• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑی طاقتوں کے سیاسی کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ کبھی وہ کسی بہانے سے کسی ملک کی حکومت کا تختہ الٹتی ہیں تو کبھی کسی بہانے سے کسی آزاد ریاست پر فوج کے ساتھ چڑھائی کردیتی ہیں۔اور کبھی وہ کسی ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنے اور اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے وہاں انتہا پسندوں کی ہر طرح سے مدد کرتی ہیں۔ یہ سب کرنے کے بعد جب اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی ہے اور وہاں امن و سکون کا جنازہ نکل جلتا ہے تو پھر یہ ہی طاقتیں اس ملک میں ’’قیامِ امن‘‘ کے لیے کوششیں شروع کردیتی ہیں۔ایک عشرے سے ایسا ہی کچھ لیبیا کے ساتھ ہورہا ہے۔

حال ہی میں لیبیا کے بحران پر غور کرنے اور وہاں قیامِ امن کے لیے عالمی طاقتوں کاجرمنی کے دارالحکومت ، برلن میں اجلاس ہوا۔ لیبیا کے وزیر خارجہ نجلہ منقوش نے اس اجلاس کے بعد کہا کہ برلن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی آیندہ دنوں میں غیر ملکی جنگ جو اور کرائے کے فوجی ان کے ملک سے چلے جائیں گے۔ 

دوسری جانب تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے برلن کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انقرہ کی حکومت لیبیا میں امن و سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کانفرنس کے موقع پر کہا کہ وہ اس افریقی ملک کے تنازعے کے حل کے لیے برلن میں فریقین کو اکٹھا کرنے پر جرمنی کے شکر گزار ہیں۔

برلن کانفرنس کا ایجنڈا لیبیاکا تنازع حل کرنا تھا۔ لیبیا کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈ نارلینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ برلن مذاکرات کے بعد لیبیا میں دسمبر میں ہونے والے انتخابات کی راہ ہم وار ہوگی۔ یاد رہے کہ لیبیا میں2011 سے سیاسی عدم استحکام ہے۔ وہاں نیٹو کی حمایت سےہونے والی بغاوت نے طویل عرصے سے برسراقتدار معمر قذافی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں دو حکومتیں قائم ہو گئی تھیں اور وہاں مختلف گروہ آپس میں لڑائی میں مصروف تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ان گروہوں کو مختلف ممالک کی حمایت حاصل ہےاوربڑی تعداد میں غیر ملکی افراد بھی ان گروہوں کا لڑائیوں میں ساتھ دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں وہاں جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا تھا،جس کے تحت تمام غیر ملکی جنگ جوؤں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نوّے روز میں ملک چھوڑ دیں ۔ لیکن تاحال اس معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا ہے۔چناں چہ صورت حال اب بھی خراب ہے۔

اس کانفرنس کا انعقاد جرمنی اور اقوام متحدہ نے لیبیا میں قیام امن کے لیے مشترکہ طور پرکیا تھا۔ برلن میں اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی کانفرنس کا آغاز گزشتہ برس ہوا تھا اور یہ پہلا موقع تھاجب اس میں لیبیا کی عبوری قومی حکومت بھی شریک ہوئی۔ کانفرنس میں امریکا، روس، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات اور لیبیا کی عبوری حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دو ہزار بیس میں ہونے والی پہلی کانفرنس کا مقصد لیبیا میں بیرونی ممالک کی مداخلت کو ختم کرنا تھا تاہم ایسا اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ البتہ قیامِ امن کوششوں کی وجہ سے لیبیا میں کسی حد تک جنگ بندی ہوئی اور ایک عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے۔

اس سے قبل لیبیا کے متحارب فریقین کے مابین سیاسی ڈائیلاگ فورم کمیٹی کا اجلاس اپریل کے مہینے میں ہوا تھا۔ تیونس کے زیر اہتمام سات اپریل کو شروع ہوکر تین روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں آئینی بنیاد پر ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ قانون ساز اور ایگزیکٹو کمیٹی کے مابین تعلقات کو کنٹرول کرے گا۔ دوسری طرف فریقین نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ آئینی بنیادوں پر کچھ تنازعات ضرور ہیں، تا ہم کچھ امور پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ متنازع امور میں، عوام یا ایوان کے ذریعہ صدر کا بہ راہ راست انتخاب اور نمائندوں اور آئین سے متعلق ریفرنڈم شامل تھے۔

