• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

انگلینڈ کی ناتجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں بابر اعظم الیون کی پسپائی

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ابتدائی دو ون ڈے انٹر نیشنل کا جو نتیجہ آیا اس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔آج ایجبسٹن بر منگھم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم تیسرے ون ڈے انٹر نیشنل میں تین صفر کی ہزیمت سے بچنے کے لئے بقا ء کی جنگ لڑے گی۔ برمنگھم کے اس گراونڈ کے قریب واقع موزلے کے علاقے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا گھر ہے۔ جب وہ پاکستان کرکٹ سسٹم میں آئے تو جولائی 2019 میں میری وسیم خان سے پہلی ون ٹو ون ملاقات اسی ایجبسٹن گراونڈ کے سامنے واقع ایک کافی شاپ میں ہوئی تھی۔ ان کے پلان واقعی بہت اچھے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی انتظامی ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرنا چاہتے ہیں اور نئی ٹیم کے ساتھ پاکستان کرکٹ کی تقدیر بدل دیں گے۔

اب 2021کے اوائل میں جب پاکستان کرکٹ کو مڑ کر دیکھتے ہیں تو پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں وسیم خان نے کئی پرانے چہرے تبدیل کردیئے ہیں ۔مکی آرتھر سے سرفراز احمد تک پاکستانی ٹیم انتظامیہ کو تبدیل کردیا لیکن وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیم بنانے میں ناکام رہے۔مصباح الحق اور بابر اعظم کا فارمولا ابھی تک کامیاب دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اگست میں احسان مانی کے تین سال مکمل ہورہے ہیں اور انہیں مزید تین سال ملنے کی بازگشت ہے جبکہ فروری میں وسیم خان بھی اپنے معاہدے میں توسیع چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ ہمیں غیر معمولی دکھائی نہیں دے رہی ۔

انگلینڈ کی ناتجربہ کار ٹیم کے ہاتھوں بابر اعظم الیون کی پسپائی پر شائقین کرکٹ شدید ناراض ہیں ۔پی سی بی انتظامیہ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور ٹیم انتظامیہ بھی تنقید کی زد میں ہے۔گذشتہ ہفتے جب پاکستانی ٹیم ڈاربی سے کارڈف جانے کی تیاری کررہی تھی تو انگلش کیمپ سے یہ بری خبر آئی کہ انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اپنی پوری ٹیم تبدیل کردی ہے اور جس 18 رکنی تبدیل شدہ ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے اس کی قیادت آل راؤنڈر بین ا سٹوکس کو سونپی گئی جس میں نو کھلاڑی ایسے ہیں جنھوں نے اس سے قبل ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ انگلش ٹیم کے سات کھلاڑی اور آفیشلز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا اور کارڈف ون ڈے سے قبل اس خبر نے عالمی میڈیا میں شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی۔

ون ڈے سیریز کے آغاز سے صرف دو روز پہلے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں یہ سوال سامنے آرہا تھاکہ تجربہ کار کھلاڑیوں کے بغیر میدان میں اترنے والی انگلینڈ کی ٹیم کیا اپنے تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی پوری کرسکے گی اور انگلینڈ کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے نہ ہونے کا پاکستانی ٹیم کو فائدہ حاصل ہوگا؟ پاکستانی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے کہا تھاکہ انگلینڈ کی ٹیم تبدیل ہونے سے پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ جو ٹیم آئسولیشن میں چلی گئی ہے وہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ 

اب جس ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے اس میں نو کھلاڑیوں کے پاس ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ نہیں ہے۔لیکن انگلینڈ نے پاکستانی سورماوں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی نہ بولر چلے اور نہ بیٹنگ لائن رنگ جما سکی۔حسن علی نے دوسرے ون ڈے میں پانچ وکٹ حاصل کئے۔بیٹنگ میں خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم،محمد رضوان، فخر زمان،امام الحق،صہیب مقصود ناکام رہے۔ سیریز میں اب تک واحد نصف سنچری سعود شکیل نے بنائی ۔2019کے ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ نے پاکستان کو ون ڈے سیریز میں چار صفر سے شکست دی تھی۔ناتجربہ کار انگلش ٹیم کے خلاف 47سال میں پہلی بار انگلش سرزمین پر ون ڈے سیریز جیتنے کا پاکستانی کرکٹ ٹیم کا خواب بیٹنگ لائن کی ایک اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

