• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اس نے پوری دنیا کو حیران کردیا ہے۔ ترقی کے اس سفر میں چین نے اپنے ملک کے طول و عرض میں تعمیراتی صنعت میں بھی انقلاب برپا کیا ہے۔ اس کے مختلف شہروں میں بلندوبالا اور منفرد ڈیزائن کی کئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کردیتی ہیں۔ کچھ ایسی ہی منفرد تعمیرات چین کے صوبے شانسی کے شہر باؤجی میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چین کے اس تاریخی شہر کو کانسی کا آبائی شہر کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی ثقافت، مقامی حالات، معاشرتی رواج اور ماحولیاتی ماحول کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں 2006ء میں ایک خوبصورت آثار قدیمہ کا میوزیم تعمیر کرنے کا آغاز کیا گیا۔ 

جس کا افتتا ح 2010ء میں ہوا۔ اس کا نام باؤجی برونزویئر میوزیم رکھا گیا، جو تخلیقی و تعمیراتی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ باؤجی برونز ویئر میوزیم کو تیانجن یونیورسٹی کے آرکیٹیکچرل ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بنایا ہے۔ اس کی تعمیر 34ہزار 100مربع میٹر رقبے پر کی گئی ہے جبکہ کُل رقبہ 50ہزار 800مربع میٹر ہے۔ شیگو ماؤنٹین کے دامن میں واقع باؤجی برونز ویئر میوزیم ایک قابل دید جگہ ہے ۔میوزیم میں ایک تاریخی احساس پیدا کرنے کے لیے اس کی تعمیر میں اس بات پر مکمل توجہ دی گئی ہے۔ عمارت دیکھنے میں انتہائی خوبصورت اور پُرکشش معلوم ہوتی ہے۔

میوزیم کا ڈیزائن ایک ہی طرح کا زمینی لینڈاسکیپ معلوم ہوتا ہے۔ میوزیم کے آس پاس کا ماحول بہترین ہے ، پہاڑ اور میوزیم میں بنایا گیا حوض خوبصورت احساس دیتے ہیں۔ عمارت کا ڈیزائن پہاڑی کے دامن سے شروع ہوتا ہے، جس میں متعدد سیڑھیوں کے ذریعہ تہہ در تہہ روایتی طرز تعمیر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈیزائنر نے زوہچن شاہی محل کے تعمیراتی ڈھانچے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسے ڈیزائن کیا ہے۔ عمارت کے چاروں اطراف اور عمودی و افقی طور پر دیکھنے سے میوزیم میں داخلے سے قبل ہی سیاحوں کو برونزویئر ثقافت کا احساس ہوجاتا ہے۔ 

صحن سے گزرتے ہوئے سیڑھیوں پر پہنچ کر لوگوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ مرکزی داخلی دروازے سے داخل ہوں۔ میوزیم کا داخلی راستہ شاہی محل کی طرز پر بنا ہوا ہے۔ یہ شاہی انداز کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ زوہچن کی ثقافت بھی پیش کرتا ہے۔ داخلی دروازہ تین زون سے گزرنے کے بعد آتا ہے، جو کہ آنے والے سیاحوں کو اوپر کی طرف میوزیم میں داخل ہونے کے لئے رہنمائی کرتا ہے۔ عام طور پر، شانسی کے علاقے میں تعمیراتی مواد کے طور پر لوس (Loess) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مٹیریل سے بنی دیوار میوزیم کی تعمیراتی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ میوزیم کی مرکزی دیواروں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ روایتی دیواروں سے قریب تر نظر آئیں۔

میوزیم میں کانسی کی ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لیے عمارت کو اسی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہاں ایک قدیم کانسی کا عکس اور نمائش ہال بھی ہے۔ ایلپس ہال کے باہر دیوار کی سطح پر پیتل کی چادر کا اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ گویا لگتا ہے جیسے کانسی کی اشیا ابھری ہوئی ہوں۔ داخلی دروازے کی دیوار کی سطحوں پر مشہور کانسی کی اشیا کو دکھایا گیا ہے۔ میوزیم کی مرکزی دیوار کی سطح پر بھی سجاوٹ کے نقطہ نظر سے کانسی کی رگوں کا پیٹرن بنایا گیا ہے۔ 

مرکزی داخلی دروازہ سیاحوں کو نصف زیر زمین نمائش کی جگہ سے متعارف کرواتا ہے، سیاح سیڑھیوں سے نیچے جاکر نمائشی ہال میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سے سیاح سیدھا چھت پر جاسکتے ہیں اور ’وی دریا‘ کے خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ عمارت کے درمیان میں چھت پر ایک بڑا سا گول تعمیراتی ڈھانچہ بنایا گیا ہے جو دور سے ہی عمارت کو نمایاں کرتا ہے جبکہ عمارت کے مختلف ہالز تہہ در تہہ نظر آتے ہیں۔

چین کے باؤجی میوزیم میں کانسی کی اشیا رکھی گئی ہیں۔ جب کسی سائٹ سے کانسی کا سامان تلاش کیا جاتا ہے تو لوگوں کو قدیم زمانے کی تہذیب دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ باؤجی برونزویئر میوزیم کانسی کی تھیم پر چین میں واحد میوزیم ہے جہاں قدیم چین کی کانسی کی اشیا کو جمع، محفوظ اور نمائش کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ان پر تحقیق بھی کی جاتی ہے۔ اس میں ثقافتی حوالے سے ایک لاکھ20ہزار سے زائد نادر اشیا رکھی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر چاؤ خاندان کا کانسی کا سامان ہے۔ 

ایگزیبیشن ہالز میں باؤجی کے کانسی کے سامان کی کثیر مقدار کی نمائش کی گئی ہے۔ کانسی کی یہ اشیا بڑی تعداد میں چاؤ خاندان کی ثقافت کا حصہ اور چن خاندان کی خوشحالی کا ذریعہ رہی ہیں۔ یہاں کانسی، جیڈ، مٹی کے برتنوں اور سونے کے نمونے کے 400سے زیادہ گروپ نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں ، جن میں سے بیشتر نایاب خزانے ہیں۔ 

میوزیم میں کانسی کی اشیا کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ میوزیم کی ایک اور خاص بات یہاں نمائش کے لیے رکھے گئے دس قدیم پتھر ہیں۔ دو فٹ اونچائی والے یہ پتھر کسی ڈھول کی طرح ہیں جیسے پتلی چوٹی اور موٹی چوٹی اور تھوڑا سا گول ٹاپ (دراصل کسی بلاک کی شکل میں)۔ گرینائٹ سے بنے دس پتھر کے ہر ڈھول کا وزن ایک ٹن ہے۔ ان پر ’شیگو وین‘ پر کندہ ہے۔