• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحۂ کربلا حق و باطل کے درمیان وہ محیّر العقول معرکہ ہے کہ جس میں خانوادۂ رسولؐ نے اپنی شہادت کا نذرانہ پیش کرکے دنیا بھر کے انسانوں کو باطل قوّتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا سبق دیا۔ نواسۂ رسولؐ ،امامِ عالی مقامؓ نے طاقت کے نشے میں چُور، تکبّر و نخوت کے پیکر، یزید اور اُس کے ساتھیوں کو ببانگِ دہل للکار کر شجاعت و بہادری کی وہ عظیم الشّان مثال قائم کی کہ دنیا محوِ حیرت ہے۔ 6ماہ کے علی اصغرؓ سے لے کر امامِ عالی مقامؓ تک، 72نفوسِ قدسیہ نے حاکمیتِ الٰہی اور شریعتِ محمّدیؐ کے تحفّظ و بقا کے لیے اپنی جانیں قربان کر کے اسلام کو نئی زندگی عطا فرمائی، جسے مولانا محمّد علی جوہر نے اپنے اِس شعر میں امر کردیا۔؎قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے…اسلام زندہ ہوتا ہے، ہر کربلا کے بعد۔ شقی القلب سنان بن انس نے شمر ملعون کے حکم پر امام حسینؓ کا سَر مبارک جسم سے جُدا کیا اور ابنِ زیاد کی فوج کے بارہ سنگ دِل فوجیوں نے جسمِ اطہر کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا۔

خاتونِ کربلاؓ

اب مَردوں میں سوائے بیمار اور کم زور، حضرت زین العابدینؓ کے کوئی اور نہ بچا تھا۔ یزیدی فوج کے کچھ سپاہی بناتِ مطہراتؓ کے خیموں کو آگ لگا کر لُوٹ کھسوٹ میں مصروف تھے کہ اچانک ایک بارُعب آواز نے اُن کے قدم روک دیے’’خبردار! مزید آگے آنے کی ہمّت نہ کرنا۔‘‘ یہ آواز نبی کریمﷺ کی نورِ نظر نواسی، شیرِ خدا،حضرت علی المرتضیٰ ؓکی لختِ جگر، خاتونِ جنّت، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی گوشۂ جگر، حسنین کریمین ؓکی چہیتی بہن، شہیدِ کربلا ،عون بن عبداللہ اور محمّد بن عبداللہ کی والدۂ محترمہ، حضرت زینب ؓکی تھی۔

پیدائش

سیّدہ زینب بنتِ علیؓ 5ہجری، 627عیسوی کو مدینہ منوّرہ میں پیدا ہوئیں۔ دو بھائیوں کے بعد گھر میں رحمتِ خداوندی کا نزول ہوا تھا۔والدین اور بھائی خوشی سے نہال تھے۔ نبی کریمؐ مدینے سے باہر تشریف لے گئے تھے۔حضرت فاطمۃ الزہراؓ نے شوہر سے فرمایا ’’علیؓ! ابّا حضور ؐ تو مدینے میں نہیں ہیں، تو آپ بچّی کے کانوں میں اذان اور تکبیر کہہ کر نام رکھ دیجیے‘‘۔ حضرت علیؓ نے فرمایا’’مَیں بچّی کے کانوں میں اذان اور تکبیر تو کہہ دیتا ہوں، لیکن ہماری چاند سی بیٹی کا نام تو رسول اللہؐ ہی رکھیں گے‘‘۔ 

آنحضرتؐ کا معمول تھا کہ سفر سے واپسی پر سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے جاتے۔ اُن سے حال احوال معلوم کرنے کے بعد مسجدِ نبویؐ جاتے اور پھر وہاں دو رکعت نفل ادا کرنے کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے۔ اُس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ جب تین دن بعد اللہ کے رسول،ؐ بیٹی فاطمہؓ کے گھر آئے، تو پورا گھر خوشیوں سے بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ حضرت علیؓ نے نومولود بچی کو نانا کی گود میں دے دیا۔ جونہی حضورؐ کی نظر معصوم نواسی کے بھولے بھالے چہرے پر پڑی، تو بے اختیار فرمایا’’ ارے اس میں تو اپنی نانی ، حضرت خدیجۃ الکبریؓ کی مشابہت ہے۔‘‘ پھر آپؐ نے اپنا لعابِ مبارک بچّی کے منہ میں ڈالا۔ کھجور چبا کر تالو سے لگائی اور اُس کا نام اپنی بڑی صاحب زادی کے نام پر زینبؓ رکھا۔

