• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آصف رضا موریو

سندھ کو جغرافیائی طور پر تین قدرتی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جو ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزرتے ہیں۔ پہلا حصہ اس کے مشرق میں واقع تھر کا علاقہ ہے، جسے ریگستان یا واریاسو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سارا علاقہ ریتیلا ہے جس کی خوشحال زندگی اور گہماگہمی کا بڑی حد تک انحصار موسمی بارشوں پر ہے ۔ نارا کینال کھولے جانے کے بعد اس علاقے کا کچھ نہری حصہ زراعت کے قابل ہوا ہے۔ ایک زمانے میں دریائے سندھ کی کئی اہم شاخیں جیسے ہاکڑو اور واھندہ وغیرہ یہاں سے گزرتی تھیں جن کے بہاؤ کے نشانات سانپ کی لکیر کی طرح آج بھی اس خشک علاقے میں دیکھے جا سکتے ہیں ، جبکہ ان میں سے پورن ندی ابھی تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے جو ضلع تھرپارکر کے مغربی حصے کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

دوسرا حصہ کشمور سے شروع ہوکر بحیرئہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے اور بغیر کھاد وغیرہ کے سال میں دو فصلیں اگانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تیسرا حصہ مغرب میں کوہستان کا پہاڑی علاقہ ہے جو بلوچستان کے شہروں قلات، خضدار اور لسبیلہ سے سندھ کو جدا کرتے ہوئے پاکستان کے ان دونوں صوبوں کے درمیان ایک قدرتی سرحدی لکیر کھینچ دیتا ہے ۔ اس حصے کی تعریف یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ کوٹری ، سیوہن اور لاڑکانہ کے مغرب کی طرف پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے ،جس کی شاخوں کے الگ الگ نام ہیں جیسے ککریو، کارو، ڈاڑھیاڑو وغیرہ ۔ 

ان میں سے ڈاڑھیاڑو سب سے اونچا پہاڑ ہے، جس کی بلندی چھ ہزار فٹ ہے ۔یہی پہاڑی سلسلہ کیر تھر کے نام سے پہچانا جاتا ہے جو کوہِ سلیمان کے جابلو سلسلے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے ،جسے مقامی لوگ ہالار جبل بھی کہتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلے کا رخ شمال سے جنوب کی طرف ہے جو پاکستان کو افغانستان سے جدا کرتا ہوا سندھ کی سرحد پر 28متوازی کو چھوتا ہوا 26 مماثل کے نزدیک پہاڑوں میں ضم ہوجاتا ہے جو بحیرئہ روم تک پھیلے ہوئے ہیں۔

کیرتھر نام کے متعلق دیومالائی کہانی

کیرتھر کے کوہستانی علاقے میں بہنے والے جھرنوں اور ندیوں کی مدھر آوازوں میں صدیوں کے سنگیت بسے ہوئے ہیں، جہاں بے شمار تاریخی و تہذیبی روایتیں ،صحرائی و پہاڑی ثقافتیں، قبائلی جنگوں اور جھگڑوں کی طویل تاریخی اور رزمیہ داستانیں پہاڑی درو ں اور تنگ منہ والے غاروں کی دیواروں سے لپٹی ہوئی ہیں۔ ان ہی میں ایک قصہ کیرتھر کے متعلق کچھ اس طرح ہے کہ، بہت پرانےوقتوں میں کبھی اس کوہستانی سلسلے میں رہنے بسنے والے لوگوں پر ایک خاندان حکومت کرتا تھا۔ اس خاندان کے دوبیٹے تھے جن کے نام کیرتھر اور کانبھو خان تھے۔ 

کیر تھر بڑا اور کانبھو چھوٹا تھا جبکہ بیرن (بارن) ان کی اکلوتی بہن تھی۔ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والے اس خاندان میں کیرتھر کے باپ کے مرنے کے بعد قبیلے کی سرداری اور جائداد کے بٹوارے کی لالچ پر دنگا فساد شروع ہوا جو بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ لڑائی کے دوران چھوٹے بھائی کانبھو نے تلوار کے ایک وار سے بڑے بھائی کیر تھر کا ایک بازو کاٹ دیاتھا، جہاں وہ بازو کٹ کر گرا تھاا س جگہ کا نام’’واڈھڑو ‘‘ہے جس کا سندھی زبان میں مطلب ہے ’’کٹا ہوا‘‘۔