لیبیا کے بحران کا آغاز2011کے’’ عرب بہار‘‘ کے مظاہروں سے ہوا تھا ، جس کی وجہ سے خانہ جنگی ، غیر ملکی فوجی مداخلت اور معمر قذافی کا اقتدار ختم ہوااورپھر ان کی موت ہوئی تھی ۔ خانہ جنگی کے بعد مسلح گروہوں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ملک میں تشدد اور عدم استحکام پیدا ہواجو 2014 میں نئی خانہ جنگی کے طور پر شروع ہوا۔ لیبیا میں جاری بحران کے نتیجے میں2011کے اوائل میں تشدد کے آغاز کے بعد سے اب تک دسیوں ہزاروں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

دونوں خانہ جنگیوں کے دوران ، لیبیا کی اقتصادی طور پر اہم، تیل کی صنعت، کی پیداواراپنی معمول کی سطح کے ایک چھوٹے حصے پرآگئی۔(شاید بڑی طاقتوں کی جانب سے وہاں رچائے گئے ذرامے کی ایک اہم وجہ یہ ہی تھی)۔ وہاں کسی بھی افریقی ملک کے مقابلے میں تیل کےسب سے بڑے ذخائر تھے۔حریف گروہوں کے ذریعے زیادہ تر پیداواری سہولتوں کی ناکہ بندی کی گئی یا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ امریکی صدر براک اوباما نے 11 اپریل 2016 کو کہا تھا کہ قذافی کے بعد لیبیا میں پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں تیاری نہ کرنا شاید ان کےدورِ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔

معمر قذافی کی سربراہی میں لیبیا کی تاریخ 1969 سے2011تک بیالیس برسوں پر محیط تھی۔ قذافی نے یکم ستمبر 1969کو لیبیا کے نوجوان فوجی افسران کے ایک گروہ کی مدد سے شاہ ادریس اوّل کے خلاف بغاوت کرکے حکومت پر قبضہ کرلیا تھا۔ بادشاہ کے ملک سے فرار ہونےکے بعد ، قذافی کی سربراہی میں لیبیا کی انقلابی کمانڈ کونسل (آر سی سی) نے بادشاہت اور پرانے آئین کو ختم کر دیا اورآزادی ، سوشلزم اور اتحاد کے نعرے کے ساتھ نئی عرب جمہوریہ لیبیا کا اعلان کیا تھا۔

بر سرِ اقتدار آنے کے بعد آر سی سی کی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی تمام پٹرولیم کمپنیز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اورملک کے تمام باشندوں کے لیے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور رہایش فراہم کرنے کے لیے فنڈزکا انتظام کرنے کا عمل شروع کیاتھا۔ ان کی اصلاحات کا عمل مکمل طورپر موثرنہ ہونے کے باوجود، ملک میں عوامی تعلیم مفت اور بنیادی تعلیم دونوں جنسوں کے لیے لازمی ہو گئی تھی۔ 

عوام کو طبی سہولتیں بلا معاوضہ دست یاب ہوئیں۔ لیکن سب کے لیے رہایش فراہم کرنا ایسا کام تھا جو حکومت مکمل نہیں کرسکتی تھی۔ قذافی کے دور میں ملک میں فی کس آمدن گیارہ ہزار امریکی ڈالر زسے زیادہ ہو گئی تھی جو افریقا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ خوش حالی میں اضافے کے ساتھ انہوں نے متنازع خارجہ پالیسی اپنائی اورملک میں سیاسی جبر میں اضافہ ہوا۔

2011 کے اوائل میں ، وسیع تر’’ عرب بہار‘‘ کے تناظر میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ قذافی کی مخالف قوتوں نے ستّائیس فروری 2011کو قومی عبوری کونسل کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا مقصد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں عبوری اتھارٹی کی حیثیت سے کام کرنا تھا۔ جب حکومت نے باغیوں کا مقابلہ شروع کیا اور دونوں طرف سے تشدد بڑھا تو اکّیس مارچ 2011کو نیٹو فورسز کی زیرِقیادت ایک کثیر القومی اتحاد نے مداخلت کی جس کا مقصد سرکاری افواج کے حملوں سے شہریوں کی حفاظت کرنابتایا گیا تھا۔

