تحریر:خواجہ محمد سلیمان۔۔۔۔ برمنگھم برہان مظفر وانی کو شہید ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں لیکن آج بھی کشمیر کا نوجوان برہان وانی کے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے کیونکہ برہان وانی نے اپنے وطن کو غاصب بھارت سے آزاد کروانے کے لئے اس کی قابض افواج کے خلاف ہتھیا ر اٹھائے تھے، اس کو بھارت دہشت گرد کہتا ہے، حالانکہ سب سے بڑا دہشت گرد بھارت خود ہے، جس نے طاقت کے بل بوتے پرکشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کی قابض بزدل افواج نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم ڈھا رہی ہے، اس سے بڑی دنیا میں اور کیا دہشت گردی ہو سکتی ہے لیکن منافقت کی کوئی حد نہیں، خود امریکہ نے دنیا میں اتنی دہشت گردی کی ہے اور آج تک کررہا ہے کہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی حال ہی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا، جس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں تھا لیکن امریکہ نے طاقت کے بل بوتے پر لاکھوں عراقیوں کا قتل عام کیا، کیا یہ دہشت گردی نہیں تواور کیا ہے ؟لیکن امریکہ طاقتور ملک ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے، یہی معاملات ہیں دنیا کے اور طاقت ور ملکوں کے بھی کہ وہ قانون شکنی کریں تو ان کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنا دہشت گردی نہیں ہے، اس کا انسان کو پورا حق ہے کہ وہ کوئی بھی طاقت استعمال کرکے اپنے آپ کو جبری غلامی سے آزاد کروائے، برہان وانی نے یہی کیا اس نے کشمیری نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر تم اپنے وطن کی آزادی چاہتے ہو تو بھارت کی قابض افواج کے خلاف لڑنا ہو گااور پھر اس نے لڑ کر اپنی جان اس راستے پر قربان کردی اب اس کانام تاریخ میں رقم ہوگیا وہ مر ا نہیں وہ کشمیری قوم کو حیات بخش گیا اور پیغام دے گیا کہ غلامی کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، کشمیریوں کے لئے یہ کوئی نہیں بات نہیں، اس سے پہلے مقبول بٹ شہید ،افضل گرو اور دوسرے کشمیری شہدا بھی یہی پیغام دے گئے، 1931 کے شہیدوں کابھی یہی پیغام تھا کہ اگر آزاد رہنا چاہتے ہو تو پھر میدان میں نکلو اور اپنے مقدر کا خود فیصلہ کرو، دوسروں کے سہارے جینے والے کبھی آزاد نہیں ہوتے، اس وقت تحریک آزادی کشمیر بڑے نازک موڑ سے گزر رہی ہے ،کشمیر کاز کو ہمیشہ اپنوں نے زیاد ہ نقصان پہنچایا ہے، اس وقت ایک مرتبہ پھر سازشیں ہو رہی ہیں، شہدائے کشمیرکی قربانیوں کو نظر انداز کرکے بھارت سے ڈیل کی بات ہورہی ہے یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں، کشمیریوں کی مرضی کے بغیرکسی بھی ڈیل سے ساؤتھ ایشیامیں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، اس طرح کشمیریوں کی اکثریت جو بھی فیصلہ کرتی ہے اسے تمام فریق قبول کریں، اس طرح پورا برصغیر امن و سلامتی کے ساتھ تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے،بھارت اور پاکستان جو اپنے بجٹ کابڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں ان کے سارے وسائل اپنے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو سکتے ہیں، ہندو اور مسلم انڈیا میں ہزار سال سے رہ رہے ہیں، ان کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہیں ہے، خطرہ صرف ان اقتدار کے بھوکے لیڈروں کو ہے جو دونوں کو لڑا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