• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانی کا جھگڑا، بلوچستان نے سندھ کو حب ڈیم سے فراہمی روکنے کی دھمکی دیدی

اسلام آباد (اے پی پی) بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ سندھ کی جانب سے بلوچستان کے پانی پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا تو وہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی کی فراہمی روک دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے دو ماہ کے دوران بلوچستان کے پانی کے حوالے سے 42فیصد حق مارا گیا۔ منگل کو بلوچستان ہائوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے پچھلے تین سالوں میں بڑے بڑے پراجیکٹس شروع کیے ہیں ۔ 

بلوچستان کی تاریخ کا پہلا کینسر اسپتال ،میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر، نئے اسکولز کی تعمیر ، اسکولوں کی اپ گریڈیشن ، صوبے میں گڈ گورننس سمیت احتساب کو یقینی بنایا گیا ہے ،وفاق کی توجہ سے وہ بلوچستان جو ماضی میں نظر انداز ہوتا رہا وہ اب نظر انداز نہیں ہوگا اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا ۔ 

ایک جانب ماضی کی حکومتوں کے برعکس وفاق کی جانب سے بلوچستان کو آگے لے جانے پر فوکس کیا جارہا ہے دوسری جانب سے ایک مسئلہ جو بلوچستان کو درپیش ہے وہ وفاق سے نہیں سندھ حکومت سے ہے ، سندھ حکومت بلوچستان کی ذرخیز زمین کو بنجر کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ارسا کا پانی بلوچستان کو سندھ کے ذریعے ملتا ہے ، 1991میں ارسا معاہدہ ہوا ،گزشتہ بیس سال میں سندھ حکومت نے کبھی ہمارا حصہ پورا نہیں دیا ، اس وقت سندھ پنجاب سے 17فیصد پانی کی کمی کی شکایت کررہا ہے لیکن آگے بلوچستان کو سندھ حکومت 42فیصد شارٹ فال پر پانی فراہم کررہی ہے ۔ 

بلوچستان کا ارسا میں پانی کا شیئر 10ہزار 9سو کیوسک ہے ، لیکن بلوچستان کو اس وقت سندھ سے صرف 7ہزار کیوسک پانی مل رہا ہے ۔ جس میں 5سو کیوسک کچی کینال سے جبکہ 4ہزار 583کیوسک پٹ فیڈر سے مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان کے پانی کے حوالے سے 42فیصد حق مارا گیا ۔ 

ارسا معاہدہ کے تحت پانی کی کمی کے باوجود سندھ کے پی کے اور بلوچستان کو پوراپانی فراہم کرنے کا پابند ہے ۔ اس معاہدہ میں در ج ہے کہ کسی بھی شارٹ فال سے کے پی کے اور بلوچستان مستثنیٰ ہیں ۔ لیکن اس معاملے پر اس وقت سندھ حکومت انکاری ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان حکومت نے پانی کمی معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے شکایت کی تو انہوں نے واضح انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کو پورا پانی فراہم نہیں کریں گے ۔ پانی کی کمی سے بلوچستان کے کسانوں کو اس سال75سے 77ارب روپے کا مالی نقصان ہورہا ہے ۔ یہ نقصان سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی سے ہورہا ہے۔

تازہ ترین