اس کے فورا بعد بین الاقوامی فوج داری عدالت نے ستّائیس جون 2011کو قذافی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ کرنل معمّرقذافی کوبیس اگست 2011کو طرابلس کے باغی فوجیوں کے خاتمےکے بعد اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کھیل کی پہلی قسط کا اختتام بیس اکتوبر 2011 کو قذافی کے فرار ہونے والے قافلے پر نیٹو کے فضائی حملوں اور باغی جنگ جوؤں کے ذریعے ان کے قتل پر ہوا۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں باغی فوج میں شامل ہونے والےفوجی ارکان ، انقلابی بریگیڈ ، انقلاب کے بعد کی بریگیڈ ، ملیشیا اور مختلف مسلح گروہ (جن میں عام کارکن، طلبا اوربہت سے افراد شامل تھے ،سے منحرف ہو گئے۔ حکومت کے خلاف جنگ کے دوران بنائے گئے بعض مسلح گروہ اور دیگر بعد میں سیکیورٹی کے مقاصد کے لیے تیار ہوئے۔ ان میں سے بعض قبائلی بیعت پر مبنی تھے۔ ملک کے مختلف حصوں میں قائم ہونے والے گروہ اپنے افراد کی تعداد ، صلاحیت اور اثر و رسوخ میں کافی مختلف تھے۔ وہ ایک جسم کی طرح متحد نہیں تھے۔ پاسداران بریگیڈ نے ہنرمند اور تجربہ کارجنگ جوؤں اور ہتھیاروں کی اکثریت حاصل کی۔ کچھ ملیشیاز پُر تشدد انتہا پسند گروہوں کی شکل میں تیار ہوئیں ،جو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے بریگیڈز سے بالکل مختلف تھیں۔

لیبیا کی پہلی خانہ جنگی کے بعد ، تشدد میں مختلف مسلح گروہ شامل تھے جنہوں نے قذافی کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ لیکن اکتوبر2011میں جنگ ختم ہونے پر انہوں نے ہتھیارڈالنےسےانکار کر دیا تھا۔پھر حکومت کی وفادار اورمخالف قوتوں کے مابین جھڑپیں شدت اختیار کرتی گئیں۔ آگے چل کر بے ضابطہ مسلح گروہوں کی تعداد سے نمٹنے کے لیے قومی عبوری کونسل نے تمام مسلح گروہوں کو وزارت دفاع میں اپنا اندراج کرانے اور متحد ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس طرح بہت سے مسلح گروہوں کو حکومت کی جانب سے تن خواہ ملنے لگی۔اس سے بہت سے مسلح گروہوں کو قانونی حیثیت ملی ، جن میں جنرل خلیفہ حفتر بھی شامل تھا ، جس نے اپنے مسلح گروہ کو لیبین نیشنل آرمی کے طور پر رجسٹرڈ کرایا تھا۔

اسی دوران گیارہ ستمبر2012کو القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسندوں نے بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا اورامریکی سفیر اور تین دیگر افراد کو ہلاک کر دیاتو نیم قانونی ملیشیاؤں کے خلاف شور اٹھا اور مظاہرین کے ذریعے متعدد اسلامی ملیشیا کے ٹھکانوں پر طوفان برپا ہوا۔ غیر منظور شدہ ملیشیاؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد لیبیا کی فوج نے کئی غیر قانونی ملیشیاؤں کے صدر دفاتر پر چھاپے مارے اور حکومت نے انہیں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ تشدد بالآخر لیبیا کی دوسری خانہ جنگی کا باعث بنا۔

دوسری خانہ جنگی دراصل حریف گروہوں کےمابین وہ جنگ تھی جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ یہ تنازع زیادہ ترایوان نمائندگان میں موجود گروہوں کے مابین رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایوان کے ذریعے جو حکومت بنی اسے توبرک حکومت بھی کہا جاتا تھا جسے 2014 میں انتہائی کم ٹرن آؤٹ والےانتخابات کے نتیجے میں اقتدار سونپا گیا تھا اور اس وقت اسے عالمی سطح پر لیبیا کی حکومت کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ دوسری طرف جی این اے کا قیام عمل میں آیا تھا اور جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی) کی حریف اسلام پسند حکومت بنی تھی جسے قومی نجات کی حکومت بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم دسمبر2015میںان دونوں دھڑوں نے قومی معاہدے کے تحت متحد ہونے پر اصولی طورپر اتفاق کر لیا تھا۔

اگرچہ اب لیبیا میں قومی معاہدے کے تحت قایم ہونے والی حکومت کام کررہی ہے اور اسے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے ، لیکن اس کا اختیار اب بھی واضح نہیں ہے کیوں کہ فریقین کے لیے قابل قبول تفصیلات پر تاحال مکمل اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔مشرقی لیبیا کی مضبوط ترین ، توبرک حکومت ، جنرل حفتر کی لیبین نیشنل آرمی سے وفاداری رکھتی تھی اور اسے مصر اور متحدہ عرب امارات کے فضائی حملوں کی حمایت حاصل تھی۔ 