کیرتھر نے بھی جواب میں بندوق کے فائر سے کانبھو کو زخمی کر دیا تھا۔ یہاں ایک پہاڑی میں سوراخ ہے جس کا نام تنگی واری (یعنی سوراخ والی) ہے جو بندوق کا (کانبھو کو)فائر لگنے سے ہوا تھا۔ جب لڑائی گھمسان کی صورت اختیار کرگئی اور کسی طرح ختم ہوتی دکھائی نہیں دی تو بھائیوں کے درمیاں مصالحانہ کردار ادا کرنے کے لئے ان کی بہن بیرن نے بیچ بچاؤ کیا اور جنگ ختم کرواکے صلح کروادی۔

اب کیر تھر اور کانبھو نامی ان پہاڑی سلسلوں کے درمیان بیرن ندی بہتی ہوئی تھانہ بولا خان کی طرف سفر کرتی ہے، جہاں سے مشرق کی طرف مڑ کر آخر میں کوٹری سے چار میل نیچے جاکر اپنا آپ دریائے سندھ کوسونپ دیتی ہے ۔ اس ندی کی کل لمبائی نوے میل ہے۔

کیرتھرکا علاقہ چونے کے پتھر، ریت اور میدانی علاقوں پر مشتمل ہے، جس کا پچاس فیصد حصہ تہہ نشین پاٹ دار ٹیلوں پرمشتمل ہے۔ تیس فیصد علاقہ میدانی ہے جس کا 1.3 فیصد حصہ (تقریباً 650 کلومیٹر) قابلِ زراعت ہے اور بیس فیصد دریائی کھاد یا سیلابی مٹی سے اٹا ہوا ہے۔ آب و ہوا کے لحاظ سے یہ پہاڑ گرمیوں میں انتہائی گرم اور سردیوں میں بے انتہا سرد ہوتے ہیں۔ 

ان کی اونچائی مختلف علاقوں میں الگ الگ ہیں، اس کی چار اونچائیاں اہم ہیں جن میں سب سے اونچی چوٹی سمندر سے 6878 فٹ بلند ہے۔ دوسری چوٹی بارغ ، تیسری گورغ (گورکھ) اور چوتھی سندھ کے مشہور پہاڑڈاڑھیاڑ و کی چو ٹی ہے جو تقریباً چھ ہزار فٹ بلند کیرتھر کی مشرقی شاخ ہے، جبکہ کیرتھر سلسلے کا سب سے اونچا برج میانگن ہے ۔

کیرتھر کے شمال میں دریاڑو کا مشہور سطحِ مرتفع واقع ہے ،جس کی اونچائی والے میدان قابلِ زراعت ہیں ۔ پہلا میدانی حصہ ڈھار (ڈھارو) ہے جو سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کی مٹی سرخی مائل اور تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین قابلِ زراعت ہے ۔ دوسرا حصہ ساڑھے چار ہزار فٹ بلند دانا برج کا میدانی علاقہ ہے۔ کیرتھر رینج میں ہزاروں پہاڑی درے ہیں، مگر ان میں اہم مولھ، بولان اور مشکوٹ ہیں جہاں سے برساتی نالے اور ندیاں بہتی ہیں ۔

کیر تھر پارک

سندھ کا واحد قومی پارک کیرتھر اسی پہاڑی سلسلے کے گیارہ سو بیانوے کلومیٹر (۷۳۳، 308 ہیکٹر) پر پھیلا ہوا ہے، جو پہاڑی سلسلے کے جنوب مشرق اور دریائے سندھ کے مغرب میں قائم سندھ اور بلوچستان کی صوبائی سرحد ہے ۔کراچی سے سپر ہائی وے پر81 کلومیٹر کی مسافت طےکرکے یہ پارک آتا ہے، جہاں مختلف جانوروں کو قدرتی ماحول میں محفوظ رکھنے کے لئے پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔

کیرتھر نیشنل پارک میں جنگلوں کی حالت نہایت خراب ہے ایک تو علاقے میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ جنگلات کو انتہائی بے رحمی سے کاٹ رہے ہیں دوسرا جنگل میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ پارک کے قدرتی ماحول کو فطری بنیادوں پر برقرار رکھنے میں یہ درخت اور پودے بڑے معاون ہوتے ہیں، ساتھ ہی یہ جانوروں کے لئے پناہ گاہ، رہائش ، چارہ، سائبان وغیرہ مہیا کرتے ہیں۔ماہرینِ نباتات کے مطابق پارک میں پودوں کی کچھ ایسی اقسام ہیں جو نہ صرف اس خطے بلکہ علمِ نباتات کے لئے بھی نئی ہیں۔ یہ خطہ قدرتی طور پرنباتاتی نسلوں کی افزائش کے لئے اہم نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔

پارک کی حدودکے اندر رہنے والی آبادی کے ایک بڑے حصے کا گزر بسر مویشی بانی ہے۔ پالتو جانوروں میں بھیڑوں اور بکریوں کی تعداد بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جو موسم کے ساتھ انسانی آبادی کی طرح گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔ یہ جانور زیادہ تر پہاڑوں کے اندر ، کھر رینج اور ڈمبر بلاک میں پائے جاتے ہیں۔ خوبصورت ہرن چنکارہ بھی یہاں پایا جاتاہے۔

حب ندی کیر تھر پہاڑی سلسلے کے ایک بازو پب پہاڑ سے جھالاوان کے گاؤں زہری کے پاس سے اُبھر کر جنوب مشرق کی طرف پچیس میل بہتی ہوئی پھر پچاس میل جنوب کی طرف سفر کرتی ہوئی بحیرہ عرب میں جا گرتی ہے۔ سارونا، سرسوتی اور واراحب ندی کی اہم شاخیں ہیں۔ یونانی مورخوں نے اپنے سفرناموں میں اس کا نام’’ آرابیس‘‘ لکھا ہے۔

کیر تھر کے آثار قدیمہ

کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں خاص طور پر نئن گاج (ندی) اور تونگ گاؤں کے چہارسو سیکڑوں میل تک قدیم تہذیبوں اور باشندوں کے ہزاروں اجڑے ہوئے شہر، گاؤں، محل، بستیاں اور قلعے انمول موتیوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں، مگر وہ سب اپنا وجود گنواتے جا رہے ہیں۔

یہاں کئی ہزار سال قبل بنے ہوئے چھوٹے بڑے ڈیموں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں، جن میں برساتی نالوں اور چشموں سے پانی جمع کرکے یہاں کے باشندے زراعت اور گھریلو استعمال میں لاتے تھے۔ ایچ ٹی لمبرک نے اس علاقے کے سروے کے دوران ان ڈیموں کے بارےمیں لکھا ہے کہ ’’انجنیئرنگ کے ان کمالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ان ڈیموں کو اتنی کاریگری اور مہارت سے کس نے تعمیر کیا ہوگا‘‘۔

کوہتراش

یہ علاقہ کرچاٹ سے دس کلومیٹر شمال کی جانب اس راستے پر واقع ہے جو تھانہ عارب سے تونگ کی طرف جاتا ہے یہ باران ندی کے شمال میں سطحِ زمین سے کچھ باہر نکلی ہوئی ایک ٹکری پر واقع ہے۔ آثارِ قدیمہ کے کھنڈروں سے بھری پڑی یہ ٹکری شمال طرف پچانوے فٹ اونچی ہے جبکہ اس کے جنوب میں اترائی ہے جو میدانی علاقے سے دس فٹ اوپر ختم ہو کر تونگ جانے والے راستے کے ساتھ مل جاتی ہے۔ اس کے جنوب میں چڑھائی پر ایک بڑی دیوار ہے جس کے بعد ایک شاہی کوٹ آجا تاہے جو تعمیراتی کاریگری کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ 

اس کوٹ کے جنوب مشرق میں ایک ڈیوڑھی اور چار تباہ شدہ برجوں کے نشانات موجود ہیں جن میں داخل ہونے والا اپنے آپ کو ایک بڑے کھنڈر میں پاتاہے۔ یہاں مختلف کمروں کے نشانات واضح نظر آتے ہیں جن کی تعمیر پتھروں کو کاٹ کر کی گئی ہے۔ اس ٹکری کے مغر ب میں کیرتھر پہاڑوں کی قطار ہے۔ یہاں سے تونگ کی طرف جانے والے راستے میں بڑی بڑی دیواریں بنی ہوئی ہیں جن میں سے ایک دیوار چار سو فٹ لمبی ،تیس سے پینتیس فٹ چوڑی اور بیس فٹ اونچی ہے، جو شاید بلوچستان سے آنے والے حملہ آوروں سے تحفظ کے لئے کھڑی کی گئی تھی۔

