• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلڈنگ کوڈز اور لیڈز سرٹیفکیٹ کی اہمیت

جس طرح کوئی بھی چیز کسی اصول، قانون اور منصوبے کے تحت سرانجام دی جاتی ہے، بالکل اسی طرح تعمیراتی عمل بھی بلڈنگ کوڈز کو مدِنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے۔ بلڈنگ کوڈز کے تحت عمارتوں کی تعمیر اس لیے کی جاتی ہے تاکہ شہروں کی بےہنگم تعمیرات اور ان سے جڑے آلودگی کے مسائل کو کم کیا جاسکے اور گرین کنسٹرکشن کو فروغ دیا جاسکے۔ سیمنٹ اور سریے سے اٹھنے والے تیزابی بخارات،اس پر دھول مٹی انسان کو بیماری میں مبتلا کرسکتی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کی تنظیموں نے عمارت سازی کے لیے کوڈز وضع کیے ہیں، جو کوئی بھی عمارت معیار پر پورا اترتی ہے تو اسے رہنے کے قابل تسلیم کیا جاتا ہے۔

امریکا میں بلڈنگ کوڈز کوماڈل کوڈز بھی کہا جاتا ہے، جس میں اس بات کا خاص خیال رکھاجاتا ہے کہ عمارت یا پروجیکٹ میں مقیم لوگ قدرتی آفات، آتش زدگی، زلزلے، سیلاب اورعمارت کے گرنے سے محفوظ رہیں۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے عمارت سازی میں پائیدار مٹیریل کا جائزہ لیتے ہوئے یہ طے کرتی ہے کہ کس قسم کا مواد استعمال کرنا لازمی ہے، بصورتِ دیگر تعمیر غیر قانونی کہلائے گی۔ 

پاکستان میں بھی اسی طرح کے قوانین موجود ہیں لیکن گنتی کے اچھی ساکھ رکھنے والے بلڈرز کے علاوہ نجی طور پر ہونے والی تعمیرات میںاس بات کا دھیان نہیں رکھا جاتا اور صرف کم قیمت پر تعمیرات مکمل کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عمارتوں میں نکاسی کا خراب نظام نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ عمارتیں نمی کے باعث بوسیدہ ہوچکی ہیں اور ان کا پلستر اکھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بلڈنگ کوڈز میں الیکٹریکل وائرنگ، ڈرینیج سسٹم، پلمبنگ اور تمام ساز و سامان کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے کہ فٹنگ سائنسی اصولوں کے مطابق کی گئی ہو۔ اگر کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تو عمارت سازی کی منظوری نہیں ملتی بلکہ ایسی منظوری کے بغیر بنائی جانے والی عمارات غیر قانونی تعمیرات کے زمرے میں آتی ہے۔

ماحول دوست تعمیرات کرنے پر پوائنٹس کی بنیاد پر ملنے والی ریٹنگ کے ذریعے Leadership in Energy and Environmental Design(LEED) سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے، جس کے بعد کوئی یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ عمارت کی تعمیرمیں ماحول دوست اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔ غیر منافع بخش امریکی تنظیم، یو ایس گرین بلڈنگ کونسل (یو ایس جی بی سی ) کی طرف سے تیار کردہ اس سند میں ماحول دوست عمارات(Green Buildings)، گھروں اور اطراف کے مکانات کے ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور بحالی کی درجہ بندی کا نظام اور اصول مرتب کیے گئے ہیں، تاکہ مالکان اورکام کرنے ولوں کوماحولیاتی طور پر ذمہ داربننے اور وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملے۔

یہ سند صرف ان بلڈرز کو تفویض کی جاتی ہے، جویوایس گرین بلڈنگ کونسل کے ممبران ہیں۔ یو ایس جی بی سی کی گرین بزنس سرٹیفکیشن ان کارپوریٹ اداروں، افراد اور گروپ کو جاری کی جاتی ہیں۔ لیڈ ریٹنگ سسٹم میں لیڈ سے منظور شدہ پیشہ ور ماہر، لیڈ گرین ایسوسی ایٹس اور لیڈ پروفیشنلز کے لیے اعلیٰ سند پر مبنی لیڈ فیلوز کی توثیق بھی شامل ہے۔31نومبر2016ء کو ماحول دوست عمارتوں کی تعمیر کے لیے LEED v4 گرین بلڈنگ کوڈ لازمی قرار دیا گیا۔ ماحول دوست عمارتوں کے ڈیزائن میں کمرشل اور گھریلوعمارتوں کی نئی تعمیرات اور اہم آرائشِ نو آجاتے ہیں۔

ماحول دوست عمارات کے توثیقی مراحل

عالمی آلودگی و حرارت اور خشک سالی و قحط آب نے بڑھتی آبادی کے ساتھ زمینی وسائل اور ماحول کو آلودہ کردیا ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار، سمندری طوفانوں میں اضافہ، بارش کا عدم توازن،درختوں کےکٹاؤ کے باعث مٹتے جنگلات اور آلودگی کے باعث پھیلنے والی عجیب نوعیت کی بیماریوں کے باعث ماہرین ماحولیات و تعمیرات نے سنجیدگی سے ماحول دوست اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ماحول دوست عمارات کوچھ کریڈٹ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1- مستحکم و دیرپا تعمیراتی مقامات (Sustainable Sites)

2-پانی کی فعالیت و موجودگی (Water Efficiency)

3-توانائی و ماحول(Energy and Atmosphere)

4-مواد،آلات،ساز و سامان اور وسائل (Materials and Resources)

5-اندرونی ماحولیاتی معیار (Indoor Environmental Quality)

6-ڈیزائن میں انفرادیت و اختراع سازی(Innovation in Design)

عمارتوں کے معیار کو دیکھتے ہوئے چار مراحل میں پوائنٹس مقرر کیے گئے ہیں۔40سے49پوائنٹس حاصل کرنے والی عمارت کو سرٹیفائیڈ سرٹیفکیشن لیول عطا کیا جاتا ہے جبکہ50سے59 سلور،60 سے 79گولڈاور 80سے اُوپر پوائنٹس والی عمارت کو پلاٹینم شیلڈ اور ٹرافی دی جاتی ہے۔ اسے اقوامِ متحدہ کے تحفظ ماحولیات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

پاکستان میں ماحول دوست عمارت کے معیار پر پورا اُترنے والی تعمیرات کو توثیقی سرٹیفکیٹ پاکستان گرین بلڈنگ کونسل کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔ پی جی بی سی براہ راست ورلڈ گرین بلڈنگ کونسل کا حصہ ہے اور اس میں 98ممالک گرین بلڈنگ کونسل میں شامل ہیں۔ یہ عالمی سطح پر اس ذمہ داری اور کوششوں کا حصہ ہے کہ نئے ہزاریے میں دنیا کو سرسبز و شاداب بنایا جائے۔