لارڈز میں دوسرے ون ڈے انٹر نیشنل میں انگلینڈ نے پاکستان کو52رنز سے شکست دے کر سیریز دو صفر سے جیت لی۔انگلینڈ نے ہوم گراونڈ پر پاکستان کے خلاف مسلسل دسویں ون ڈے سیریز جیتی ہے۔248رنز کے ہدف کےتعاقب میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح ناکام ہوگئی اور41اوورز میں195 رنز پر آوٹ ہوگئی۔دوسرا میچ کھیلنے والے نوجوان سعود شکیل نے سب سے زیادہ 56رنز77گیندوں پربنائے۔

کپتان بابر اعظم 19محمد رضوان پانچ،فخر زمان دس اور امام الحق ایک رن بناکر آوٹ ہوئے۔53رنز پرچار وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی ٹیم میچ میں واپس نہ آسکی۔ حسن علی نے تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے31 شاداب خان نے21 اور صہیب مقصود نے دو چھکوں کی مدد سے19رنز بنائے۔

لوئیس گریگوری نےبیٹنگ کے بعد بولنگ میں بھی تین وکٹ حاصل کئےفاسٹ بولر حسن علی لارڈز میں51رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کئے اور انگلش ٹیم 247رنز بناکر آوٹ ہوگئی۔ایک موقع پر انگلینڈ کے سات وکٹ160رنز پر گر گئے تھے، خراب بولنگ اور بابر اعظم کے غلط فیصلوں کی وجہ سے انگلینڈ دبائوسے نکل گیا۔ اس سے قبل نگلینڈ کی کمزور اور ناتجربہ کار ٹیم دیکھ کر پاکستانی کھلاڑی اس حد تک خود اعتمادی کا شکار ہوئے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی پھر مضبوط بولنگ لائن اپ بھی متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام ثابت ہوئی۔

انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف حیران کن انداز میں پہلا ون ڈے انٹر نیشنل میچ جیت کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔ تین دن سے جاری افرا تفری کے بعد انگلینڈ کی بی ٹیم نے پاکستان کو ہوم گراونڈ پر سب سے بڑی شکست سے دوچار کردیا۔ بین اسٹوکس جو ابتدائی ٹیم کا حصہ نہ تھے ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم چاروں شانے چت ہوگئی۔میزبان ٹیم نے142رنز کا ہدف169 گیندیں پہلے ایک وکٹ پر پورا کرلیا۔ کارڈف میں ڈیوڈ ملا نے 69 گیندوں پر68ناٹ آوٹ رنز 8چوکوں کی مدد سے بنائے۔

زیک کرالی نے50گیندوں پر58رنز 7چوکوں کی مدد سے بنائے۔جبکہ ثاقب محمود نے چار وکٹیں لے کر پاکستانی بیٹنگ کو تباہ کردیا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے انگلینڈ نے گیارہ نئے کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا اور پانچ کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا لیکن پاکستانی بیٹنگ لائن نئی انگلش ٹیم کے خلاف بری طرح ناکام ہوئی ،پاکستان اور انگلینڈ سیریز آئی سی سی مینز ورلڈکپ سپر لیگ کا حصہ ہے، جو کہ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2023 کا کوالیفائنگ راؤنڈ تصور کیا جارہاہے۔ ورلڈکپ سپر لیگ میں ہر میچ جیتنے والی ٹیم کو دس پوائنٹس ملیں گے۔ میچ برابر یا بے نتیجہ ختم ہونےکی صورت پر دونوں ٹیموں میں پانچ پانچ پوائنٹس تقسیم کردئیے جائیں گے۔