فنگ بستی کے آثار

یہ کوھتراش سے تین سو میٹر دور شمال مغرب میں واقع ہے، یہاں رہائشی گھروں کے آثار آنے جانے والوں کو دعوتِ تحقیق دیتے ہیں۔ یہاں سے ملنے والے ٹھکر کے سامان کو بنانے کا طریقہ یا ہنر کوھتراش اور کوٹ ڈیجی کے برتنوں جیسا ہے۔ برسات کے پانی کو جمع کرنے کے لئے پتھروں کو کاٹ کاٹ کر قبل از تاریخ میں بنائے ہوئے ڈیم بھی موجود ہیں جو اپنے کاریگروں کی بے مثال ہنرمندی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

پب پہاڑ کیرتھر سلسلے کا اہم حصہ ہے جو کوہیار(جھالاوان) سے شروع ہوکر’’ راس مونزے ‘‘تک ایک سو میل لمبا ہے، اس کی سب سے اونچی چوٹی کا نام ’’ فراس ‘‘ہے۔ اس پہاڑ پر مویشیوں کے چرنے کے لئے بڑی مقدار میں گھاس ہے۔ بہکنی، مور، اندھر، مورپب، جیتل، کرو اور لکی بھی اس سلسلے کی پہاڑیاں ہیں۔ پب پہاڑ زیادہ تر کم ہی اونچے ہیں، ان کی اونچائی سطحِ سمندر سے کہیں بھی دوسو فٹ سے زیادہ اونچی نہیں ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ کافی زرخیر اور سر سبز ہے ، اسی پہاڑ پر لس بیلہ والی سرحد پر شاہ بلاول کی زیارت گاہ ہے۔

لکھمیر کی ماڑی

یہ جگہ نئنگ ندی کے قریب ہے جس کی سطح پر بڑی بڑی تعمیرات کے ٹوٹے پھوٹے نشانات اب بھی موجود ہیں، جبکہ چاروں طرف پتھروں کے ڈھیر پڑےہیں۔ علاقائی باشندوں کا خیال ہے کہ قدیم زمانے میں یہ کھنڈرات یہاں کے سرداروں کے محلات ہوا کرتے تھے۔ ٹکری کے دامن میں ایک طرف پہریداروں اور نوکروں کے حجروں کے کھنڈر نما آثار بھی نظر آتے ہیں۔

لنڈی بٹھی

یہ جگہ بھی نئنگ ندی کے دائیں کنارے پر بڈو رینج کے نزدیک نئنگ گاؤں سے جنوب مشرق طرف دو کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ایک مخروطی ٹیلہ ہے جو ایک دوسرے کے اوپر تین دیواروں سے جڑا ہوا ہے ۔ اس کی چوٹی پربھی ایک محل کے واضح آثارہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی زمانے میں کوئی معبد ہو کیونکہ اس کی تعمیر کچھ اس قسم کی عمارت کی گواہی دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں ڈ ھالانی کا کوٹ جھانگارا ہے ، جوباران ندی کے کنارے واقع ہے ۔ 

وہاں سے ملنے والے برتنوں کی مشابہت آمری کے شروعاتی دور کے برتنوں سے ملتی جلتی ہے۔ ایک اور بستی روھیل کا کندھ کے آثاروں والی جگہ گاج ندی کے اندر ساڑے آٹھ کلومیٹر پر واقع ہے یہاں سے ملنے والے برتن بھی آمری تہذیب سے ملتے جلتے ہیں۔ تونگ والے علاقے میں جوکھیوں، برفتوں اور کلمیتوں کا ایک وسیع و عریض قبرستان موجود ہے، جہاں کئی منزلہ قبریں ہیں، جن کے پتھروں پر خوبصورت نقش و نگار اور سنگتراشی کے دل آویز نمونے کھدے ہوئے ہیں۔ 

ان کے بارے میں آثارِ قدیمہ کے ماہروں اور مورخوں کا کہناہے کہ یہ لوگ مردوں کو پتھروں کے چھوٹے قبر نما کمروں میں رکھ کر اوپر قبر بنا دیتے تھے۔ کیرتھر جابلو سلسلے کے شمال میں انیسویں صدی عیسوی میں دو تالپور بھائیوں کا تعمیر کروایا ہوا شاندار قلعہ رنی کوٹ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ تنا کھڑا ہے۔