• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے اور پائیدار اہداف کے حصول کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔ تاہم عوام اور سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اب بھی کسی کمپنی کے ’پائیدار‘ ہونے کو جانچنے کے لیے ’بین الاقوامی معیارات‘ موجود نہیں ہیں۔

اس کمی کو پورا کرنے کا ایک مؤثر اور آسان، قابلِ عمل طریقہ کار یہ ہے کہ کمپنیاں پہل کرتے ہوئے پائیداری (Sustainability)سے متعلق اپنی سرگرمیوں اور اقدامات کی باقاعدہ رپورٹنگ کا آغاز کریں، تاکہ پائیدار کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لینے والے اداروں اور افراد کو انتخاب میں آسانی ہو۔ اس سے کارپوریٹ شعبے میں مسابقت کا ماحول پیدا ہوگا، جس سے ناصرف ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے میں آسانی ہوگی بلکہ دیگر سماجی اور سیاسی مسائل بھی حل کیے جاسکیں گے۔

اس حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ، دو سال کے دوران پائیدار ترقی معیارات قائم کرنے سے متعلق پیشرفت ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل فائنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS)فاؤنڈیشن نے انٹرنیشنل سسٹین ایبلٹی اسٹینڈرڈز بورڈ (ISSB)کے قیام کی تجویز دی ہے، جس کا اعلان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کانفرنس COP26میں کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس رواں سال 31اکتوبر تا 12نومبر برطانیہ میں منعقد ہوگی۔ ایک حالیہ اعلامیہ میں G7وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنروں نے آئی ایس ایس بی کے لیے اپنی سپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے ماحولیات سے متعلق ’فائنانشل ڈسکلوژرز‘ کو لازمی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والے چند برسوں کے دوران کارروباری شعبہ میں کارپوریٹ اکاؤنٹنگ اور رپورٹنگ سے متعلق کچھ اہم ترین تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کمپنیاں ان تبدیلیوں کے لیے خود کو کس طرح تیار کرسکتی ہیں، اس سلسلے میں آکسفورڈ اینالیٹیکا اور EYنے اپنی تحقیق میں درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں:

سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کو لازمی قرار دیے جانے کا انتظار نہ کریں

نئے ضوابط اور سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کی تیاری کرنے کے لیے کمپنیوں کو ابھی زبردست موقع اور وقت دستیاب ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق احتساب اور شفافیت کے عزم کا اعادہ کریں۔ ذہن نشین کرنے والی بات یہ ہے کہ، آئی ایف آر ایس اور دیگر انضباطی کوششیں ’’کلائمیٹ فرسٹ‘‘ نقطہ نظر کی حامل ہوں گی، تاہم کمپنیوں کے لیے زیادہ بہتر اور مؤثر حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ ماحولیاتی (انوائرنمنٹل)، سماجی (سوشل) اور حکمرانی (گورننس) یعنی (ESG)میدان میں مجموعی حکمتِ عملی اختیار کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام اور دیگر شراکت داروں کو اپنی کمپنی کے مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ اور رِسک کو قابو میں رکھیںتاکہ وہ طویل مدت میں مضبوط تر اور زیادہ پائیدار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔

اس سلسلے میں کمپنیوں کو اپنے لیے ان معیارات کا تعین کرنا چاہیے، جو ان کے شعبہ، لائحہ عمل اور شراکت داروں سے قریب تر ہوں۔ ورلڈ اکنامک فورم انٹرنیشنل بزنس فورم کی طرف سے تیار کردہ ’’اسٹیک ہولڈرز کیپٹلزم میٹرکس‘‘ پر عمل درآمد ایک اچھا آغاز ہوسکتا ہے۔

SEGرپورٹنگ کو بورڈ کے ایجنڈے پر لائیں

کمپنیوں کی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے بورڈز کو سمجھنا ہوگا کہ SEGمیں سرمایہ کاری کس طرح نئے سرمایہ کے حصول کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ انھیں SEGکے میدان میں پرائیویٹ مارکیٹ اور انضباطی ماحول سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ بورڈز کو سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کے شعبہ میں بین الاقوامی پیشرفت پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ انھیں اندازہ ہوکہ ان کی کمپنیاں اس سلسلے میں کہاں کھڑی ہیں۔

سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ پر اعتماد پیدا کرنے کو ترجیحات میں رکھیں