یہ بارہواں موقع ہے پاکستان کرکٹ ٹیم میزبان ٹیم کے خلاف ان کی سرزمین پر کوئی ون ڈے نیشنل سیریز کھیل رہی ہے۔ انگلینڈنے 11 میں سے 10سیریز جیتیں جبکہ ایک ڈرا رہی۔ پاکستان نے انگلش سرزمین پر اپنی واحد سیریز 1974 میں جیتی تھی۔تاہم گزشتہ سال دور ہ انگلینڈ میں شامل ٹی ٹونٹی سیریز 1-1 سے برابر کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم2016سے مسلسل چھٹے سال انگلینڈ کا دورہ انہی کھلاڑیوں کے ساتھ کررہی ہے۔ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2019 کی فاتح انگلینڈ اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2017 کی چیمپئن پاکستان کی ٹیم رہی تھی۔

شائقین کرکٹ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر انگلش ٹیم میں کپتان اوئن مورگن ،جیسن روئے، جو روٹ، معین علی، سام کرن، ٹام کرن، کرس ووکس ، جانی بیرسٹو ٹام بینٹن ہوتے تو پھر پاکستان ٹیم کی کارکردگی شایداس سے بھی زیادہ خراب ہوتی۔ پہلا میچ ہارنے کے بعد بابر اعظم نے کہا تھاکہ اس شکست کو میں بڑا دھچکا نہیں سمجھ رہا، مجھے اپنے کھلاڑیوں پر پورا بھروسہ ہے، کھلاڑیوں کو یہی کہوں گا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ سیریز میں واپس آئیں گے۔ جیسی امید کررہے تھے ویسا پرفارم نہیں کرسکے۔ شائقین کرکٹ واقعی گھبراہٹ کا شکار نہیں، لیکن یہ تاثر دے کر بابر اعظم کی پریشانی سمجھ میں آرہی ہے۔ بلا شبہ سبھی توقع رکھتے ہیں کہ ایشین ٹیموں کے لیے سیمنگ کنڈیشنز چیلنج ہوتی ہیں۔ 

مگر یہ امید بھی تو رہتی ہے کہ کوئی تو ڈٹ کے مقابلہ کرے گا۔ کوئی تو ہوگا جو بے خوف کرکٹ کھیلے گا مگر بے نیازی سے نہیں، ذمہ داری سے۔جس اذیت میں پاکستانی بیٹنگ مبتلا دکھائی دی، یہ صرف پاکستانی شائقین ہی نہیں، کسی بھی کرکٹ شائق کے لئے تکلیف دہ تھی۔ کھلاڑیوں کی بے بسی شرمندگی کا باعث تھی۔پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کی کمزور ٹیم سے ون ڈے سیریز میں آوٹ کلاس ہوگئی۔ برمنگھم میں تیسرے میچ کے بعد ٹی ٹوئینٹی سیریز کھیلی جائے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں نصف درجن افسران انگلینڈ سے آئے ہیں ان کی قابلیت پر بھی شک نہیں ہے لیکن برطانیہ کے لوگ کیا پاکستان کرکٹ کے سسٹم کو تبدیل کرسکیں گے اور ایسا نظام دے کر جائیں گے جس طرح کا کامیاب نظام انگلینڈ کے پاس ہے۔

دو سال پہلے ڈومیسٹک سسٹم ضرور تبدیل ہوا ہے لیکن اس کے ثمرات اور نتائج کی جھلک ابھی تک پاکستان کرکٹ ٹیم میں نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ شکست پاکستانی ڈریسنگ روم کو آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔ مزید برآں اس رسوائی کے طفیل یہ بھی واضح ہو گیا کہ اگر بابر اعظم اور محمد رضوان کچھ دیر کریز پر نہ رکیں تو یہ بیٹنگ لائن کتنے پانی میں کھڑی ہے۔ اگر یہ سیریز پاکستان اس ٹیم سے ہارا ہوتا جو انگلینڈ کی 'اصل ٹیم ہے تو دل کو ذرا تسکین ملتا کہ ہم بہترین سے ہارے ہیں۔ مگر یہ شکست تو اس ٹیم کے ہاتھوں ہوئی ہے جو چار دن پہلے تک ٹیم ہی نہیں تھی۔یہی پاکستان کرکٹ کا خاصا ہے کہ ہم بڑی سے بڑی ٹیم کو ہرادیتے ہیں اور کمزور ٹیموں سے ہار کر ہیڈ لائن بنانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید