• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ، آج کا نوجوان مایوس کیوں ہے؟ اِس کا جوا ب عموماََ یہ دیا گیا کہ، بیروزگاری، عدم تحفظ، معاشرتی ناہمواری، اہلیت کی بے قدری، ناانصافی اور ایڈہاک ازم نے آج کے نوجوان کو مایوسی، بے چینی اور بے یقینی سے دو چار کر دیا ہے حالانکہ کسی بھی ملک یا قوم کا سب سے اہم سرمایہ اس قوم کی نوجوان افرادی قوت ہوتی ہے۔

پاکستان کا شمار ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے قدرتی وسائل اور توانا جوان افرادی قوت سے مالا مال ہےلیکن ہم نے اپنے قیمتی قدرتی وسائل سے استفادہ نہیں کیا ہے اور نہ نوجوانوں کے جوش اور جذبے سے مستفید ہونے کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی کی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں نوجوانوں میں قنوطیت، انتہاپسندی اور مایوسی پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ درحقیقت ہمارے ملک میں تعلیم کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے نیچے شمار کیا جاتا ہے، قومی بجٹ میں بھی سب سے کم رقم مختص کی جاتی ہے، آج کی دُنیا میں ہوش مند قومیں تعلیم، تحقیق، تربیت اور نوجوانوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

چین ہر سال پانچ لاکھ طلبہ کو انگریزی سیکھنے کے لئے بیرون ملک بھجواتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس اَمر سے بہ خوبی ہوتا ہے کہ ڈنمارک کی آبادی ایک کروڑ سے بھی کم ہے لیکن وہاں پاکستان سے دُگنی تگنی تعداد میں کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ صرف ٹوکیو میں سات سو جامعات ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے اربابِ اختیار اور اشرافیہ کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہیں من حیث القوم ہم زوال کی طرف تو نہیں جا رہے ، کیونکہ اب صورت حال یہ ہے کہ نوجوان میٹرک یا انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد کسی جامعہ میں داخلہ لینے کے بجائے روزگارکی تلاش میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ یعنی والدین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اپنے بچّے کو مزید پڑھا سکیں۔

ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ توہم پرستی کی روایات کا دلدادہ اور صنفی تفریق جیسے غیرمنطقی رویوں کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ منطق، دلیل، استدلال، علمی بحث و مباحث اور مکالمہ کی روایات عنقا ہو چکیں۔ کاش ہم یہ سمجھ جائیں کہ دُنیا میں سب سے اہم قیمتی اور انمول چیز وقت ہے۔ اگر اس کی قدر جان لیں تو ہمارے نصف سے زائد مسائل حل ہو سکتے ہیں، مگر ہم وقت کو سب سے بے وقعت شے گردانتے ہیں۔ کبھی ہم نے تعصب کی عینک اُتار کر دیکھا یا سوچا کہ یہودی جو دُنیا میں آٹے میں نمک کے برابر تعداد میں ہونے کے باوجود اتنی ترقّی اور بلندی تک کیسے پہنچے، صرف وقت اور علم کی قدر کر کے۔ وقت کو انہوں نے جتنا سمجھا اتنا کسی نے نہیں سمجھا۔ علم ان کی جیسے گھٹی میں پڑا ہے۔ دُنیا کی ترقّی یافتہ قوموں کے اَطوار، طریقے، ترجیحات پر نظر ڈالیں ہم ان سب کے برعکس اُلٹے قدم چل رہے ہیں۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

مغربی ممالک میں سب سے زیادہ توجہ بچّوں اور نوجوانوں پر مرکوز کی جاتی ہے۔ ہر تعلیمی ادارے میں اِن ڈور کھیل کی جگہ مخصوص ہوتی ہے۔ بڑے تعلیمی ادارے آئوٹ ڈور کھیل کے میدان تعمیر کرتے ہیں۔ محلوں اور کمیونٹیوں میں کھیل، تفریح، میل ملاپ کے بندوبست ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت جگہ جگہ مرد و زَن نوجوان اور بزرگ جاگنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر چیز وقت پر ہوتی ہے۔ وقت کی قدر، وقت کا دُرست استعمال اور اس سے مستفید ہونے کا طریقہ اور عمل مغربی دُنیا میں عام ہے جس کا فائدہ اُن قوموں کو ہو رہا ہے۔ ہم نے اپنی بہت سی اچھی روایات اور طور طریقے اَزخود ترک کر دیئے جو مغرب میں آج رائج اور مؤثر ہیں۔ 

مثلاً بیسویں صدی کے اوائل میں تمام نجی سرکاری اسکولوں میں بوائز اسکائوٹنگ اورگرلز گائیڈز کی تنظیمیں ہوا کرتی تھیں۔ اسکائوٹنگ کا تصوّر 1886ء میں لارڈ بیڈن پاول نے متعارف کرایا تھا۔ یہ برٹش انڈیا میں ایک فوجی افسر تھا، جس نے اس عنوان پر مکمل تعارف اور اس کے مقاصد پر پمفلٹ تیار کیا۔ اس کو بہت پسند کیا گیا اور ہر جگہ اسکائوٹنگ کی تربیت اور تنظیم سازی شروع ہوگئی۔ اسکائوٹنگ کا بنیادی مقصد طلبہ کی جسمانی، رُوحانی، ذہنی، سماجی نشو و نما کو فروغ دینا، انہیں چاق چوبند رکھنا اور نوجوانوں میں اپنے جذبات اور احساسات کو اعتدال پر رکھنے کی تربیت دینا تھا۔

بوائز اسکائوٹس کا عالمی یونیفارم خاکی قمیض، خاکی نیکر یا پتلون اور گلے میں اسکارف، جیب میں سیٹی اور گھٹنوں تک، اُونچے موزے اور سوفٹ شوز تھا۔ ہر سال قومی تقریبات پر اسکائوٹس کے دستے اپنے اسکولوں سے مارچ پاسٹ کرتے شہر کی شاہراہوں سے گزرتے تھے یہ ایک خُوبصورت سماں ہوتا تھا۔ ہر اسکول بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا۔ شام کو کیمپ فائر کی تقریب ہوتی ایک جگہ آگ لگائی جاتی اس کے اطراف تمام اسکائوٹس جمع ہوتے اور اپنے اپنے چھوٹے آئٹم یا مزاحیہ خاکے پیش کرتے۔ تمام معاملات کی اسکائوٹنگ انچارج یا ڈرل ماسٹر نگراتی کرتے۔ تقریب کے اختتام پر ستائشی اسناد بھی دی جاتی تھیں۔ اس طرح طلبہ میں نظم و ضبط، تعلیم، کھیلوں اور اپنے اطراف سے دلچسپی بڑھتی، ان میں احساس ذمہ داری اور خوداعتمادی پروان چڑھتی۔ سال میں ایک بار اسکائوٹ جمبوری ہوا کرتی جس میں تمام شہروں کے اسکائوٹس شرکت کرتے اور تین دن تک شاندار تقریبات، کھیل کود اور کیمپ فائر ہوا کرتے۔

اس طرح ایک انتہائی مثبت نتیجہ خیز عمل جاری تھا جس سے ہر سال لاکھوں طلبہ مستفید ہوتے اور کچھ نہ کچھ سیکھتے تھے۔ یوں بھی بچپن کی تربیت، پند و نصائح آدمی کبھی نہیں بھولتا۔ اس دور کی اچھی باتیں، اچھی عادتیں زندگی میں قدم قدم پریاد آتی ہیں۔ معاشرے کی تعمیر، استحکام اور نظم و ضبط کے لئے اس نوعیت کے مثبت سلسلوں کو جاری رکھنا چاہئے۔ درحقیقت نوجوانوں کی فطرت ہوتی ہے جس میں انہیں کشش اور دلچسپی نظر آتی ہے کہ وہ ہر کام کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں، اس لئے کھیل کود، سماجی میل ملاپ اور تقریبات کو تعلیم و تربیت کا لازمی جُز بنایا جائے تو یقیناً اس کے مثبت اور دیرپا اَثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اسکائوٹنگ اس ضمن میں سب سے بہتر تربیتی سلسلہ ہے۔