کمپنیاں جیسے جیسے زیادہ ESGمعلومات کو عوام اور شراکت داروں پر عیاں اور رپورٹ کریں گی، انھیں اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ان سے زیادہ سوالات بھی پوچھے جائیں گے کہ اس سلسلے میں ان کے اعلانات کس قدر سنجیدہ اور قابلِ بھروسہ ہیں، رِسک ایکسپوژر اور لچک کی کیا صورتِ حال ہے اور کیا کمپنی اپنے ماحول دوست اقدامات کو بڑھا چڑھا کر تو نہیں بتارہی یا اس حوالے سے جھوٹ بول رہی ہے، وغیرہ۔

نئے انضباطی ماحول کے لیے تیاری کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کمپنیاں خود کو سسٹین ایبلٹی آڈٹ کے لیے تیار کریں۔ یورپین کمیشن کی تیار کردہ مجوزہ کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ ہدایات میں تجویز کیا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں اس سلسلے میں قانونی آڈیٹر یا ایسی یقین دہانی فراہم کرنے والے غیرجانبدار ادارے سے ’’محدود یقین دہانی‘‘ حاصل کرنے کی پابند ہوں گی۔

فائنانس ڈپارٹمنٹ کو آن بورڈ کریں 

ایک کمپنی اپنے شراکت داروں کو اسی صورت ویلیو فراہم کرسکتی ہے جب وہ اپنی لیڈرشپ کے تحت تمام ادارے کے ہنر اور محنت کو بروئے کار لائے۔ سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ میں فائنانس ڈپارٹمنٹ کا کردار بنیادی ہوگا۔ اس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے افراد کو سمجھنا ہوگا کہ لوگ اور سرمایہ کار سسٹین ایبلٹی سے متعلق کیا جاننا چاہتے ہیں اور پھر اس بات کو سمجھتے ہوئے اس سے متعلق اشاریوں کو کمپنی اعلامیوں اور ڈسکلوژرز میں شامل کریں۔

رپورٹنگ قابلِ بھروسہ اور شراکت داروں کے لیے دلچسپی کی حامل ہو اورمالیاتی اور غیرمالیاتی معلومات کے درمیان ایک واضح ربط موجود ہو۔ چیف فائنانشل آفیسرز اور فائنانشل کنٹرولرز اپنے علم اور تجربہ کو بروئے کار ہوتے ہوئے غیرمالیاتی رپورٹنگ کے لیے پراسیس اور کنٹرولز کا تعین کرسکتے ہیں۔ فائنانس ڈپارٹمنٹ، سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کی مؤثر گورننس تشکیل دے کر غیرمالیاتی معلومات کے لیے غیرجانبدار ادارے سے یقین دہانی حاصل کرسکتے ہیں۔

معیارات کا تعین کرنے کے عمل میں حصہ ڈالیں

دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ESGحکمتِ عملی کو اختیار کرتے ہوئے اپنے اور دیگر اداروں کے لیے طویل مدتی ویلیو پیدا کرسکتی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ جس طرح سے کمپنی کی معلومات کا اجراء کیا جائے گا، اس کا مستقبل میں کمپنی میں آنے والی سرمایہ کاری پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ کے معیارات بنائے جارہے ہیں، کمپنیاں سائیڈ لائن پر رہتے ہوئے صرف تماشائی کا کردار ادا نہیں کرسکتیں، بلکہ وہ چاہیں گی اس عمل میں وہ حصہ دار بنیں، اپنا کردار ادا کریں اور مجموعی طور پر اس عمل سے کچھ سیکھیں۔ وہ کمپنیاں جو حکومتوں کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کریں گی، ریگولیٹرز کے ساتھ سرجوڑ کر بیٹھیں گی اور سسٹین ایبلٹی کے اشاریوں کا تعین کریں گی، انھیں اس عمل سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور اپنے شعبے کی دیگر کمپنیوں سے دو قدم آگے رہیں گی۔ مثال کے طور پر، وہ کمپنیاں جنھوں نے ورلڈ اکنامک فورم انٹرنیشنل بزنس کونسل کے اسٹیک ہولڈر کیپٹلزم اشاریوں کے مطابق رپورٹنگ کرنے کی حامی بھری ہے، اس سے دنیا کو پیغام جارہا ہے کہ نجی شعبہ اعلیٰ ترین سطح پر اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

سب کو مل کر کرنا ہوگا

اب وقت آن پہنچا ہے کہ کمپنیاں اور ان کی لیڈرشپ، ریگولیٹرز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مستحکم عالمی معیارات کے حصول کے لیے کام کریں، جس سے آئندہ نسل کے لیے کارپوریٹ رپورٹنگ اور احتساب کے نئے معیارات کا تعین ہوگا۔ ہم جس سیارے پر رہتے ہیں، وہ اب مزید انتظار نہیں کرسکتا اور ناہی ہمیں مزید انتظار کرنا چاہیے۔

کامرس سے مزید