مغربی لیبیا میں سب سے مضبوط جی این سی کی اسلام پسند حکومت نے 2014 کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا تھا اور اس کی قیادت اخوان المسلمین نے کی تھی۔ اس کی حمایت وسیع تر اسلامی اتحاد،لیبیا ڈان اور دیگر ملیشیاز کے نام سے کی گئی جسے قطر ، سوڈان اور ترکی کی مدد حاصل تھی۔ ان کے علاوہ، یہاں چھوٹے چھوٹے حریف گروہ بھی ہیں۔

تاہم 2015کے بعد وہاں کافی سیاسی پیش رفت ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے دسمبر 2015 میں جنگ بندی کا آغاز کیا اور اکتّیس مارچ2016 کو اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ نئی اتحاد حکومت کے قائدین طرابلس پہنچے ۔ پانچ اپریل کو ، مغربی لیبیا میں اسلام پسند حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اپنی کارروائیاں معطل کر رہی ہے اور نئی اتحاد حکومت کو اقتدار سونپ رہی ہے ۔

پھر دو جولائی کو حریف راہ نماؤں نے لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن (این او سی) کے مشرقی اور مغربی انتظامات کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے معاہدہ کیا۔لیکن جنرل حفترکے گروہ کی راہیں جدا ہی رہیں۔ تاہم بعد میں جنرل حفترکے گروہ اور این او سی نے تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک معاہدہ کیا اور لیبیا کے تمام نو بڑے ٹرمینلز جنوری 2017 سے دوبارہ کام کرنے لگے تھے۔

دسمبر2017میں لیبیا کی قومی فوج نے تین سال کی لڑائی کے بعد بن غازی پر قبضہ کر لیاتھا۔ فروری 2019 میں ، ایل این اے نے دیرنا کی لڑائی میں کام یابی حاصل کرلی تھی۔ اس کے بعد ایل این اے نے اپریل 2019 میں طرابلس پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ایک بڑا حملہ شروع کیا تھا۔ پانچ جون 2020 کو جی این اے نے دار الحکومت طرابلس سمیت پورے مغربی لیبیا پر قبضہ کر لیا۔ اکّیس اگست کو جی این اے اور ایل این اے جنگ بندی پر راضی ہو گئے تھے، لیکن ایل این اے کے فیلڈ مارشل ، خلیفہ حفترنے جنگ بندی کو مسترد کر دیاتھا۔ دوسری جانب اگست 2020میں ملک میں بدامنی ختم کرنے کے لیے طرابلس کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

بعض سیاسی تجزیہ نگار لیبیا کی صورت حال کو شام کی صورت حال سے تشبیہ دیتے ہیں کیوں کہ وہاں بھی عالمی طاقتیں اس ریاست کا مستقبل طے کر رہی ہیں۔ لیبیا میں پراکسی جنگ کئی پہلوؤں سے شام میں جاری پراکسی جنگ کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ ترکی، قطر اور اٹلی اس جنگ میں فائز سراج کی عالمی حمایت یافتہ لیبیائی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس حکومت کا پایہ تخت طرابلس ہے۔ فائز سراج کی حکومت، فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی کا مقابلہ کر رہی ہے جس کا گڑھ مشرقی لیبیا کا شہر بن غازی ہے۔ حفتر کو روس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل ہے۔اس کے علاوہ فرانس، جرمنی اور نیٹو کے بعض دیگر رکن ممالک لیبیا میں روس کی حمایت کر رہے ہیں۔ 

جنرل حفتر کے ساتھ لڑنے والے روسی فوجیوں کا تعلق ولادی میر پوتن کے ایک قریبی ساتھی کے گروہ Wagner گروپ سے ہے، جو شام میں بھی لڑچکا ہے۔ تاہم حال ہی میں منعقدہ برلن کانفرنس میں ایسا معاہدہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر اگلے چند دنوں میں وہاں سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی شروع ہوگی اور جس طرح ترکی سے وابستہ فوجی نکلیں گے اسی طرح روس سے وابستہ افراد بھی وہاں سے نکلیں گے۔ ان حالات میں اُمّید کی جاسکتی ہے کہ وہاں دسمبر میں ہونے والے انتخابات ملک میں نئے دور کے آغازکا سبب بنیں گے۔