نانا اور والدہ کی رحلت

حضرت زینبؓ 6سال کی عُمر تک اپنے نانا، حضور نبی کریمﷺ کی تربیتِ خاص میں دینی امور سیکھتیں اور اُن میں مہارت حاصل کرتی رہیں۔پھر یہ کہ اُنھیں والد اور والدہ کی بھی بھرپور عنایات حاصل تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کم سِنی ہی میں فہم و فراست، فطانت و ذہانت، عقل مندی و دانائی، قوّتِ حافظہ کے ساتھ تحریر و تقریر کے فن سے بھی مالا مال فرمایا تھا۔مؤثر گفتگو اور رُوح پرور خطاب کی بدولت سُننے والوں کو اپنا اسیر کرلتیں۔ اِتنی معصوم سی عُمر میں اسلام کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کے مختلف پہلوئوں پر سیر حاصل گفتگو کرنا اُن کی خداداد صلاحیتوں کا مظہر تھا۔ 

ابھی عُمر مبارکہ صرف چھے سال تھی کہ نانا کی رحلت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا اور پھر چھے ماہ بعد والدۂ محترمہ بھی سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئیں۔ اِن صدمات نے ننّھی سی جان کو بکھیر کر رکھ دیا اور یہ وہ لمحہ تھا کہ جب حسنین کریمینؓ نے ماں کی نشانی، نانا کی دُلاری، معصوم سی کلی کو اپنی بانہوں میں لے کر بہن بھائیوں کے مقدّس رشتے کو اَمر کردیا اور یہ اسی محبّت کا اثر تھا کہ جب بھائی، حضرت حسینؓ نے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا، تو ماں جائی اپنے دونوں بیٹوں، عون اور محمّد کے ساتھ بھائی کے قافلے میں شامل ہوگئیں۔

نکاح

حضرت زینبؓ خُوب سیرت تھیں اور خُوب صُورت بھی۔ جب سنِ بلوغت کو پہنچیں، تو بہت سے نوجوان شادی کے خواہش مند تھے، لیکن سیّدنا علی المرتضیٰؓ نے اُن کے لیے اپنے شہید بھائی اور جنگِ موتہ کے ہیرو،حضرت جعفر طیّارؓ کے سعادت مند صاحب زادے، عبداللہ بن جعفرؓ کو منتخب فرمایا۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد اُن کے بچّوں کی تربیت و پرورش آنحضرتؓ نے خود فرمائی تھی اور آپؐ کی وفات کے بعد یہ ذمّے داری حضرت علیؓ نے سنبھالی۔ حضرت عبداللہؓ اپنے والد کی طرح اعلیٰ صفات اور پاکیزہ اخلاق کے مالک تھے۔حضرت زینبؓ کا بچپن فقر و غنا میں گزرا تھا، گھر میں تنگ دستی کا راج تھا، لیکن جب شوہر کے گھر آئیں، تو مال و دولت کی فراوانی دیکھی۔ حضرت عبداللہؓ کا شمار مدینے کے امیر ترین تاجروں میں ہوتا تھا۔ 

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اُن کا نکاح مسجدِ نبویؐ میں نہایت سادگی سے پڑھایا۔ سیّدنا عُمر فاروقؓ کا، جو نکاح کی اس محفل میں تشریف فرما تھے، کہنا تھا کہ’’ یہ ایک مثالی مسلمان جوڑے کا نکاح تھا۔‘‘ حضرت عبداللہؓ اکثر فرماتے تھے کہ مَیں نے خاتونِ خانہ میں زینبؓ سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں چار صاحب زادے عون، محمّد، علی، عبّاس اور ایک صاحب زادی، کلثوم عطا فرمائیں۔ عون اور محمّد نے اپنے ماموں کے ساتھ میدانِ کربلا میں شہادت پائی۔(ابنِ عساکر، اعلام النساء، ص190)

