• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سالٹ پر عائد ٹیکسز واپس نہ لئے تو صنعت بند ہوجائے گی

پاکستان اس وقت سخت مالی مشکلات کا شکار ہے کسی بھی سیکٹر کو لے لیں اس سے وابستہ افراد شکوہ کرتے ہی دکھائی دیں گے ،پاکستان میں ایسا سٹریم لائن نظام موجود ہی نہیں جو ایک طرف صنعت کاروں کو راستہ دکھا سکے اس کے ساتھ ٹیکس نظام کو بھی اسی شرح سے وصولی کے قابل بنایا جا سکے افسوس ہماری آبادی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ اس حساب سے نہ ہماری صنعتوں نے ترقی کی اور نہ ہی ٹیکس بیس بڑھ سکی نتیجہ نکل رہا ہے کہ غربت کی شرح میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور ہماری نوجوان نسل کو روز گار میسر نہیں ہے۔

تعلیم کا فقدان اپنی جگہ ہے یہ ایسے مسائل ہیں جو گھمبیر سے گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ،ہم نے اس وقت مسائل کی نشاندھی اور انکی تجاویز کے لئے چئیرمین سالٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن اسماعیل ستار اور مرکزی رہنما جاوید احمد بھٹی سے بات چیت کی۔ جنہوں نے چند روز پہلے وفاقی وزیر رزاق دائود سے ملاقات کی۔ ایک طرف انھیں اپنی صنعت کے مسائل سے آگاہ کیا اور ساتھ ہی وزیر اعظم کے نام کھلا خط دیا جس میں چند بڑے مسائل کا ذکر کیا گیا کہ اگر وزیرا عظم ان مسائل کا حل نکال لیں تو روز گار بھی بڑھ سکتا ہے اور غربت بھی کم ہو سکتی ہے۔

سالٹ پر عائد ٹیکسز واپس نہ لئے تو صنعت بند ہوجائے گی
جاوید بھٹی

چئیرمین اسماعیل ستار اور جاوید احمد بھٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے وزیر تجارت رزاق دائود سے سالٹ پر لگائے گئے 17 فی صد سیلز ٹیکس پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور انھیں آگاہ کر دیا ہے کہ ایسی پالیسیوں سے یہ صنعت بھی تباہ ہو جائے گی اس سے ہزاروں افراد کا روز گار وابستہ ہے جسے نقصان پہنچے گا ،وفاقی وزیر تجارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سالٹ پر 17 فی صد سیلز ٹیکس عائد کرنے کے بارے میں حتمی رائے کا چند رووز تک بتادیں گے ایسا کوئی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس سے سالٹ صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ آئے ،وفاقی وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ و زیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ ایسی انڈسٹری جس سے روز گار اور سرمایہ کاری آئے اسے صنعت کا درجہ دیا جائے سالٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے اسے صنعت کا درجہ دینے کے مطالبے کو وزیر اعظم کے سامنےرکھا جائے گا امید ہے کہ اچھی خبر ملے گی۔

سالٹ پر عائد ٹیکسز واپس نہ لئے تو صنعت بند ہوجائے گی
اسماعیل ستار

چئیرمین اسما عیل ستار اور جاوید بھٹی کی طرف سے دی جانے والی تجاویز جو وزیر اعظم تک وفاقی وزیر نے پہنچانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ صنعت کا پہیہ تیز ترچلے اور ملک اپنے پاوں پر کھڑا ہو سکے ۔

ان تجاویز کے مطابق ترقی یافتہ ممالک نے انڈسٹری اور ایکسپورٹ کے ذریعہ ہی ترقی کی ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ برآمدی انڈسٹری کے لیے زمین کم قیمت پرطویل مدت اور آسان قسطوں میں دی جائے اور مشینری درآمد کرنے کے لئے ٹیکس کی شرح صفر ہو۔ فیکٹری انڈسٹریل زون میں ہو یا زون کے باہر بجلی اور گیس کے ریٹ تمام برآمدی انڈسٹریز کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ ایکسپورٹ پر ربیٹ بھی دیا جائے جس کی ادائیگی کمرشل بنکوںکے ذریعہ فوری ہو۔ جس طرح چین میں ہے۔ اس طرح ملک میں ڈالرز کے انبار لگ سکتے ہیں۔جو اشیاء ملک میں بن رہی ہیں ان کی درآمد پر پابندی لگائی جائے۔خام مال کی درآمدکو زیرو ریٹ ٹیکس کیا جائے تا کہ ایکسپورٹ کو ترقی دی جائے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔ زراعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ کسان کو سستا اور معیاری اور کھاد مہیا کیا جائے۔ بنک بغیر سود کے قرضہ فراہم کریں جس طرح بھارت میں ہورہا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی جائے۔ پاکستان منرل سے مالا مال ملک ہے لیکن ہم خام منرل کو کوڑیوں کے دام ایکسپورٹ کررہے ہیںاور پھر خریدنے والے ممالک ان منرل کو پراسیس کر کے کیمیکل کی شکل میں انتہائی مہنگے دام پر ہم کو فروخت کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان منرل کو پاکستان میں ہی پراسیس کیا جائے اور ان سے حاصل ہونے والے کیمیکل کو ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد ایکسپورٹ کر کے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکے۔

ملک میں جدید ریلوے کا جال بچھایا جائے اور ہر شہر میں کنیٹنر ٹرمینل بنائے جائیں تا کہ عوام کو سستی اور آرام دہ سواری میسر ہو اور کاروباری لوگوں کو مال کی نقل وحمل کیلئے سستی ٹرانسپورٹ مہیاہو۔

پن بجلی کے لئے منصوبے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے لگائے جائیں تا کہ سستی بجلی مہیا ہو سکے۔ ملک میں سولر انرجی کے کارخانے لگائے جائیں تا کہ عوام کوسستی بجلی مل سکے۔ گاڑیاں، ٹرک اور بسیں مکمل طور پر ملک میں تیار ہوں ۔ جس طرح بھارت اور چین کر رہا ہے تا کہ عوام کو سستی گاڑیاں میسر ہوں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اس وقت پاکستان غیرملکی گاڑیوں کی منڈی بنا ہواہے۔ ملک میں لوہے اور Stainless Steel کی چادر میں بنانے کے کارخانے لگائے جائیں جس سے ملکی ضروریات کے علاوہ ایکسپورٹ سے زرمبادلہ بھی کمایا جائے۔کاغذ کے کارخانوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی پروڈکشن کا کم از کم 25فیصد ایکسپورٹ بھی کریں۔

ملک میں عدل و انصاف کا عملی طور پرنفاذ کیا جائے تا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف مل سکے ۔ جس میں کمزور اور طاقتور میں کوئی فرق نہ ہو۔

conflict of Interest کے قانون کو عملاً نافذ کیا جائے۔ آئی ٹی کی ترقی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں ،جبکہ تمام مائینز کی نیلامی اوپن میرٹ پر دی جا ئے تا کہ کرپشن کا راستہ روکا جائے۔

کامرس سے مزید