نوجوانوں کو ایک بات ضرور ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، ہر کام محنت طلب، وقت طلب اور دُرست منصوبہ بندی کا متقاضی ہوتا ہے۔ جلدبازی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ صبر و تحمل یکسوئی ضروری ہے۔

اکثر ممالک میں نوجوانوں کے نجی کلب ہوتے ہیں، کام اور روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لئے بھی نوجوان اپنے کلب تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں ہفتے ، دس دِن میں ایک نشست کا اہتمام کیا جائے اور اس میں اپنے اپنے خیالات اور آئیڈیاز کو زیربحث لایا جائے جو منصوبہ قابل عمل اور اپنی دسترس میں نظر آئے اس پر سنجیدگی سے کام شروع کیا جائے۔ فی زمانہ آئیڈیاز کی بہت اہمیت ہے۔ اجتماعی سوچ بہت کارآمد شے ہے اس سے نوجوان باآسانی فائدے اُٹھا سکتے ہیں۔

اگر نوجوانوں کو مطالعہ کا شوق ہو تو انہیں بڑے لوگوں، کامیاب شخصیات کی سوانح عمریاں ضرور پڑھنا چاہئیں۔ اس سے انسپائریشن ملتی ہے۔ کامیابی کن کن کٹھن راستوں سے گزر کر حاصل ہوتی ہے اور اس تمام مرحلے میں مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کیا کردار ادا کرتی ہے، یہ سب عیاں ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے جتنے مشہور ارب پتی خاندان ہیں ان کا پہلا بزرگ جس نے یہ بیڑہ اُٹھایا وہ یاتو موچی تھا، اخبار فروش تھا یا گودام میں مال اُٹھایا کرتا تھا۔

نوجوانوں کو ایک اور اہم نکتہ گرہ میں باندھ لینا چاہئے کہ کام خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو کمتر نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں یہ تصوّر بہت غلط ہے۔ یہ صرف برصغیر پاک و ہند میں ہی ہے۔ بیرون ملک ایسا کچھ نہیں۔ لوہار، کارپینٹر، میسن، قصاب، درزی، پلمبر، باربر، الیکٹریشن، چھوٹا کاروباری یا خاکروب جب کام سے فارغ ہو کر اپنے کلب، کمیونٹی کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں تو کسی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کیا کام کرتا ہے، کیونکہ ان کے معاشروں میں محنت کی عظمت ہے۔ جو فرد محنت کر کے روزی کماتا ہے وہ قابل احترام ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ ظاہری چمک دمک، ٹھاٹھ باٹھ کی کوئی اہمیت نہیں، اصل اہمیت انسانی کردار، اخلاقی رویوں اور دوسرے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، اس میں ہے۔

آج کا پاکستان ماضی قریب کے پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ اسی طرح دُنیا بھی بدل چکی ہے اور بتدریج تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں ہمارے معاشرےمیں نوجوانوں کو بہت زیادہ الرٹ ہونے، اطراف پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بدلتی دُنیا کے تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے لئے نوجوانوں کو ذہنی طور پر پوری طرح فعال اور چوکنّا ہونا ہوگا۔ یہ صارفین کا سماج ہے۔ یہاں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ اگر آپ کے پاس نئے آئیڈیاز ہیں، نئے پلان ہیں اور انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے کی صلاحیت ہے تو آپ کامیاب ہیں۔ آج کی دُنیا کی جدیدیت کو سمجھنا ہوگا۔ اس سے گھبرا کر فرار کا راستہ اختیار کرنے والے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اکثر مسلم ممالک کے معاشروں کے نوجوان فرار کا راستہ اپناتے نظر آتے ہیں۔ اس نکتہ پر پوری سنجیدگی اور غیرجانبداری سے غور کرنے کی ضرورت ہے جس کا ہمارے معاشرہ میں بھی فقدان ہے۔