مناقب

سیّدہ زینب بنتِ علیؓ شکل و صُورت میں اپنی نانی، حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے مشابہہ تھیں۔ چہرے پر جلال و جمال اپنے نانا، سیّد المرسلینؐ، رحمت اللعالمینؐ کے رُخِ انور کی طرح تھا۔ چال ڈھال، اندازِ گفتگو اور طرزِ خطاب اپنے والد، حیدرِ کرارؓ سے ملتا تھا، جب کہ عادات و اطوار میں اپنی والدہ، خاتونِ جنّت، سیّدہ فاطمۃ الزہراؓ کی طرح تھیں۔ صبر و شُکر، قناعت و درگزر اپنے بڑے بھائی حضرت حسنؓ سے، جب کہ حق گوئی و بے باکی، شجاعت و بے خوفی، مصائب سے پنجہ آزمائی اور باطل قوّتوں سے ٹکرا جانا اپنے دوسرے بھائی، شہیدِ کربلا، سیّدنا امام حسینؓ سے سیکھا۔ یوں خانوادۂ رسولؐ کے باغ کا ہر پھول زینب بنتِ علیؓ کے سدا بہار گلدستے میں موجود تھا۔

والد اور بھائی کی جُدائی

سیّدنا علی المرتضیٰؓ میدانِ جنگ کے ہیرو ہونے کے ساتھ، خطابت کے بھی بادشاہ تھے۔ اپنے خطابات میں جو بیش بہا جملے ارشاد فرماتے، وہ آج بھی دنیائے اسلام ، خصوصاً اہلِ عرب میں ضرب الامثال کا درجہ رکھتے، علم و حکمت کا اَن مول ذخیرہ ہیں۔ والد کی فصاحت و بلاغت صاحب زادی کو وَرثے میں ملی، تو بچپن ہی سے شاعری کا بھی شوق تھا۔ اپنی گفتگو میں موقع محل کے اعتبار سے اشعار کا استعمال کیا کرتی تھیں۔ حضرت علیؓ نے 37ہجری میں کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا، تو حضرت زینبؓ بھی اپنے شوہر اور بچّوں کے ساتھ وہیں منتقل ہوگئیں۔ 

آپؓ نے وہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی اُن کی تقاریر کا گھر گھر چرچا ہونے لگا۔حضرت علیؓ 19 رمضان 40ہجری کو ابنِ ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور 21؍رمضان المبارک کو جامِ شہادت نوش کرگئے۔ سیّدہ زینبؓ غم زدہ حالت میں والد کے سرہانے موجود تھیں۔ اُنہوں نے اپنے اِس غم کا مرثیوں میں اظہار کیا۔ وہ والد کی شہادت کے بعد بھائیوں کے ساتھ مدینہ منوّرہ منتقل ہوگئیں۔ 50ہجری میں حضرت امام حسنؓ کو اُن کی بیوی نے زہر دے دیا۔ بچپن میں نانا اور والدہ کی جُدائی برداشت کی، جوانی میں والد کو کھویا اور اب بڑے بھائی بھی اللہ کو پیارے ہوئے۔ پے درپے ان اندوہ ناک صدمات نے اُنہیں وقت سے پہلے بوڑھا کردیا۔

لُٹا پٹا قافلہ کوفہ کی جانب

سانحۂ کربلا کے دوسرے دن بناتِ اہلِ بیتؓ کو قیدیوں کی حیثیت سے کوفہ روانہ کیا گیا، تو شمر کی حضرت زین العابدینؓ پر نظر پڑی، اُس نے انہیں بھی شہید کرنا چاہا، لیکن حضرت زینبؓ بیمار بھتیجے سے لپٹ گئیں اور اُنہیں شہید ہونے سے بچالیا۔ نواسۂ رسولؐ کے سرِ مبارک کو ایک طشت میں رکھ کر جابر و فاسق، عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ کوفے کے اِس ظالم اور لالچی گورنر نے بے شرمی اور بے ہودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غم زدہ خواتین کو مزید ذہنی اذیّت پہنچائی۔

پھر حکم دیا کہ دمشق لے جانے سے پہلے ان سب کو کوفے کے بازاروں میں گھمائو۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں کوفی گھروں سے نکل آئے تھے۔ اس موقعے پر سیّدہ زینبؓ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں، اُنہوں نے باآوازِ بلند کہا ’’اے عہد توڑنے والو! دھوکے باز کوفیو! تم نے میرے بھائی کو خطوط لکھ کر بُلایا، اُن کے نام پر بیعت کی، لیکن پھر تم اپنے گھروں میں چُھپ کر بیٹھ گئے۔ تمہاری اس غدّاری پر اللہ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ میدانِ کربلا میں ہونے والے قتلِ عام میں تم برابر کے شریک ہو‘‘۔

