ہم نے غلطیاں بھی کی ہیں۔

اُن کا کہنا تھاکہ ہم سے کراچی کے کاروباری شخص نے کہا کہ جس دن رینجرز یہاں سے گئی وہ لاہور منتقل ہوجائےگا۔

قومی خبریں سے مزید