یزید کے محل میں

اِن مقدّس ہستیوں کو یزیدی فوج کے حصار میں قیدی کی حیثیت سے دمشق لے جایا گیا اور یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔ کچھ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یزید نے امام حسینؓ کے سَر کو دیکھا، تو آب دیدہ ہوگیا، اس نے اس اندوہ ناک شہادت اور عظیم سانحے کی تمام تر ذمّے داری گورنر کوفہ، عبید اللہ ابن زیاد پر ڈال دی۔ اگر یہ بات درست ہے، تب بھی تاریخ یزید کو اس واقعے سے کبھی بری الذمّہ قرار نہیں دے سکتی کہ حاکمِ وقت کی مرضی اور منشاء کے بغیر اِتنا بڑا سانحہ ہوجانا ممکن نہیں۔

یزید کے دربار میں خطاب

حضرت زینبؓ نے یزید کے دربار میں تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔کہا ’’سب تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں، جو کائنات کا پرور دگار ہے اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، پیغمبرِ خدا ؐ پر اور ان کے پاکیزہ اہلِ بیتؓ پر۔ امّابعد! بالآخر ان لوگوں کا انجام بُرا ہے، جنہوں نے اپنے دامنِ حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغ دار کرکے اپنے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور آیاتِ پروردگار کا مذاق اُڑایا(سورۂ روم10:)۔ اے یزید! کیا تُو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کردیے اور رسولؐ کی آل کو رسیّوں اور زنجیروں سے جکڑ کر دربدر پِھرانے سے تُو اللہ کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوگئے؟ 

کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہوکر ذلیل ہوگئے اور تُو ظالم بن کر بھی سربلند ہوا۔ کیا تُو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کرکے اللہ کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہوگیا؟ آج تُو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے۔ مسرّت و شادمانی سے سرشار ہوکر اپنے غالب ہونے پر اِترا رہا ہے اور خلافت کے ہمارے مسلمہ حق کو غصب کرکے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کے ناخن لے۔ کیا تُو نے اللہ کا یہ فرمان بُھلا دیا کہ’’ حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو اُنہیں مہلت دیتے ہیں، یہ اُن کے حق میں بھلائی ہے۔ ہم اُنہیں مہلت اِس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں اور اُن کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران، آیت178) اے طلقاء (آزاد کردہ غلام) کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تُو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفّظ فراہم کرکے پردے میں بِٹھا رکھا ہے، جب کہ رسولؐ کی صاحب زادیوں کو برہنہ سر دربدر پِھرا رہا ہے۔‘‘(تاریخِ طبری 337/2) اے یزید! یاد رکھ کہ اللہ، آلِ رسولؐ کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق اُنہیں دلائے گا اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کرے گا۔

اللہ کا فرمان ہے کہ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے، اُنہیں مُردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے ربّ کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔‘‘ (سورۂ آلِ عمران، 169) افسوس تو اِس بات کا ہے کہ شیطان کے ہم نوا اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاک باز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ تُو نے جس گھنائونے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس کا بدنما داغ اپنے دامن سے نہ دھو پائے گا۔ اب تیری حکومت کے گنتی کے چند دن رہ گئے ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اُس دن کی حسرت و پریشانی کے سِوا کچھ بھی نہیں بچے گا، جب منادی ہوگی کہ ظالم و ستم گر لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

مدینہ منوّرہ واپسی

یزید نے کچھ دن بعد ان خواتین کو ایک صحابیٔ رسولؐ ،حضرت نعمان بن بشیرؓ کی نگرانی میں اُنہیں مدینہ منوّرہ روانہ کردیا۔ سانحۂ کربلا اور اہلِ بیتؓ کے قافلے کی آمد کی اطلاع بھی موصول ہوچُکی تھی، چناں چہ اہلِ مدینہ نے شہر سے باہر نکل کر قافلے کا استقبال کیا۔ نہایت پُرسوز منظر تھا ،ہر شخص اشک بار تھا۔ قافلے میں شامل خواتین غم سے نڈھال تھیں۔ دوسرے دن حضرت زینبؓ نے روضۂ مبارک پر حاضری دی اور درود و سلام کے بعد سانحے کی روداد پیش کی۔

وفات

مؤرخین لکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ مدینہ منوّرہ میں قیام کے بعد حضرت زینبؓ اپنے شوہر اور بچّوں کے ساتھ شام چلی گئیں۔ 63ہجری میں دمشق میں اُن کا انتقال ہوا۔ دمشق میں حضرت زینبؓ کا شان دار مقبرہ شامِ کربلا کا امین ہے، جب کہ یزید اور قاتلانِ کربلا عبرت کا نشان بن چُکے ہیں۔